سوال
الحمدللہ ۔۔۔! تقریبا دو سال بعد سعودی حکومت کی جانب سے پاکستان کے لئے عمرہ کھول دیا گیا ہے۔ عرصہ دراز سے عمرہ کی سعادت محروم رہنے کی وجہ سے لوگوں میں شدید قسم کا جوش و جذبہ پایا جاتا ہے۔ لیکن سعودی حکومت کی جانب سے عمرہ کے لئے بعض شرائط رکھی گئی ہیں ، شرعی اعتبار سے ان شرائط کا کیا حکم ہے ،ان شرائط کی وجہ سے بعض افعال ممنوعہ کا ارتکاب لازم آرہا ہے مثلا دورانِ طواف ماسک لگانا، اور ہاتھوں کا سینی ٹائز کرنا ۔یوں ہی ایک شرط یہ ہے کہ یہاں سے جانے والے تمام بعض معتمرین کو پانچ دن قرنطینہ کرنا ہوگا جوکہ جدہ یا مکہ شریف میں کہیں ہوگا۔ کیا اس دوران معتمرین حضرات مسلسل پانچ روز احرام میں رہیں گے یا کوئی شرعی گنجائش ہے تاکہ لوگوں کے لئے آسانی ہو۔ اللہ آپکو جزائے خیر عطا فرمائے۔
سائل:عبدالمنان : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
دورانِ احرام ماسک لگانے کا حکم: محرم کے لئے حالتِ احرام میں کپڑے وغیرہ سے منہ چھپانا جائز نہیں، اور ماسک میں چونکہ منہ کا ایک چوتھائی سے حصہ سے زائد چھپ جاتا ہے اس لئےدورانِ احرام ماسک پہننا محذورِ شرعی ہے، لہذا اگر حکومتِ سعودیہ کی جانب سے دورانِ احرام ماسک پہننا لازم قرار دیا گیا ہے، تو یہ جبر کی صورت ہے جس کا حکم یہ ہے کہ حاجی ومعتمر پر جبراً ماسک پہننے کی صورت میں ایک دم لازم ہوگا، جبکہ ماسک پہننے کا دورانیہ کم از کم 12 گھنٹے ہو، وگرنہ یعنی اگر 12 گھنٹے سے کم ہو یا ایک گھنٹے سے زائد ہو یا ایک گھنٹہ ہو تو صدقہ، اور اگر ایک گھنٹہ سے کم ہو تو کچھ صدقہ(ایک مٹھی گندم یا اسکی قیمت ) دینا ہوگا۔ اور چونکہ یہ جرم، جرمِ غیر اختیاری اور عذر کی بناپر ہے اس لئے حاجی و معتمر کویہ اختیار حاصل ہوگا کہ کفارہ میں دم کی صورت میں چاہے تو چھ صدقہ فطر دے یاچھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائےیا پھر تین دن کے روزے رکھے ۔اور صدقہ کی صورت میں چاہے تو ایک صدقہ فطر کی مقدار دے یا ایک مسکین کو کھانا کھلائے یا یہ کہ ایک روزہ رکھے۔ نیزاس صورت میں حاجی ومعتمر پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ دورانِ احرام سینی ٹائزر کے استعمال کا حکم: دورانِ احرام سینی ٹائزر کا استعمال بلاشبہ جائز ہے اور اسکے استعمال سے کسی طرح کا کوئی صدقہ یا کفارہ لازم نہیں آئے گا۔(کما سیجی التفصیل ) حالتِ احرام میں قرنطینہ کا حکم : پاکستان سے جانے والے حجاج و معتمرین عموماً جدہ کی فلائٹس لیتے ہیں، اور جدہ جاتے وقت ہوائی جہاز میقات سے گزر کر جاتا ہے، اور حکمِ شرع یہ ہے کہ ہر وہ آفاقی شخص جو مکہ یا حدودِ حرم میں دخول کا ارادہ کرے، اسکے لئے میقات میں بلااحرام داخل ہونا منع ہے اگر ہوا تو دم لازم ہوگا، کما ھو المعھود۔ البتہ اگر فلائٹس مدینۃ المنورہ جائے تو اس وقت احرام باندھنا لازم نہیں ہے کیونکہ مدینۃ المنورہ حدودِ میقات سے باہر ہے تواس صورت میں بلا احرام جانے سے بھی کچھ لازم نہ ہوگا۔ تو اگر کسی حاجی ومعتمر کی فلائٹس پاکستان سے جدہ کی ہے تواسے قرنطینہ کے پانچ ایام میں احرام کی پابندیاں ملحوظِ خاطر رکھناہوں گی جوکہ بظاہر ایک مشکل امر ہے۔ اسکے حل کی صورت یہ ہے کہ : یہ شخص حرمِ پاک میں دخول کی نیت نہ کرے بلکہ ابتداءً ہی مسجد عائشہ یا کوئی اور مقام جو حدودِ حرم اور میقات کے مابین ہوجیسے جدہ وغیرہ جانے کی نیت کرلے ۔ اس طرح میقات میں احرام کے ساتھ داخل ہونے کا پابند نہ ہوگا تو اسکی پابندیوں سے بھی بری ہوجائے گا۔ پھر جب قرنطینہ کے ایام گزر جائیں اور یہاں سے مکہ معظمہ جانے کے لئے عازمِ سفر ہو تو اس وقت حدودِ حرم سے قبل احرام باندھے ،عمرہ کی نیت کرے اور افعالِ عمرہ اخلاص و دل لگی سے اد کرے۔ یاد رہے کہ پاکستان سے جاتے حدودِ حرم اور میقات کے مابین کسی مقامِ حِل جانے کی بصراحت نیت کرنا، دل میں عمرہ کاارادہ ہونے کے منافی نہیں ہے کیونکہ دل کا ارادہ نیت پر دلالت ہے اورزبان سے یہ الفاظ ادا کرنا کہ میں نے دخولِ مکہ کی نیت نہیں کی، بلکہ حدودِ حرم اور میقات کے مابین کوئی مقام مثلا مسجد عائشہ ، یا جدہ وغیرہ کی نیت کی ہے ۔ نیت کی صراحت ہے اور قاعدہ ہے کہ الصریح یفوق الدلالۃ۔ ترجمہ: صراحت، دلالت پر فوق ہے ۔ لہذا یہاں اعتبار صراحت کا ہے نہ کہ دلالت کا۔ دورانِ احرام ماسک لگانے کے حکم پر جزئیات و دلائل: محرِم (خواہ مرد ہو یا عورت )کے لئے حالتِ احرام میں چہرہ ڈھانپنا منع ہے ، لہذا اگر کسی نے حالتِ احرام میں مکمل چہرہ یا چہرے کا چوتھائی حصہ ڈھانپ لیا تو ممنوعِ احرام کا ارتکاب کرنے کے سبب اس پر جزاء لازم ہے خواہ چہرہ عذر کے سبب ڈھانپاہو یا بلاعذر، عمداً ہو یا سہواً، بہر صورت جزاء لازم ہے ۔ پھر جزاء کے لزوم میں تفصیل ہے کہ اگر پورا دن (دن سے مراد بیاضِ نہار ہے یعنی 12 گھنٹے ) یا پوری رات چہرہ چھپائے رکھا تو دم لازم ہوگا۔ اور دن یا رات یعنی 12 گھنٹوں سے کم ہو تو صدقہ لازم ہوگا ۔ جیساکہ مسبوطِ سرخسی میں شمس الائمہ امام سرخسی لکھتے ہیں:وارتكاب ما هو محرم بسبب الإحرام موجب للجزاء عمدا كان أو خطأ.ترجمہ: جو چیز احرام کے سبب حرام ہے اسکا ارتکاب موجبِ جزاء ہے خواہ عمداً ہو یا سہواً۔ (المبسوط للسرخسی جلد 4 ص 96)
مسبوطِ شیبانی میں ہے: إِن غطى وَجهه يَوْمًا فَعَلَيهِ دم۔ ترجمہ:اگر اس نے ایک دن اپنا چہرہ چھپائے رکھا تو اس پر دم لازم ہے۔(المبسوط للشیبانی، جلد 4 ص 127 )
