اعضاء عطیہ کرنا کیسا
    تاریخ: 12 نومبر، 2025
    مشاہدات: 12
    حوالہ: 91

    سوال

    اعضاء عطیہ کرنا مثلا گردہ ، جگر وغیرہ جائز ہے یا نہیں ؟ نیز اعضاء عطیہ کرنے کی وصیت کا کیا حکم ہے؟تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:ولی محمد : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سائنس کی حیرت انگیز ترقی کے باعث آئے دن نت نئے طریقہ علاج دریافت کئے جا رہے ہیں اعضاء کی پیوند کاری بھی سائنس کے ان کارناموں میں سے ایک ہے جس کے ذریعے کوئی بھی شخص اپنا کوئی عضو کسی کو دے سکتا ہے مثلا کسی کے گردے فیل ہوجائیں تو آج کے طریقہ علاج کے تحت کسی صحت مند آدمی کا گردہ اس متاثرہ شخص کو لگادیا جاتا ہے جسکی وجہ سے وہ انسان بھی عام لوگوں کی طرح زندگی گزارنے کے لائق ہوجاتا ہے ۔

    اس مسئلہ میں صراحتا کوئی نص موجود نہیں کیونکہ یہ نو پیش آمدہ مسئلہ ہے البتہ فقہاء ِکرام غور و خوض کے بعد مختلف صورتیں بیان فرمائی ہیں ، جنکی تفصیل و احکام درج ذیل ہے:

    1: مصنوعی اعضاء کے ذریعے علاج کروانا یعنی مصنوعی اعضاء لگواکر کسی بھی عضو کی کمی پورا کرنا جیساکہ کسی شخص کا پاؤں یا ہاتھ کٹ جائے تو وہ پلاسٹک وغیرہ کا عضو بنواکر لگوالیتا ہے اور اس پر موزے یا دستانے پہنے رکھتا ہےتاکہ بدنمایا ناقص الاعضاء نہ لگے۔ اس طرح کے اعضاء لگوانا بلاشبہ جائز ہے اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں ہے۔

    چناچہ ابو داؤد میں ہے: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ قُطِعَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ، فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ۔ترجمہ: عبدالرحمٰن بن طرفہ نے بیان کیا کہ معرکہ ِکلاب میں میرے دادا عرفجہ بن اسعد کی ناک کٹ گئی تھی ۔ تو انہوں نے چاندی کی بنوائی مگر اس میں بو پڑ گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے سونے کی ناک بنوا لی۔(ابو داؤد ، حدیث نمبر 4232)

    علامہ ملا علی قاری اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:وَبِهِ أَبَاحَ الْعُلَمَاءُ اتِّخَاذَ الْأَنْفِ ذَهَبًا، وَكَذَا رَبْطُهُ الْأَسْنَانِ بِالذَّهَبِ ترجمہ:اس حدیث سے استدلال کرکے علماء نے سونے کی ناک لگوانے یونہی دانتوں میں سونے کی تار سے بندھوانے کو جائز قرار دیا ہے۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 7 ص 2805 ، بیروت)

    لہذا معلوم ہوا کہ مصنوعی اعضاء لگوانا جائز ہے۔

    2: جانور کے اعضاء لگوانا:یونی اگر کوئی عضو تلف ہوگیااور کسی جانور کا عضو مل جائے جو اس تلف شدہ عضو کی جگہ لگ سکے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

    جیساکہ رد المحتار میں ہے:وفي مفسدات الصلاة من خزانة الفتاوى: كسر عظمه فوصل بعظم الكلب ولا ينزع إلا بضرر جازت الصلاة ۔ ترجمہ:خزانہ الفتاوٰی کے باب مفسدات الصلوۃ میں ہے کہ اگر کسی شخص کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس نے کتے کی ہڈی لگالی اب وہ ہڈی بغیر ضرر کے نہیں نکالی جا سکتی تواس ہڈی کے ساتھ نماز جائز ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار، باب الانجاس،ج 1 ص 330)

    اگر کسی کا دانت گر جائے تو وہ کیا کرے اس بارے میں بدائع میں یوں ہے: يأخذ سن شاة ذكية فيشدها مكانها۔ ترجمہ:بکری کا دانت لے اور اسکی جگہ لگالے۔(بدائع الصنائع، کتاب الاستحسان، ج 5 ص 330)

    معلوم ہوا کہ جانور کے اعضاء لگوانا جائز ہے۔

    3: انسانی اعضاء لگوانا: اس میں عطیہ والی صورت آئے گی خود اسکی تین صورتیں ہیں۔

    1: اپنے ہی اعضاء لگوائے: یعنی ایک عضو کا کچھ حصہ دوسرے عضو میں لگوائے مثلا چہرے کی کھال جل گئی اور کسی دوسرے عضو کی کھال مثلا ران کی کھال لے کر چہرے پر لگائی تو یہ بھی جائز ہے۔

