سوال
مریض کو جو آکسیجن دی جاتی ہے اس سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟ ا س پر بعض علما کہتے ہیں کہ روزہ ٹوٹ جائے گا جبکہ بعض کہتے ہیں کہ نہیں ٹوٹے گا ۔آپ سے گزارش ہے کہ اس پر تفصیلی حکم ارشاد فرمائیں !
سائل :محمد احسان
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
آکسیجن سے روزہ فاسد ہونے نہ ہونے کے لحاظ سے علمائے کرام کی آرا مختلف ہیں،ہمارے نزدیک آکسیجن ناقضِ روزہ نہیں جس کی تفصیل جاننے سے پہلے چند تمہیدی امور ملاحظہ ہوں تاکہ نفسِ مسئلہ سمجھنے میں آسانی ہو ۔
تمہیدی امور:
طبی آکسیجن سیلنڈر (Medical Oxygen Cylinder):
ہوا میں موجود گیسیں
آکسیجن کی حقیقت و ماہیت
طبی آکسیجن سیلینڈر (Medical Oxygen Cylinder):
ایک طبی آکسیجن سیلنڈر میں خالص آکسیجن (O₂) عام طور پر 99% ہوتی ہے اس کے علاوہ اس میں نائٹروجن بلکل معدوم ہوتی ہے اس لیے کہ نائٹروجن اگرچہ ہوا کاایک بڑا حصہ ہے، لیکن طبی آکسیجن سلنڈر میں نائٹروجن یا دیگر گیسیں شامل نہیں کی جاتیں کیونکہ اس کا مقصد مریض کو صرف خالص آکسیجن فراہم کرنا ہوتا ہے، جو کہ اسے سانس لینے میں مدد دیتی ہے ۔
حوالہ جات:
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO): WHO کی ہدایات کے مطابق طبی آکسیجن سلنڈروں میں صرف خالص آکسیجن ہوتی ہے، جو مریضوں کو سانس لینے میں مدد دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، خاص طور پر تنفسی بیماریوں میں۔ نائٹروجن جیسی غیر ضروری گیسیں طبی آکسیجن میں شامل نہیں ہوتیں۔
WHO guidelines on medical oxygen use: Link
U.S. Pharmacopeia (USP) Standards: امریکی فارماکوپیا میں آکسیجن کو بطور دوا درج کیا گیا ہے، اور اس کے مطابق، طبی آکسیجن میں نائٹروجن یا دیگر گیسوں کی آمیزش کی اجازت نہیں ہوتی، کیونکہ یہ مریض کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
USP Monograph on Oxygen: Link
British Standards Institution (BSI): BSI کی ہدایات کے مطابق، طبی آکسیجن سلنڈر میں آکسیجن کی خالصتاً 99% یا اس سے زیادہ مقدار ہونی چاہیے، اور اس میں کوئی نائٹروجن یا دیگر گیس شامل نہیں ہوتی۔
BS EN ISO 7396-1: Medical gas pipeline systems: Link
ہوا میں موجودگیسیں
ہوا کئی مختلف گیسوں سے مرکب ہے ،ہر گیس اپنی اپنی مخصوص مقدارکے ساتھ موجود ہوتی ہیں :
1:۔نائٹروجن (Nitrogen) — 78%:
نائٹروجن ہوا کا سب سے بڑا حصہ ہے جو تقریباً 78فیصد ہے،یہ ایک بے رنگ، بے بو اور غیر فعال گیس ہے، جو زیادہ تر کیمیائی ردعمل میں حصہ نہیں لیتی۔
2:۔آکسیجن (Oxygen) — 21%:
آکسیجن دوسرے نمبر پر آتی ہے اور ہوا کا تقریباً 21% حصہ ہے۔
3:۔آرگون (Argon) — 0.93%:
آرگون ایک بے رنگ اور غیر فعال گیس ہے، جو ہوا کا تقریباً 0.93% حصہ ہے۔ یہ ایک نوبل گیس ہے اور زیادہ تر کیمیائی ردعمل میں شامل نہیں ہوتی۔
4:۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ (Carbon Dioxide) — 0.04%:
کاربن ڈائی آکسائیڈ ایک اہم گیس ہے جو ہوا کا ایک چھوٹا حصہ ہے، تقریباً 0.04%. یہ پودوں کے فوٹو سنتھیسز کے عمل میں استعمال ہوتی ہے اور جانداروں کی سانس سے خارج ہوتی ہے۔
آکسیجن کی حقیقت و ماہیت:
آکسیجن یہ گیس کی ایک قسم ہے جو کہ بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ ہوتی ہے ،اس کی علامت”O”ہے اور اس کا ایٹمی نمبر 8 ہے۔
تفصیلی حکم :