یوں ہی مناسک ملاعلی قار ی ، میں ہے :(ولوغطی جمیع راسہ او وجھہ بمخیط ،او غیرہ یوماولیلۃ )وکذا مقدار احدھما( فعلیہ دم )کامل بلاخلاف (وفی الاقل من یوم) وکذا من لیلۃ (صدقۃ ، والربع منھما کالکل) ۔ترجمہ:اوراگر اس نےسلے ہوئے کپڑےیا اس کے علاوہ کسی اور چیز سے اپنا پوراسر یا پورا چہرہ ایک دن اور ایک رات یا ان میں سے کسی ایک کی مقدار تک چھپایا تو اس پر کامل دم ہےاس میں کوئی اختلاف نہیں اور ایک دن ، رات سے کم میں صدقہ ہے ۔اور انکا چوتھا حصہ کاکل کی طرح ہے۔(مناسک ملاعلی قار ی ، باب الجنایات ، فصل فی تغطیۃ الراس والوجہ ص 307 ، ملخصا)
حالتِ احرام میں عورت کو ایسا برقع پہننا منع ہے جس سے اسکا چہرہ چھپ جائے جیساکہ شمس الائمہ سرخسی فرماتے ہیں: ويكره أن تلبس البرقع؛ لأن ذلك يماس وجهها فإن لبس المحرم ما لا يحل له من الثياب أو الخفاف يوما أو أكثر من ذلك لضرورة فعليه أي الكفارات، وقد بينا فيما سبق أن ما يجب الدم بلبسه في غير موضع الضرورة إذا لبسه لأجل الضرورة يتخير فيه بين الكفارات ما شاء. ترجمہ:حالتِ احرام میں عورت کو برقع منع ہے کیونکہ وہ چہرے کو چھوتا ہے پس اگر محرم نے ایسے کپڑے یا موزے جو کہ حالتِ احرام میں منع ہیں ۔ضرورتاً ایک دن یا ایک دن سے زائد پہنے تو اس پر کئی کفارے ہونگےجو چاہے ادا کرے۔ اور ہم نے ماقبل میں بیان کیا کہ جن چیزوں کو بلاعذر پہننے کے سبب دم واجب ہوگا جب ان چیزوں کو عذر کے سبب پہنا جائے تو اسکو کفارات میں سے جو چاہے دینے کا اختیار ہوگا۔
(ایضا) آگے فرماتے ہیں:فللربع فيه حكم الكمال كالحلق.ترجمہ: اس میں ربع کا معاملہ کل کی مثل ہے جیساکہ حلق کا معاملہ۔
(ایضا) بدائع میں ہے:فأما إذا لبسه لعذر وضرورة فعليه أي: الكفارات شاء الصيام، أو الصدقة، أو الدم.والأصل فيه قوله تعالى في كفارة الحلق من مرض أو أذى في الرأس {فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك} وروينا عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «قال لكعب بن عجرة: أيؤذيك هوام رأسك؟ قال: نعم فقال: احلق واذبح شاة، أو صم ثلاثة أيام، أو أطعم ستة مساكين، لكل مسكين نصف صاع من بر» والنص وإن ورد بالتخيير في الحلق، لكنه معلول بالتيسير والتسهيل للضرورة والعذر، وقد وجد ههنا، والنص الوارد هناك يكون واردا ههنا دلالة. ترجمہ:جب محرم نے بغیر عذر و ضرورت کے کچھ پہنا تو اس پر کفارات ہیں یعنی چاہے تو روزے رکھے یا صدقہ دے یا دم دے۔ اس میں اصل حلق کے بارے میں اللہ تعالٰی کا فرمان ہے ، : پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے تو بدلے دے روزے یا خیرات یا قربانی۔ اور ہم نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا کہ آپ نے کعب بن عجرہ سے فرمایا : کیا تمھارے سر کی مخلوق (جوئیں )تمھا رے لیے با عث اذیت ہیں؟کہا: میں نے جواب دیا جی ہاں، آپ نے فر ما یا :" تو اپنا سر منڈوادو (یا فدیے کے طور پر ) بکری ذبح کرویا تین دن کے روزے رکھو ،یا چھ مسکینوں کو کھا نا کھلا ؤ ہر مسکین کے لئے نصف صاع گندم ۔ نص اگر چہ حلق والے مسئلہ میں تخییر کے سلسلے میں وارد ہوئی ہے مگر علت ضرورت و عذر کی بنا پرتسہیل و تیسیر ہے، اور وہ علت یہاں موجود ہے۔ اور جو نص وہاں صراحتاً وارد ہے یہاں دلالتاًوارد ہے۔ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ،جلد 5 ص 118)
