سوال
6 سال قبل میرا نکاح ہوا ، رخصتی نہیں ہوئی تھی ۔ نکاح کے 2 سال بعد میرے شوہر کام کے سلسلے میں ملائیشیا چلے گئے ، جانے سے پہلے ہم ملے تھے یعنی خلوت صحیحہ ہوگئی تھی۔ اسکے بعد سسرال والوں کی وجہ سے ہماری لڑائی بھی رہی ۔ اب میرے شوہر نے اپنے گھر والوں کے کہنے پر مجھے طلاق دی ہے ۔ الفاظ یہ تھے میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ ہم نے یہ بھی سنا ہے کچھ سال میاں بیوی الگ رہیں تو نکاح ختم ہوجاتا ہے۔ وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ حلالہ نہیں کرواؤں گا۔ اس صورت حال میں کیا حکم شرع ہے۔
سائل:حرا: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
نوٹ : لڑکا ملائیشیا میں رہائش پذیر ہے ۔لڑکے سے رابطہ کی کوشش کی گئی تاہم کئی جواب نہیں آیا ۔ لہذا اب سوال میں پوچھی گئی صورت کا جواب تحریر کیا جاتا ہے۔یہ جواب لڑکی کےبیان کے مطابق ہے۔
مذکورہ صورت میں لڑکی کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جسکے بعد وہ شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے ۔اس پر عدت لازم ہوچکی ہے ۔ عدت کے بعد اگر کسی دوسرے مرد کے کرنا چاہتی ہیں تو نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور اگر اسی مرد سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو بغیر شرعی حلالہ کے رجوع کی کوئی صورت نہیں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے :''اذا قال لامراتہ : انت طالق و طالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلاثا ''ترجمہ: جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اور طلاق ہے،اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہیں کیا ،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں۔) فتاوی عالمگیری ج1ص390(
عدت کی تفصیل یہ ہے:طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ،اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینے عدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرۃ:228)
دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالٰی ہے: والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق: 04)
اب اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا ،ارشاد باری تعالی ہے:فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ۔ ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدود ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''۔ ( البقرہ : 230)
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں :''حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سےنکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے،وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اورحمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔( فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 12ص 84)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 رجب المرجب 1441 ھ/16 مارچ 2020 ء