تونے اپنا ایک روپیہ بھی اس گھر میں خرچ کیا تو،تو میرے لیے حرام ہوجائے گی
    تاریخ: 13 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 10
    حوالہ: 396

    سوال

    میرے شوہر نے مجھے دو دفعہ طلاق دی تھی اور پھر رجوع بھی کرلیا تھا۔اب ایک دن انہوں نے غصے میں آکر مجھے یہ کہا کہ تو نے اپنا ایک روپیہ بھی (expenses کھانا پینا وغیرہ)اس گھر میں خرچ کیا تو تو میرے لئے حرام ہوجائے گی۔ اب ہم بہت پریشان ہیں کہ (1) کیا میں اپنا پیسہ صدقہ، خیرات کرسکتی ہوں؟(2)کیا میں اپنے پیسے سے زکوۃ دے سکتی ہوں؟ قربانی بھی؟(3)کیا میں اپنے ذاتی پیسے سے حج،عمرہ کرسکتی ہوں؟(4)انہوں نے گھر میں خرچ کرنے سے منع کیا ہے گھر سے باہر خرچ کرسکتی ہوں؟(5)میرا ایک چودہ سال کا بیٹا (لے پالک) ہے۔کیا میں اپنا تمام پیسہ اور زیور وغیرہ اس کےنام کردوں اور پھر اس کی اجازت سے خرچ کروں؟ اب اس بات کے بعد شوہر مجھے کچھ پیسے دیتے ہیں کہ آپ یہ گھر میں خرچ کرو تو میں اس میں سے خرچ کرتی ہوں۔بچوں کو کسی نے پھوپھی،خالہ وغیرہ پیسے دیتے ہیں تو وہ میں خرچ کرلیتی ہوں جو میری ملکیت ہیں وہ خرچ نہیں کرتی۔پلیز رہنمائی فرمائیں بہت سنگین مسئلہ ہوگیا ہے ۔تمام گھر کے اخراجات تو شوہر کرتے ہیں میں بس تھوڑا بہت ہی کرتی تھی۔امی کے گھر جانےمیں کرایہ وغیرہ لگالیتی تھی یا شاپنگ کرلیتی تھی ۔اب ایسا نہ ہو کہ اللہ نہ کرے گناہ ہوجائے۔میں نے اسی گھر میں رہتے ہوئے اپنے ذاتی پیسوں سے صدقہ خیرات کیا ہے تقریبا 500،600 روپے ہونگے، وہ غلط تو نہیں ہے۔

    نوٹ: فون پر سائل کی زوجہ سے لی گئی معلومات کے مطابق پھوپھی و خالہ نے بچوں کو کبھی 500 تو کبھی 600 روپے دیے ،اور بیوی نے شوہر کی قسم کے بعد ان پیسوں میں سے 2000 روپے گھر میں خرچ کئے ۔نیز شوہر کے بیانیہ کے مطابق گھر میں خرچ سے مرادبیوی کے اپنے پیسوں سے گھریلو expenses اور کھانا پینا وغیرہ مراد تھے۔

    سائل: ابرار احمد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں تیسری طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا آئندہ جب بھی بیوی نے اپنا مال گھریلو اخراجات میں خرچ کیاتو وہ حرمت مغلظہ کے ساتھ اپنے شوہر پر حرام ہو جائے گی اور بغیر تحلیل شرعی کے بیوی حلال نہ ہوگی۔لیکن جب بیوی گھریلو اخراجات میں کچھ خرچ کرنا چاہیں تو اتنا مال اپنے بیٹے یا کسی معتمد شخص کی ملک کردے پھر اسکی اجازت سے خرچ کرلے تو اس صورت میں شرط اثر نہیں کرے گی۔نیز شوہر کی اس قسم کےبعد بیوی کا اپنے ذاتی پیسوں سے صدقہ خیرات کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔مزید یہ کہ بیوی صدقہ و خیرات،زکوۃ وقربانی ،اپنے ذاتی پیسے سے حج وعمرہ اور گھر سے باہر (جن کا تعلق گھر سے نہ ہو)خرچ بھی کرسکتی ہے۔

    اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ سابقہ دو طلاقوں (جس کا اقرار خود شوہر نے ہمارے سامنے بھی کیا)کے بعد اب شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہے۔صورت مسؤولہ طلاقِ معلق کی ہے یعنی شوہر نے تیسری طلاق کو شرط کے سا تھ معلق کیا ہے۔ فقہائے کرام علیہم الرضوان کے اجماعی ضابطہ کے مطابق جب طلاق کسی شرط پر معلق کی جائے تو اس شرط کے پائے جانے کی صورت میں فورا طلاق واقع ہوجاتی ہے۔نیز شوہر کا لفظِ حرام کا قول کرنا طلاق صریح ہے لہذا طلاق کی شرط پائی جانے کے بعد بغیر نیت کے طلاقِ بائن واقع ہوگی کیونکہ ہمارے فقہاء احناف نے یہ اصول وضع کیا ہے کہ عوام الناس کے عرف کی بناء پر جب کوئی لفظ طلاق کے لیے صریح قرار پائے گا تو اس سے واقع ہونے والی طلاق رجعی ہوگی نہ کہ بائنہ لیکن اگر عرف وعادت میں اس لفظ سے فوری حرمت مراد لی جاتی ہوتواس صورت میں صریح ہونے کے باوجود طلاق بائن ہوگی اور درپیش مسئلہ میں شوہر کا قول’’مجھ پر حرام ہوجائے گی‘‘ایسا صریح ہے جس میں طلاق کی شرط پائی جانے کے بعد طلاق بائن واقع ہوگی کہ یہاں فوری حرمت مراد ہوتی ہے۔شوہر (درپیش مسئلہ میں حالف یعنی قسم اٹھانے والا)کے بیانیہ کے مطابق گھر میں خرچ سے مرادبیوی کے اپنے پیسوں سے گھریلو expenses اور کھانا پینا وغیرہ مراد تھے اور بیوی کا شوہر کی قسم کے بعد بچوں کے ان پیسوں میں سے 2000 روپے گھر میں خرچ کرنا اپنے مال سے نہیں تھا کیونکہ شوہر کی قسم ’’ تو نے اپنا ایک روپیہ بھی اس گھر میں خرچ کیا ‘‘ سے مستفاد یہ ہے کہ خرچ میں بیوی کا اپنا روپیہ ہو یعنی اسکی ملکیت ہواور ان روپیوں میں بیوی کی ملکیت نہیں پائی گئی(جو کہ طلاق کی شرط تھی) اس لئے کہ جو پیسے بچوں کو بطور تحفہ دیے جاتے ہیں وہ ان کے اپنے مِلک ہوتے ہیں۔لہذا جب شرط نہیں پائی گئی تو اسکی جزاء یعنی طلاق بھی واقع نہ ہوئی ۔

    دلائل و جزئیات:

    تعلیق کی تعریف بیان کرتے ہوئے علامہ علاؤالدین حصکفی فرماتے ہیں : "ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة اخری".ترجمہ: ایک جملہ کے مضمون کے حصول کا تعلق دوسرے جملہ کے مضمون کے حصول کے ساتھ ہونا ۔ (در مختار ،ج:4 ،ص:578 )

    ہدایہ میں ہے: "وَإِذَا أَضَافَهُ إلَى شَرْطٍ وَقَعَ عَقِيبَ الشَّرْطِ وَهَذَا بِالِاتِّفَاقِ". ملتقطاً. ترجمہ:’’ اگر طلاق کی اضافت شرط کی طرف کی ہو تو شرط کے پائے جانے کے بعد طلاق واقع ہوجائے گی۔یہ متفق علیہ ضابطہ ہے‘‘۔ (ہدايہ مع فتح القدیر ،باب الایمان فی الطلاق،ج:4،ص:116،دار الفکربیروت )

    امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’جب طلاق کسی شرط پر مشروط کی جائے تو اس شرط کے واقع ہوجانے سے واقع ہوجائے گی‘‘۔ (فتاوی رضویہ ،ج:13،ص:101)