مبسوط سرخسی میں ہے: وإن غطى المحرم ربع رأسه أو وجهه يوما فعليه دم، وإن كان دون ذلك فعليه صدقة۔ ترجمہ:اگر محرم نے ایک دن تک اپنا چوتھائی سر یا چہرہ چھپائے رکھا تواس پر دم ہے اور اس سے کم ہو تو اس پر صدقہ ہے۔(المبسوط للسرخسی جلد 4 ص 128)
محقق علی الاطلاق علامہ ابن ھمام ایک دن سے کم والی صورت کایہی حکم بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:(قوله: وإن كان أقل من ذلك فعليه صدقة)و في خزانة الأكمل: في ساعة نصف صاع. وفي أقل من ساعة قبضة من بر۔ ترجمہ: اور دن سے کم میں صدقہ ہے ، اور خزانۃ الاکمل میں ہے کہ ایک گھنٹے والے صورت میں نصف صاع ہے اور ایک گھنٹے سے کم میں ایک مٹھی گندم ہے ۔ (فتح القدیر ، باب الجنایات ، جلد 3 ص 29)
علامہ شامی اس مسئلہ سے متعلق فرماتے ہیں : (قوله وفي الأقل صدقة) أي نصف صاع من بر، وشمل الأقل الساعة الواحدة أي الفلكية وما دونها خلافا لما في خزانة الأكمل أنه في ساعة نصف صاع وفي أقل من ساعة قبضة من بر. بحر، ومشي في اللباب على ما في الخزانة، وأقره شارحه، واعترض بمخالفته لما ذكره الفقهاء۔ ترجمہ: اور دن سے کم میں صدقہ ہے یعنی نصف صاع گندم ہے، اور لفظِ اقل ایک گھنٹے اور اس سے کم کو بھی شامل ہے۔ برخلاف اس کے جو خزانۃ الاکمل میں ہے کہ ایک گھنٹے والے صورت میں نصف صاع ہے اور ایک گھنٹے سے کم میں ایک مٹھی گندم ہے ۔ بحر ۔ اور لباب میں مصنف اسی پر چلے جو خزانہ میں ہے اور اسکے شارح نے اسی کو برقرار رکھا ہے اور فقہاء نے اس کے مخالف جو بات ذکر کی ہے اس پر انہوں نے اعتراض کیا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار ، جلد 2 ص 547)
سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں: مرد سارا سر یا چہارم یا مرد خواہ عورت منہ کی ٹکلی ساری یا چہارم چار پہر یازیادہ لگاتار چھپائیں تو دم ہے اور چہارم سے کم چار پہرتک یا زیادہ لگا تا ر چھپائیں تو دم ہے اور چہارم سے کم چار پہر تک یا چار سے کم اگر چہ سارا سریا منہ توصدقہ ہے اور چہارم سے کم کو چار پہر سے کم تک چھپائیں تو گناہ ہے کفارہ نہیں۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الحج، جلد 10 ص 179 رضا فاؤنڈیشن لاہور۔) پھر صدقہ کی صورت میں بھی معتمر کو اختیار ہے کہ صدقہ دے یا ایک روزہ رکھے، جیساکہ اسی میں ہے: وان وجب الصدقۃ علی التخییر ان شاء تصدق بما وجب عليه من نصف صاع أو أقل على مسكين أو صام يوما كما في اللباب۔ ترجمہ:اگر صدقہ علی التخییر لازم ہوا ہو تو وہاں معتمر چاہے تو نصف صاع کے ذریعے صدقہ دے یا ایک مسکین کو (دو وقت) کھانا کھلائے یا ایک دن کا روزہ رکھے۔جیساکہ لباب میں ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار ، جلد 2 ص 558)