    بدائع میں ہی ہے: أن استعمال جزء منفصل عن غيره من بني آدم إهانة بذلك الغيرا لآدمي بجميع أجزائه مكرم ولا إهانة في استعمال جزء نفسه۔ ترجمہ:بنی آدم کے کسی جزء کو علیحدہ کرکے دوسرے آدمی کے لئے استعمال کرنا اسکی اہانت ہے جبکہ آدمی اپنے تمام تر اعضاء کے ساتھ مکرم ہے البتہ اسکے اپنے اعضاء (ایک کو دوسرے کی جگہ )استعمال کرنے میں اہانت نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع، بیان رکن البیع، ج5 ص 133)

    یوں ہی الاشباہ میں ہے:الْجُزْءُ الْمُنْفَصِلُ مِنْ الْحَيِّ كَمَيْتَتِهِ كَالْأُذُنِ الْمَقْطُوعَةِ وَالسِّنُّ السَّاقِطُ إلَّا فِي حَقِّ صَاحِبِهِ فَطَاهِرٌ ۔ترجمہ: زندہ انسان کا وہ عضو جو جدا ہوجائے مردار کی طرح (نجس)ہےجیساکہ کٹا ہوا کان یا ٹوٹا ہوا دانت۔ مگر یہ (اعضاءِ منفصلہ) جس کے ہیں اس شخص کے حق میں پاک ہیں ۔(الاشباہ والنظائر لابن نجیم، ج1 ص 138)

    2: مردہ انسان کے اعضاء زندہ کو لگانا: اگر کوئی شخص وصیت کرکے فوت ہوا کہ اسکے اعضاء کسی زندہ انسان کو لگائے جائیں اور طبیب کا ظنِ غالب ہو کہ اس مردہ کے اعضاء سے زندہ کوفائدہ پہنچے گا تو ایسی صورت میں مردہ کے اعضاء یا کوئی عضو یا عضو کا کوئی حصہ زندہ کو لگاناجائز ہے ۔ کیونکہ فقہاءِ کرام نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ اگر حاملہ عورت مر جائے اور اسکے حمل کے بارے میں ظن غالب ہو کہ حمل زندہ ہے تو اس عورت کا پیٹ چاک کرنا جائز ہے اسی پر قیاس کرتے ہوئے ہم مردہ کے اعضاء زندہ میں لگانے کو جائز کہہ سکتے ہیں۔

    البحر الرائق میں ہے:امرأة حامل ماتت فاضطرب الولد في بطنها فإن كان أكبر رأيه أنه حي يشق بطنها ۔ترجمہ:حاملہ عورت مرگئی ، اسکے پیٹ میں موجود بچے نے حرکت کی سو اگر غالب گمان ہے کہ حمل زندہ ہے تو اسکا پیٹ چاک کیا جائے گا۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، باب خصی البھائم ، ج 8 ص 233)

    پھر مذکورہ شخص چونکہ وصیت کر گیا ہے لہذا اس صورت میں اسکی تکریم کو ترک کرکے نفسِ محترمہ کے احیاء کو ترجیح دی جائے گی۔ جیساکہ اسی میں کچھ آگے ہے:لأن ذلك تسبب في إحياء نفس محترمة بترك تعظيم الميت فالإحياء أولى ۔ترجمہ:کیونکہ اس صورت میں میت کی تعظیم کو ترک نفسِ محترمہ کی احیاء کا سبب ہے ، لہذا احیاء (تکریم و تعظیم سے)اولٰی ہے۔(ایضا ) یاد رہے کہ اگر میت نے وصیت نہ کی ہو تو اس صورت میں اسکے اعضاء زندہ انسان کو لگانا ہرگز جائز نہیں ہے ، کہ اس صورت میں مردے کی حرمت زندہ کی طرح قائم و باقی ہے۔چناچہ ابن ماجہ میں ہے :عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا ۔ترجمہ:عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میت کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے زندگی میں اسکی ہڈی توڑنا۔(ابن ماجہ: حدیث نبر 16161)

    3: زندہ کے اعضاء زندہ کو لگانا: اگر کوئی زندہ شخص اپنے اعضاء کا عطیہ کرے کہ میرا فلاں عضو فلاں شخص کو لگادیا جائے توایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ اگرکوئی عضو عطیہ کرنے میں معطی کو ضررِ شدید لاحق ہوتو اسکا عطیہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ خود کو ہلاکت پر پیش کرنا ہے ۔قال اللہ تعالٰی : وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ.ترجمہ کنز الایمان: اوراپنی جانیں قتل نہ کرو۔ (النساء : 29)

    وقال ایضا: وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ۔ ترجمہ کنز الایمان: اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔(البقرہ: 195)

    اس صورت میں وہ ایسے اعضاء عطیہ نہیں کرسکتا جن پر زندگی کا دار ومدار ہے جیساکہ دل وغیرہ ۔ بہر حال وہ اعضاء جن کو عطیہ کرنے کی صورت میں ضرر لاحق نہ ہو جیساکہ خون تو ایسے اعضاءکا عطیہ جائز ہے۔ قال اللہ تعالٰی :وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۔ ترجمہ کنز الایمان: اور جس نے ایک جان کو جِلا لیااس نے گویا سب لوگوں کو جِلالیا ۔(المائدہ: 32)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12 ربیع الثانی 1443 ھ/18 نومبر 2021 ء