    صریح کی تعریف کرتے ہوئے علامہ علاؤالدین حصکفی تنویر الابصار میں فرماتے ہیں : "صریحہ مالم یستعمل الا فیہ ".ترجمہ:صریح وہ الفاظ جو طلاق دینے کے لئے استعمال ہوں ۔

    اس کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "فمالا یستعمل فیھا الا فی الطلاق فھو صریح یقع بلا نیۃ". ترجمہ: جس لفظ کا غالب استعمال طلاق میں ہو تا ہو تو وہ صریح ہے اور اس سے بغیر نیت طلاق کے بھی طلاق ہو جاتی ہے ۔(درمختار مع رد المحتار ،ج:4،ص:457،مکتبہ امدادیہ ملتان)

    لفظِ حرام کے قول کرنے پر طلاق بائنہ واقع ہوتی ہے چنانچہ ردالمحتار میں ہے: "افتی المتاخرون فی علی حرام بانہ طلاق بائن للعرف بلا نیۃ".ترجمہ:’’ متاخرین نے کہا ’’تو مجھ پر حرام ہے ‘‘کہنے میں طلاق بائنہ ہو گی ،عرف کی وجہ سے نیت کے بغیر بھی واقع ہو گی ‘‘۔ (ردالمحتار ،کتاب الطلاق:،ج:4ص451،مکتبہ رحمانیہ)

    علامہ شامی علیہ الرحمہ نے لفظِ حرام سے طلاق بائن واقع ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : " ثُمَّ ظَهَرَ لِي بَعْدَ مُدَّةٍ مَا عَسَى يَصْلُحُ جَوَابًا، وَهُوَ أَنَّ لَفْظَ حَرَامٍ مَعْنَاهُ عَدَمُ حِلِّ الْوَطْءِ وَدَوَاعِيهِ... لَكِنَّ الرَّجْعِيَّ لَا يُحَرِّمُ الْوَطْءَ فَتَعَيَّنَ الْبَائِنُ... وَالْحَاصِلُ أَنَّهُ لَمَّا تُعُورِفَ بِهِ الطَّلَاقُ صَارَ مَعْنَاهُ تَحْرِيمَ الزَّوْجَةِ، وَتَحْرِيمُهَا لَا يَكُونُ إلَّا بِالْبَائِنِ، هَذَا غَايَةُ مَا ظَهَرَ لِي فِي هَذَا الْمَقَامِ". ترجمہ: پھر کچھ مدت کے بعد مجھ پر یہ بات ظاہر ہوئی جو اس سوال کاجواب بننے کی صلاحیت رکھتی ہے کہ لفظِ حرام کامعنیٰ ہے وطی اور اس کے دواعی کا حرام ہونا۔۔۔ لیکن طلاقِ رجعی وطی کو حرام نہیں کرتی پس ان الفاظ سے طلاق بائن متعین ہوگئی۔۔۔(پھرفرماتے ہیں)حاصل ِکلام: یہ ہے کہ جب لفظِ حرام سے طلاق کے واقع ہونے پرعرف ہوچکاہے تواس کامعنی بیوی کوحرام کرناہوا، اورشوہرپر بیوی کاحرام ہوناطلاق بائن ہی سے ہوگا۔ یہ وہ ہے جو اس مسئلہ میں مجھ پر ظاہر ہوا۔(ردالمحتار، ج:4، ص:531، مکتبہامدادیہ ملتان)