دورانِ احرام سینی ٹائزر کے استعمال کے حکم پر جزئیات و دلائل: محرم کے لئے حالتِ احرام میں خوشبو کا استعمال منع ہے ، جیساکہ شمس الائمہ ،سرخسی المبسوط میں فرماتے ہیں :واعلم ان المحرم ممنوع من استعمال الدھن والطیب لقولہ ﷺ :’’الحج الشعث التفل، وقال: یأتون شعثا غبرا من کل فج عمیق‘‘ واستعمال الدھن والطیب یزیل ھذا الوصف وما یکون صفۃ العبادۃ یکرہ ازالتہ ۔ترجمہ: جان لیں کہ مُحرم کو تیل ( خوشبودار )اورخوشبو کے استعمال سے منع کیاگیا ہے، رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی بناء پر کہ حاجی بکھرے بال والا اور بو والا ہوتا ہے۔اور فرمایا : لوگ دور دراز راستے سے پراگندہ سر ، غبار آلود چہرے والے ہو کر آتے ہیں اور تیل اور خوشبو کا استعمال اس وصف کو زائل کردیتا ہے اور جو چیز عبادت کی صفت ہو اس کا زائل کرنا مکروہ ہے۔(المبسوط للسرخسی ج 4 ،ص 122 ،مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت)
اور خوشبو وہ چیز ہے جسے اہلِ عرف خوشبو کے طور پر استعمال کریں یا جسے خوشبو سمجھیں جیسا کہ عطریا پرفیوم وغیرہ۔ یا یہ کہ وہ چیز جو کبھی بطورِ خوشبو مستعمل ہو اور کبھی بطورِ خوشبو مستعمل نہ ہوبلکہ کسی اور کام مثلا دوا یا غذا کے طور پربھی مستعمل ہو جیساکہ زیتون کا خالص تیل وغیرہ۔ جیساکہ حاشیہ طحطاوی و ہندیہ میں ہے ،واللفظ لہ :الطيب كل شيء له رائحة مستلذة ويعده العقلاء طيبا كذا في السراج الوهاج. ترجمہ: خوشبو وہ شے ہے جس سے خوشبودار ہوا جائے اور اس کے لیے مرغوب بو ہو اور اس سے خوشبو بنائی جاتی ہو۔(حاشیہ طحطاوی علی الدر ، باب الجنایات ج 3 ص 616 ، الوحیدیہ، پشاور، ھندیہ ، جلد1 ص 240)
پہلی صورت میں یعنی اگر محرم نے عطر یا پرفیوم وغیرہ کا استعمال کیا تو اس پر مطلقا ً کفارہ لازم ہوگا خواہ قصداً و عمداًاستعمال کیاہو یا سھواًو خطاً ۔ جبکہ دوسری صورت میں اگر جسم یا کپڑے پر بطورِ خوشبو استعمال کیا تو کفارہ لازم ہوگا خواہ نیت ہو یا نہ ہو۔ جبکہ بطورِ دوا یا غذا استعمال کیا تو اب خوشبو کا حکم نہ ہونے کے سبب کفارہ لازم نہ ہوگا۔ اس تفصیل کے تناظر میں ہم غور کریں تو ہمیں باآسانی سینی ٹائزر کا حکم معلوم ہوسکتا ہے کہ نہ تو اسکا استعمالِ عرفی خوشبو ہے نہ اہل عرف اسے خوشبو سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان امور میں سے ہے جو کبھی بطورِ خوشبو مستعمل ہو اور کبھی کسی اور غرض سے ۔بلکہ یہ تو ہاتھوں کے جراثیم ختم کرنے کے لئے لگایا جاتا ہے تو گویا اس میں دوا کا عنصر شامل ہوا ، لہذا اگر حالتِ احرام میں کسی نے سینی ٹائزر استعمال کیا خواہ اختیار سے یا اضطرار سے کسی صورت کفارہ نہ ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