آکسیجن انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر حیات کا تصور ممکن نہیں یہاں تک کہ کسی بھی وقت اس سے احتراز ممکن نہیں اور شرع شریف ایسی چیز کا حکم نہیں دے سکتی جس سے تحرز کسی بھی وقت ممکن نہ ہو کہ یہ تکلیفِ ما لا یطاق ہے ۔ اگر اسے ناقض ِ صوم قرار دیا جائے تو پھر روئے زمین پر کسی بھی زندہ انسان کا روزہ رکھنا محال ہو گا۔
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: اب ہم ان اشیاء کو جو خارج سے جوفِ صائم میں داخل ہوں نظر کریں تو انحائے مختلفہ کو پاتے ہیں ان میں بعض وُہ ہیں جن سے کسی وقت صائم کو احتراز ممکن نہیں، جیسے ہوا۔
بعض وُہ جن سے احیاناًتلبس ہر شخص کو ضرور، اور ان سے تحرز کلی نا مقدور ،جیسے دخولِ غبار ودخان کہ کسی نہ کسی طرح انسان کو ان سے قرب کی حاجت ضروری ہے اور وُہ اپنی حد ذات میں ممکن الاحترازنہیں، آدمی کو کلام سے چارہ نہیں، اور کلام نہ بھی کرے تو بے تنفس کیونکر گزرے، اور ہو اکہ ان کی حامل ہوتی ہے اورتمام فضامیں بھری اور متحرک رہتی ، جابجالیے پھرتی ہے، آدمی مُنہ بند بھی رکھے تو یہ ناک کی راہ سے داخل ہوسکتے ہیں۔
اور بعض وُہ جن سے ہمیشہ تحر ز کرسکتا ہے اگر چہ نادراً بعض اشخاص کو بعض حالات ایسے پیش آئیں کہ تلبس پر مجبور کریں، جیسے طعام و شراب ، اور انہیں دخان وغبار کا بالقصد ادخال کہ یہ تو اپنا فعل ہے انسان اس میں مجبور محض نہیں، شرع مطہر نے کہ حکیم ورحیم ہے جس طرح قسم اوّل کو مفطرات سے خارج فرمایا کہ اگر اسے ملحوظ رکھیں تو صوم ممتنع اور تکلیف روزہ تکلیف بالمحال ٹھہرے،اسی قسم ثا نی کو مطلقا شمار مفطرات میں نہ رکھا اگر مفطر مانیں تو دو حال سے خالی نہیں، یا تو حکمِ فطر ہمیشہ ثابت رکھیں تو وہی تکلیف مالایطاق ہوتی ہے یا وقتِ ضرورت باوصف حصول مفطر روزہ باقی جانیں تو بقائے شے مع انتفائے حقیقت یا اجتماعِ ذات ومنافی ذات لازم آئے اور یہ باطل ہے، ہم ابھی کہہ آئے ہیں کہ دربارہ حقائق ضرورت کارگر نہیں ہوتی ولہذا شرع مطہر سے ہرگز معہود نہیں کہ کسی شے کو بخصوصہ مفطر قراردے کر بعض جگہ بنظرِ ضرورت حکمِ افطار ساقط فرمایا ۔(فتاوی رضویہ جلد:10،صفحہ496،رضا فاؤنڈیشن لاہور )
ہماری نظر میں آکسیجن کا تعلق پہلی قسم سے ہے کہ مکلف کے لیے سب سے پہلے تو حیات ضروری ہے کہ مردہ مکلف نہیں ہوتااور حیات کےلیے آکسیجن ایک دائمی لازمی ضرورت ہے جس سے انفکاک محال ہےیہاں تک کہ جہاں آکسیجن بلکل مفقود ہو لیکن دیگر گیسیں مثلا نائٹروجن وغیرہا موجود ہوتو وہاں حیات ناممکن ہو جاتی ہے نیز یہ بات مشاہداتی بھی ہے کہ مریض طبی سیلنڈر کے سہارے سانس لیتا ہے جس میں 99 فیصد سے بھی زیادہ آکسیجن ہوتی ہے تو معلوم ہوا کہ تنفس میں اصل کردارآکسیجن کا ہے ۔لہذا اسے ناقضِ روزہ قرار دینا درست نہیں ۔
اشکال :
1:۔ عہد حاضر کے بعض محققین کا کہنا ہے کہ سیلنڈر والی آکسیجن کوہوا سے کشید کر کے مائع میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جس سے حقیقت تبدیل ہو جاتی ہے لہذا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا اس لیے کہ یہ وہ ہوا نہیں جو فضا میں موجود ہوتی ہے بلکہ یہ مصنوعی ہے اسی علت کے پیش نظر مجلس شرعی کے فیصلےمیں روزہ ٹوٹنے کا حکم دیا گیا ہے۔اقتباس ملاحظہ ہو:
جب مشینوں کے ذریعہ قدرتی ہوا سےآکسیجن کو الگ کر کے سیلنڈر میں محفوظ کیا جاتا ہےتو وہ آکسیجن پانی بن جاتی ہے،اور اس طرح اس کی حقیقت بدل جاتی ہے،پھر بوقت ضرورت اسے گیس بنا لیا جاتا ہے تو آکسیجن ماسک کےذریعےجو آکسیجن اندر جاتی ہے وہ مصنوعی آکسیجن ہےوہ نہیں جو کھلی فضا میں سانس لینے میں اندر جاتی ہے۔