    جدالممتارعلی ردالمحتار میں امام اہلسنت امام احمدرضا خاں علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: " مَعْلُوْمٌ أَنَّ الْمُتَكَلِّمَ بِهَذَا يُرِيْدُ قَطْعاً وَصِلَةَ النِّكَاْحِ وَتَحْرِيْمَ الزَّوْجَةِ عَلَيْهِ بِهِ وَهَذَا هُوَ مَعْنَى الْبَاْئِنِ وَإِنْ لَمْ يَعْرِفُوْهُ". ترجمہ: یہ بات معلوم ہے کہ لفظِ حرام بولنے والا نکاح کے ملاپ کو قطع کرنااور زوجہ کو اپنے اوپر حرام کرناچاہتا ہے،اور یہی تو بائنہ کامعنیٰ ہے اگرچہ لوگ بائنہ طلاق نہ جانتے ہوں۔(جدالممتار علی ردالمحتار باب الکنایات، ج:5، ص:125، دار اہل السنہ ، کراچی)

    مزید تحریر فرماتے ہیں: " وَالْحَاْصِلُ أَنَّ اللَّفْظَ إِذَا كَاْنَ مُتَعَيِّناً فِيْ إِفَاْدَةِ مَعْنَى الْبَيْنُوْنَةِ بِنَفْسِ مُؤَدَّاْهُ عِنْدَ إِرَاْدَةِ الطَّلَاْقِ فَهُوَ إِذَا تُعُوْرِفَ فِيْ الطَّلَاْقِ لَمْ يَحْتَجْ إِلَى النِّيَّةِ وَكَاْنَ الْمُرَاْدُ بِهِ الْبَاْئِنُ إِذْ هُوَ الْمَعْنَى الْمُؤَدَّى بِهِ فَتَعَاْرُفُ الطَّلَاْقِ بِهِ تَعَاْرُفُ الْبَاْئِنِ وَبِخِلَاْفِ مَاْ لَاْ يَدُلُّ عَلَى الْبَيْنُوْنَةِ بِنَفْسِ مُؤَدَّى لَفْظِهُ وَإِنْ وَقَعَ بِهِ الْبَاْئِنُ عِنْدَ النِّيَّةِ أَوِ الدَّلَاْلَةِ لِأَجَلِ كَوْنِهِ كَنَاْيَةً فَهُوَ إِذَا تُعُوْرِفَ بِهِ الطَّلَاْقُ لَاْ يَقَعُ بِهِ إِلَّا الرَّجْعِيُّ لِأَنَّ الْبَيْنُوْنَةَ لَمْ تَكُنْ مُؤَدَّى نَفْسِهُ بَلْ لِأَجَلِ كَوْنِهِ كِنَاْيَةً وَقَدْ زَاْلَ بِتَعَاْرُفِ الطَّلَاْقِ بِهِ فَهَذَا هُوَ الْقَوْلُ الْفَصْلُ وَلِلّهِ الْحَمْدُ". ترجمہ :حاصل کلام یہ ہے کہ طلاق کے ارادے کے وقت کسی لفظ کی محض ادائیگی کرناہی بینونت کا معنی دینے کے لیے متعین ہو، تو جب وہ طلاق میں متعارف ہو جائے تو نیت کی محتاجی نہ رہے گی اور اس سے بائنہ ِطلاق ہی مراد ہوگی، کیونکہ اس لفظ سے یہی معنی اداکئے جاتے ہیں، تو اس لفظ سے طلاق کا عرف ہونابائنہ طلاق کا عرف ہو نا ہے، برخلاف اس لفظ کے جس کی محض ادائیگی بینونت پر دلالت نہیں کرتی اگرچہ کنایہ ہونے کی وجہ سے نیت یا دلالتِ حال کے وقت اس سے طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے،تو جب اس سے طلاق دینے کاعرف ہوجائیگا تو اس سے طلاقِ رجعی ہی واقع ہوگی کیونکہ بینونت ہونا محض اس لفظ کو ادا کرنے کے سبب نہیں تھابلکہ اس کے کنایہ ہونے کی وجہ سے تھا،اور اس لفظ کے طلاق کے لیے معروف ہونے کے سبب کنایہ ہونا زائل ہو گیا۔ یہی قولِ فیصل ہے۔اور اللہ ہی کے لیے حمدہے۔(جدالممتار علی ردالمحتار، باب الکنایات، 5/130، ادارہ اہل السنۃ ، کراچی)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:25جمادی الآخر 1444 ھ/18 جنوری 2023ء