حاشیہ طحطاوی و ہندیہ میں ہے، واللفظ لہ :قال أصحابنا الأشياء التي تستعمل في البدن على ثلاثة أنواع نوع هو طيب محض معد للتطيب به كالمسك والكافور والعنبر وغير ذلك تجب به الكفارة على أي وجه استعمل حتى قالوا الوادي عينه بطيب تجب عليه الكفارة ونوع ليس بطيب بنفسه ولا فيه معنى الطيب ولا يصير طيبا بوجه ما كالشحم فسواء أكل أو دهن أو جعل في شقاق الرجل لا تجب الكفارة ونوع ليس بطيب بنفسه ولكنه أصل للطيب يستعمل على وجه التطيب ويستعمل على وجه الدواء كالزيت والشيرج ويعتبر فيه الاستعمال فإن استعمل استعمال الأدهان في البدن يعطى له حكم الطيب۔ ترجمہ: ہمارے اصحاب نے فرمایا : بدن پر استعمال ہونے والی اشیاء تین قسم کی ہیں ، خوشبوئے محض کہ جو خوشبو حاصل کرنے کے لیے ہی تیار کی گئی، جیسے مشک، کافور، عنبر وغیرہ ، اس میں کفارہ واجب ہوگا، خواہ کسی طور پر اسے استعمال کیا گیا ہو۔ حتی کہ فقہاء نے فرمایا کہ اگر کسی نے خوشبو سے اپنی آنکھ کا علاج کیا ، تو اس پر کفارہ واجب ہوگا، کیونکہ آنکھ ایک مکمل عُضو ہے اور اس میں خوشبو کو استعمال کیا گیا ہے، لہٰذا کفارہ لازم ہوگا۔دوسری قسم وہ کہ جو بذاتِ خود خوشبو نہ ہو، نہ ہی اس میں خوشبو والا معنیٰ پایا جاتا ہو جیسا کہ چربی تو اس میں کھانا یا بطورِ تیل استعمال کرنا یا پیروں کی پھٹن پر لگانا سب برابر ہے اور اس میں کوئی کفارہ واجب نہیں۔ تیسری نوع وہ کہ جو بذاتِ خود تو خوشبو نہیں ، لیکن خوشبو کی اصل ہے کہ بطورِ خوشبو بھی استعمال ہوتی ہے اور بطورِ سالن بھی۔ جیسے زیتون اور تل کا خالص تیل۔ اس میں اس کا استعمال مُعتبر ہے ( چنانچہ ) اگر بطورِ تیل بدن پر استعمال ہو، تو اس کے خوشبو ہونے کا حکم دیا جائے گا اور اگر کسی کھانے والی شے یا پیروں کی پھٹن میں استعمال ہو، تو چربی کی طرح خوشبو کا حکم نہ دیا جائے گا۔(حاشیہ طحطاوی علی الدر ، باب الجنایات ج 3 ص 616 ، الوحیدیہ، پشاور، ھندیہ ، جلد1 ص 240)
بالخصوص اگر سینی ٹائزر کو خوشبودار صابن یا خوشبودار واشنگ پاؤڈر پر قیاس کیا جائے تو حکم اور واضح ہوجائے گاکہ ان کی تیاری میں دو صورتیں اختیار کی جاتی ہیں : 1: صابن کے آمیزے میں خوشبو ڈالنے کے بعد عملِ نار کرلیا جاتا ہے۔ 2: صابن کے آمیزے کو گرم کرنے کے بعد 40 ڈگری پر لاکر اسکے بعد خوشبو ملائی جاتی ہے ۔ اور فقہاء نے جا بجا صراحت فرمائی ہے کہ اگر خوشبو کو کسی شئی میں ڈال کر عملِ نار کرلیا گیا ہو تو اس کے استعمال سے مطلقاً کوئی شئی واجب نہیں اور کوئی کراہیت بھی نہیں اگرچہ مہک آرہی ہو۔