قدرتی ہوا سے بچنا ممکن نہیں اس لیے اس سے روزہ فاسد نہ ہو گا اور مصنوعی گیس سے بچنا ممکن ہے کہ اسے بندہ اپنے قصدو اختیار سے جوف میں داخل کرتا ہے لہذا اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا ۔(مجلس ِ شرعی کے فیصلے جلد03،صفحہ 256)
جواب ِاشکال :
قولہ :تو وہ آکسیجن پانی بن جاتی ہے،اور اس طرح اس کی حقیقت بدل جاتی ہے،پھر بوقت ضرورت اسے گیس بنا لیا جاتا ہے۔
ہوا کا پانی میں تبدیل ہوناانقلابِ حقیقت ہے کہ یہ انتقال الشیء الی شیء آخر ہے۔یہ پہلا انقلاب تو ضرور مفطر صوم ہے کہ کسی نے ایسے پانی کو حلق میں اتارا تو ضرور روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ اس کے بعد پانی کو گیس میں تبدیل کرنا یہ ایک نیا انقلاب ہے اور خارج میں ایک چیز کے متعدد انقلاب ممکن الوقوع ہیں جیسا کہ شراب کا سرکہ بننا پھر سرکہ کا دوبارہ شراب بن جانا ۔تو جہاں متعدد انقلاب ہوں وہاں پر حکم موجودہ نفسِ حقیقت پر لگتا ہے نہ کہ گزشتہ پر کما الشاھد فی الرضویہ : وا لنظر للحال لا للاصل۔ترجمہ: شے کی حالت موجودہ دیکھی جاتی ہے نہ یہ کہ اصل میں کیا تھی(فتاوی رضویہ جلد17 صفحہ 412،رضا فاؤنڈیشن لاہور )
نیز انقلاب ِ حقیقت بصنعہ ہو یا بلاصنعہ یعنی خود سے ہو یا کسی صانع کی .صنعت سے، نفسِ حقیقت پر اس سے شرعا فرق نہیں پڑتا سو جب اسے آکسیجن تسلیم کر لیا گیا تواس میں مصنوعیت کے دخل و عدم دخل کا اعتبار کیسا؟
اشکالِ دوم :
قولہ :قدرتی ہوا سے بچنا ممکن نہیں اس لیے اس سے روزہ فاسد نہ ہو گا اور مصنوعی گیس سے بچنا ممکن ہے کہ اسے بندہ اپنے قصدو اختیار سے جوف میں داخل کرتا ہے لہذا اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا۔
جوابِ اشکال:
ہوا میں موجود آکسیجن سے بچنا بھی ممکن ہے بایں معنی کہ منہ اور ناک پر ہاتھ رکھ کر سانس روک لی جائے لیکن ایسا کرنے سے زندگی سے ہاتھ دھونے پڑ جائیں گے ۔تو جو علت تندرست کے حق میں فضا کے اندر ہے وہی علت مریض کے حق میں سیلنڈر میں ہے۔نیز یہاں پر دخول و ادخال کی تقسیم بھی درست نہیں کہ اونچائی پر رہنے والا دمہ کا مریض آکسیجن کی کمی کی وجہ سے لمبے لمبے سانس لیتا ہے جو کہ آکسیجن کو کھینچنا ہے اور کھینچنا ادخال ہے اس کے باوجود اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا بلکہ دیکھا جائے تو ہر انسان میں آکسیجن کھینچنے کی صلاحیت موجود ہے جسے وہ ضرورۃ ً بروئے کار بھی لاتا رہتا ہے ۔لہذا نظرِ فقہی میں جہاں تحرز کسی بھی وقت ممکن نہ ہو وہاں روزہ فاسد نہیں ہو گا اسے امام اہلسنت کی بیان کردہ قسم اول میں رکھا جائے گا اور قسمِ اول میں دخول و ادخال کا فرق بے معنی ہے کہ دخول و ادخال کی بحث کا تعلق قسم دوم سے ہے ۔
حرج عظیم
اگربالفرض سیلنڈر سے روزے کے ٹوٹنے کا حکم دے دیا جائے تو جتنے لوگ ہوائی سفر کرتے ہیں سب کے روزے فاسد ہوں گے اس لیے کہ وہاں بھی یہی آکسیجن فراہم کی جاتی ہے وھذا حرج عظیم لا یندفع الا بعدم الفساد.
خلاصہ کلام :
ہوا میں آکسیجن موجود ہے جس سےکسی بھی حالت میں تحرزِ ناممکن ہے لہذا بالاتفاق یہ آکسیجن خود بخود روزہ دار کے ناک ،منہ میں داخل ہو یا وہ کھینچتے ہوئے ادخال کا مرتکب ہو بہر دو صورت اس سے روزہ نہیں جائے گاسو جس طرح اس سے روزہ نہیں فاسد ہوتا بعینہ اسی طرح گیس سیلنڈر میں موجود آکسیجن سے جو مریض کو دی جاتی ہے اس سے بھی فاسد نہیں ہو گا کہ دونوں کی حقیقت و ماہیت ایک ہے۔واللہ اعلم بالصواب