شوہر کا نان و نفقہ نا دینا
    تاریخ: 26 جنوری، 2026
    مشاہدات: 42
    حوالہ: 669

    سوال

    میری شادی کو گیارہ سال ہوگئے ہیں، میرے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ شوہر دبئی میں نوکری کرتا ہے اور پچھلے چھ سال سے نان و نفقہ تو دور کی بات ہے میرے حالات تک نہیں پوچھے۔ میں نوکری کرکے بچوں کا پیٹ پال رہی ہوں ۔ اب میں نے کورٹ میں خلع کا کیس دائر کیا ہے۔ قانونی طور پر چار نوٹس انکے گھر پنجاب اور دبئی میں بھجوا دئیے ہیں ۔کورٹ نے مجھے خلع کا لیٹر جاری کردیا ہے۔ اب اگر وہ آ بھی گئے تو میں ان سے رشتہ رکھنا نہیں چاہوں گی۔مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ ان سے میرا رشتہ ختم ہوگیا یا نہیں ؟اس معاملے کا کیا حل سے شرعی رہنمائی فرمادیں۔

    سائل:زوبیہ : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    فی الحال شوہر سے آپکا رشتہ ختم نہیں ہوا آپ بدستور انکی زوجیت میں ہیں ۔لیکن چونکہ شوہر بالکل لاتعلقی کرچکا ہے اور کسی طرح کا خرچہ وغیرہ نہیں دیتا،تو اس بناء پر آپکو یہ حق حاصل ہے کہ ہےایسی سخت مجبوری میں قاضی یا عدالت کے پاس تفریق یعنی فسخِ نکاح کی درخواست دائر کریں پھر جب عدالت کوقرائن و شواہد کی بناء پر ظن غالب ہوجائے تو عدالت نکاح فسخ کر دے تو اس طرح آپ اپنے شوہر کی زوجیت سے خارج ہوجائیں گی ۔ پھر عدت کے بعد جہاں چاہیں نکاح کرسکتی ہیں ۔

    اسکی تفصیل یہ ہے کہ شریعت نے شوہر پر بیوی کا نفقہ لازم کیا ہے۔قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:لینفق ذو سعۃ من سعتہ و من قدر علیہ رزقہ فلینفق مما ء اتاہ اللہ لا یکلف اللہ نفسا الا مآ ء ا تاھا سیجعل اللہ بعد عسر یسرا۔ ترجمہ : مالدار شخص اپنی وسعت کے لائق خرچ کرے اورجس کی روزی تنگ ہے، وہ اُس میں سے خرچ کرے جو اُسے خدا نے دیا، اﷲ (عزوجل) کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اُتنی ہی جتنی اُسے طاقت دی ہے، قریب ہے کہ اﷲ(عزوجل)سختی کے بعد آسانی پیدا کر دے۔(سورۃ الطلاق آیت7)

    یونہی ابو داود میں ہے:عن جدہ معاویۃ القشیری قال أتیت رسول اللہ ﷺ قال فقلت ما تقول فی نسائنا ؟ قال أطعموھن مما تأکلون و اکسوھن مما تکتسون و لا تضربوھن و لا تقبحوھن :ترجمہ: حضرت معاویہ قشیری کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کےپاس آیا اور عرض کی کہ آپ ہمیں ہماری بیویوں کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو تم کھاتے ہوانہیں بھی کھلاؤ کماتے ہو انہیں اس مال سے کپڑے پہناؤ ،انکو مارپیٹ مت کرو اور برا بھلا مت کہو۔( ابو داود شریف ، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا ،ج 1ص309)

    صحیح مسلم میں ہے : حضرت جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:«إِذَا أَعْطَى اللهُ أَحَدَكُمْ خَيْرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ»ترجمہ:جب خدا کسی کو مال دے تو خود اپنے اور گھر والوں پرخرچ کرے۔( صحیح مسلم''، کتاب الامارۃ، باب الناس تبع لقریش... إلخ، الحدیث: 1822)

    لہذا معلوم ہوا کہ شوہر پر بیوی کو نفقہ دینا واجب ہے۔لہذا اگر قدرت اور استطاعت کے باوجود کوئی نفقہ نہ دے تو بیوی کو حق سے کہ وہ عدالت سے نکاح فسخ کرالے اور جب عدالت کوقرائن و شواہد کی بناء پر ظن غالب ہوجائے تو عدالت نکاح فسخ کر دے۔

    مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان تفہیم المسائل جلد 3ص269لکھتے ہیں:وہ وجوہ جن کی بناء پر مختلف ائمہ کرام کے مسالک میں قاضئِ مجاز یا جج کے لئے '' فسخِ نکاح'' کی گنجائش نکل سکتی ہے یا ایسی مصیبت زدہ بیوی کے لئے ایسی رخصت ورعایت موجود ہے کہ انتہائی اذیت ناک صورتِ حال سے اسکو نجات مل جائے بشرطیکہ ان شرائط و قرائن کی بنیاد پرقاضی کو ظن غالب یا یقین ہوجائے ، یہ ہیں:(1)شوہر بیوی کو نان و نفقہ نہ دیتا ہو ،ظالمانہ انداز مین بے انتہا مار پیٹ کرتا ہو ،حقوق زوجیت ادا نہ کرتا ہو اور اسے معلق حالت میں روکے رکھنا چاہتا ہوتو(ایسی صورت میں عدالت فسخ نکاح کرسکتی ہے)۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:13 ذیقعدہ 1441 ھ/04 جولائی 2020 ء