یونہی دوسری صورت میں آگ کی تاثیر پائے جانے کی بناء پر صابن میں موجود خوشبو مُسْتَھلَک (ہلاک شدہ) کے حکم میں ہے۔لہذا اسکے استعمال سے بھی کچھ لازم نہ ہوگا۔ اس سلسلے میں تبیین میں ہے: لواکل زعفرانا مخلوطا بطعام اوطیب آخر ولم تمسہ النار یلزمہ دم وان مستہ فلا شیء علیہ لانہ صارمستھلکا۔ ترجمہ: اگر کسی نے زعفران کھائی جو کہ کسی طعام یا کسی اور خوشبو کے ساتھ مخلوط تھی اور اسے آگ نے نہ چھوا ہو تودملازم ہوگا۔ اور اگر آگ نے چھوا ہو، تو کوئی کفارہ نہیں۔کیونکہ وہ زعفران ہلاک (فنا) ہوگئی ۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق،باب الجنایات جلد 2 ص 53 )
ارشاد الساری میں علامہ حسن بن محمد سعید عبدالغنی المکی فرماتے ہیں: فلا جزاء فیمایطبخ کالقھوۃ المذکورۃ وکدواء طبخ بھیل ونحوہ لانہ صارمستھلکا۔ ترجمہ: جس شے کو پکالیا گیا ہو، اس میں کوئی کفارہ نہیں ، جیسا کہ مذکورہ قہوہ اور وہ دوا جس میں ھیل اور اس کی مثل کو پکالیا گیا ہو، کیونکہ وہ فنا ہوگئی ۔(لباب المناسک مع حاشتہ ارشاد الساری ص 316، ادارۃ القرآن )
قرنطینہ والے مسئلے پر جزئیات و دلائل: اللہ کریم نے حرم ِ پاک کے خطے کو یہ شان عطا فرمائی ہے کہ جو بھی آفاقی شخص یہاں آئے تو اس خطے کی عظمت و ھیبت کے پیشِ نظر اسکے لئے میقات میں بلااحرام داخل ہونا منع ہے ، اگر ہوا تو دم لازم ہوگا.
جیساکہ مناسک میں ہے: وجوب الاحرام منھا لاحد النسکین وتحریم تاخیرہ عنھا لمن اراد احد النسکین ایضا بلا نزاع ولزوم الدم بتاخیرہ عنھا)ای بتاخیر الاحرام عن المیقات ۔ ترجمہ: اور حج و عمرہ کے لئے میقات سے احرام واجب ہے اور جو شخص حج و عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو اسکے لئے احرام کو میقات سے مؤخر کرنا بالاتفاق حرام ہے ۔ اور احرام کو میقات سے مؤخر کی صورت میں دم لازم ہوگا۔(لباب المناسک مع حاشتہ ارشاد الساری ص 80، ادارۃ القرآن )
اسی میں آگے ہے: المقصود بالاحرام من المیقات تعظیم الحرم المحترم۔ ترجمہ: میقات سے احرام کا مقصد حرمِ پاک کی تعظیم ہے۔ (ایضا ص 81)
موجودہ صورتِحال میں پانچ روز قرنطینہ کے سبب معتمرین حضرات کو ان ایام میں لامحالہ حالتِ احرام میں رہنا ہوگا،اور پانچ دن احرام کی پابندیوں کی رعایت کرنا لازم ہوگی۔ جس میں مختلف عوارض مثلا موسم کے اثرات، جسمانی تکالیف وغیرہ کا سامنا کرنا پڑے گا جوکہ شدید مشقت ، حرج اور تنگی کا سبب ہے جبکہ شریعت میں مشقت ،حرج و تنگی مدفوع ہیں ۔ کما قال الفقہاء الحرج مدفوع بالنص ، والمشقۃ تجلب التیسیرو أن الأمر إذا ضاق اتسع ۔ترجمہ: جیساکہ فقہاء نے ارشاد فرمایا کہ نص قرآن کی وجہ سے حرج کو دور کیا گیا ہے، اور مشقت کی وجہ سے آسانی پیدا ہوجاتی ہے، اور جب کسی معاملے میں تنگی پیدا ہوجائے تو اس میں وسعت کر دی جاتی ہے۔) اس لئے ممنوعاتِ احرام سے بچنے اور احرام کی پابندیوں سے آزادی کے حصول کے لئے حاجی و معتمر کے لئے درج بالا حیلہ و طریقہ اختیار کرنا جائز ہے ۔ ہمارے فقہاء کی کتب میں نص ہے کہ جو شخص ابتداءً ہی میقات کے اندر کسی بھی مقامِ حل(ما بین المیقات و الحل ) کا ارادہ کرے تو اس پر احرام نہیں ہے۔
