betiyon aur potay potiyon ki miras
سوال
ایک خاتون کا انتقال ہوا جن کی تین بیٹیاں زندہ ہیں، جبکہ ان کا ایک بیٹا ان کی زندگی ہی میں فوت ہو گیا تھا جس کی اپنی اولاد (2بیٹے اور 3بیٹیاں) موجود ہیں۔ مرحومہ نے اپنی زندگی میں ایک شخص کے پاس تقریباً تیس ہزار روپے بطور امانت رکھے تھے، جو اب خاتون کے انتقال کے بعد امانت دار کو یاد آئے ہیں اور وہ یہ رقم ورثا کو واپس کرنا چاہتا ہے۔ امانت دار کو یہ ڈر ہے کہ اگر رقم کسی ایک بہن کو دی تو شاید وہ دوسری بہنوں کو ان کا حصہ نہ دے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ شرعی طور پر وراثت کی تقسیم کا کیا طریقہ ہوگا؟ کیا یہ رقم صرف ان تینوں بہنوں میں تقسیم ہوگی یا فوت شدہ بھائی کی اولاد کا بھی اس میں کوئی حصہ ہے؟ نیز، امانت دار یہ رقم کس کو دے تاکہ سب کا حق ادا ہو جائے؟
نوٹ: مرحومہ کے والدین و شوہر پہلے ہی انتقال کرچکے تھے۔ البتہ اولاد کے ساتھ ساتھ ایک بھائی اور ایک بہن ہے۔
سائل: عبد الحمید جہلم پاکستان
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تومرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 63 حصے کئے جائیں گےجن میں سے مرحوم کی 3 بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 14 حصے، 2 پوتوں میں سے ہر ایک کو 6 اور 3 پوتیوں میں سے ہر ایک کو 3 حصے تقسیم ہونگے اور بھائی بہن قریبی وارث پوتےکے ہوتے ہوئے اپنی بہن کی وراثت سے محروم ہونگے۔ ترکے کی حسابی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 63 سے تقسیم Divide کریں جو جواب آئے اسے محفوظ کرلیں اور اسے ہر ایک وارث کے حصے پر ضرب Multiplyدے دیں، حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔یاد رہے کہ ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ منقولہ وغیر منقولہ ترکے (مثلاً: دکان، مکان، پلاٹ، زمین، زیورات، بینک اکاؤنٹ وغیرہ) میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت لگا کر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہے اور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔
امانت دار کے حوالے سے حکم یہ ہے کہ اس کے پاس موجود رقم کو اسے اصل حقداروں (ورثاء) تک پہنچانا اس کی شرعی ذمہ داری ہے۔ اگر اسے یہ اندیشہ ہے کہ کسی ایک بہن کو رقم دینے سے دوسروں کا حق مارا جائے گا، تو اسے چاہیے کہ وہ پوری رقم کسی ایک کے حوالے نہ کرے بلکہ تمام ورثاء (یا ان کے شرعی سرپرستوں) کو جمع کر کے ان کے سامنے رقم پیش کرے یا ہر ایک کا شرعی حصہ اسے خود پہنچا کر رسید لے لے تاکہ وہ اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکے۔
دلائل و جزئیات:
السراجی فی المیراث میں ہے : "تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ : الاول یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ، ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین ، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ".ترجمہ:میت کے ترکہ کے ساتھ ترتیب وار چار حقوق متعلق ہیں: مناسب تجہیز و تکفین سے ابتدا کی جائے گی ، پھر بقیہ مال سے اس کے قرضے ادا کئے جائیں گے ، قرضوں کی ادائیگی کےبعد بقیہ مال کے ثلث سے وصیت کو نافذ کیا جائے گا ،پھر باقی ترکہ ورثاء کےدرمیان تقسیم کیا جائے گا۔ (السراجیۃ مع القمریۃ،ص:11/12،مکتبۃ المدینہ العلمیۃ کراچی)
بیٹیوں کے حصہ میراث کے متعلق ارشاد باری تعالی ہے: فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ. ترجمہ:پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)
پوتوں کی موجودگی میں میت کے بھائی بہن محروم ہوجاتے ہیں، الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "ويسقط الإخوة والأخوات بالابن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق".ترجمہ: میت کے تمام بھائی اور بہنیں بیٹے کی موجودگی میں، پوتے کی موجودگی میں چاہے وہ کتنا ہی نیچے کی نسل سے ہو، اور باپ کی موجودگی میں بالاتفاق وراثت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ (الفتاوی الھندیۃ ،کتاب الفرائض،الباب الثانی ،6/449، دار الفکر)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14 رمضان المبارک 1447ھ/4 مارچ 2026ء