چناچہ شمس الائمہ، فخر الازمنہ امام سرخسی رحمہ اللہ تعالٰی مبسوطِ سرخسی میں لکھتے ہیں : (قال) : وإن أراد الكوفي بستان بني عامر لحاجة فله أن يجاوز الميقات غير محرم؛ لأن وجوب الإحرام عند الميقات على من يريد دخول مكة، وهذا لا يريد دخول مكة إنما يريد البستان، وليس في تلك البقعة ما يوجب التعظيم لها فلهذا لا يلزمه الإحرام ۔ ترجمہ:اگر کوئی کوفی شخص (آفاقی) اپنے کسی کام کے لئے بستانِ بنی عامر کا ارادہ کرے تو اسکے جائز ہے کہ میقات میں بغیر احرام کے داخل ہونا جائز ہے ، کیونکہ میقات سے احرام اس شخص کے لئے واجب ہے جو مکہ آنے کا ارادہ کرے ، اور اس آفاقی کوفی نے مکہ آنے کا ارادہ نہ کیا بلکہ اس نے تو محض تو بستانِ بنی عامر کا ارادہ کیا ہے ، اور بستانِ بنی عامر میں تو وہ چیزیں نہیں جسکی تعظیم لازم ہو لہذا اس پر احرام لازم نہ ہوگا۔ (المبسوط للسرخسی ،باب المواقیت ج 4 ص 168)
تنویر مع الدر میں ہے: (وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام ۔ ترجمہ:تمام میقاتوں سے احرام کو مؤخر کرنا حرام ہے اس شخص کے لئے جو دخولِ مکہ یعنی حرم میں جانے کا ارادہ رکھتا ہو اگر چہ حج کے علاوہ کسی کام کی وجہ سے ۔ لیکن اگر حِل مثلا مقامِ خلیص یا جدہ کا ارادہ ہو تو اسکے لئے بغیر احرام کے میقات سے گزرنا جائز ہے ۔
اس کے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں : (قوله أما لو قصد موضعا من الحل إلخ) أي مما بين الميقات والحرم۔ ترجمہ:(مصنف کا قول اگر حِل کے کسی مقام کا ارادہ کرے) یعنی جو میقات اور حرم کے مابین ہے۔
(قوله وهو الحيلة إلخ) لكن لا تتم الحلية إلا إذا كان قصده لموضع من الحل قصدا أوليا كما قررناه۔ ترجمہ:لیکن حیلہ اس وقت تک تام نہ ہوگا جب تک حِل کے کسی مقام کا ابتداءً ہی ارادہ کرے، جیساکہ ہم نے اسے بیان کیا۔ (تنویر مع الدر و حاشیہ شامی، مطلب فی المواقیت جلد 2 ص 477،476)
اب اگر میقات میں بلااحرام داخل ہوجائے پھر عمرہ کرنا چاہے تو اسکی میقات حل ہے جیساکہ علامہ شامی فرماتے ہیں: (قوله ووقته البستان) أي لو أراد النسك فميقاته للحج أو العمرة البستان، يعني جميع الحل الذي بين المواقيت والحرم۔ ترجمہ: اور اگر یہ (آفاقی ) حج یا عمرہ کا ارادہ کرے تو اسکی میقات بستان(حِل) ہے یعنی وہ حِل جو حرم اور مواقیت کے درمیان ہے۔(تنویر مع الدر و حاشیہ شامی، مطلب فی المواقیت جلد 2 ص 582)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:22 جمادی الاولٰی 1443 ھ/27 دسمبر2021 ء