سوال
حالتِ احرام میں خوش بو دار مشروبات پی سکتے ہیں کہ نہیں؟ بعض لوگ اس سے منع کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ ٹینگ اور ors وغیرہا مصنوعی چیزوں سے محلول پانی پینے سے بھی روکتے ہیں کہ اس سے دم لازم آ جائے گا ۔اس حوالے سے تفصیلی جواب عنایت فرمائیں
سائل:حاجی محمد رضوان
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شریعت اسلامیہ نے محرم کو حالتِ احرام میں خوش بو کا استعمال کرنے سےمنع کیا ہے یہ ممانعت محرم کے بدن ،کپڑے اور اس کے کھانے پینے سے تعلق رکھتی ہے لیکن جب تک خوشبو کی حقیقت و ماہیت کو نہ سمجھا جائے تب تک اس کے متعلقہ ممنوعہ مسائل کو نہیں جانا جا سکتا سو اختصار کے ساتھ ہم خوشبو کی لغوی و اصطلاحی تعریفیں پیش کررہے ہیں۔
خوشبو( طیب) کی لغوی تعریف
تاج العروس میں ہے:اَلطِّیْبُ ما یطیَّب بہ وقد تَطیّبَ بِالشَّیء وطیب فلان فلانا بالطیبیعنی طیب وہ شے ہے جس سے خوشبودار ہواجائے۔( کہا جاتا ہے) وہ شے کے ساتھ خوشبو دار ہوا اور فلاں نے فلاں کو خوشبودار کیا۔( تاج العروس لذبیدی جلد03، صفحہ 284مطبوعہ دارالھدایہ بیروت)
خوشبو( طیب) کی فقہی تعریف
الطیب جسم لہ رائحۃ طیبۃ مستلذۃ کالزعفران والبنفسج والیاسمین یعنی خوشبو وہ جسم ہے جس کی پاکیزہ اور قابل ِلذت بو ہو جیساکہ زعفران ،بنفشہ اور یاسمین۔
یہ تعریف درج ذیل فقہائے کرام نے کی ہے :
علامہ سید ابن عابدین الشامی ( ردالمحتارجلد03، صفحہ583، مطبوعہ امدادیہ ملتان)
علامہ عمر بن نُجَیم مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ (النھرالفائق( ج ۲، ص ۱۱۵ ،مطبوعہ باب المدینہ کراچی )
علامہ زین ابن نجیم مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی (البحرالرائق ج ۳، ص۳ ،مطبوعہ کوئٹہ)
علامہ ابن ھُمَّام عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ السَّلام فتح القدیر (ج۲، ص ۴۳۸،مطبوعہ کوئٹہ)
علامہ سید احمد طحطاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح(ص ۶۰۹ ،مطبوعہ باب المدینہ کراچی )
علامہ محمود عینی حنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البنایۃ(ج ۴، ص ۲۴۰، مطبوعہ کوئٹہ)
علامہ ابوبکر حدّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد الجوھرۃ النیرۃ(ص ۲۰۷ مطبوعہ پشاور)
البتہ فتاویٰ ہندیہ میں مذکورہ اجزائے تعریف کو باقی رکھتے ہوئے ایک اور جز کا اضافہ کیا گیا ہے وہ ہے :ویعدّہ العقلاء طیبایعنی اہل عقل اس کو خوشبو شمار کرتے ہوں۔( جلد01، صفحہ240مطبوعہ دارالفکر بیروت)
اس قید کو بڑھانے کی وجہ یہ ہےکہ خوشبو سونگھنے کے لحاظ سے حسی ہے اور اس میں لوگوں کے معیار مختلف ہیں کہ ایک ہی وقت میں ایک چیز کچھ لوگوں کے نزدیک قابل خوشبو ہوتی ہے اور کچھ کے نزدیک نہیں ہوتی سو اس سلسلے میں اہل عقل ،سلیم الطبع لوگوں کی رائے کو معیار قرار دیا کہ جسے وہ خوشبو سمجھتے ہوں وہی خوشبو ہو گی ۔
مُلّاعلی قاری رَحْمَۃ اللہِ علیہ نے شرح لباب المناسک میں فرماتے ہیں :الطیب ما تطیب بہ ویکون لہ رائحۃ مستلذۃ ویُتَّخذُ منہ الطیبُترجمہ:طیب وہ چیز ہے جس سے خوشبو لی جائے اور اس کی قابلِ لذت بو ہو اور اس سے خوشبو بنائی جاتی ہو۔ (شرح لباب المناسک صفحہ ۳۱۰، مطبوعہ باب المدینہ کراچی )
ملا علی قاری علیہ الرحمہ نے اس تعریف میں یتخذ منہ الطیب کی قید کا اضافہ کیا چناچہ اس کے حوالے سے دو امورقابلِ غور ہیں :
1:۔یہ قید احترازی نہیں
2:۔یہ اس بات سے مقید ہے کہ جب محرم خوشبو کی نیت سے اس کا استعمال کرے ورنہ بغیر خوشبو کے ارادے سے استعمال میں جنایت نہیں جیسے کہ تل کا تیل وغیرہا۔
درج بالا عبارات کی روشنی میں خوشبو کی جو جامع مانع تعریف واضح ہوئی وہ یہ ہے کہ
1:۔ وہ ٹھوس یا مائع چیز جس کی وضع قدرتی یا مصنوعی لحاظ سے خوشبو کے لیے ہو اور اسے سلیم الطبع لوگ بھی خوشبو سجھتے ہوں
2:۔وہ ٹھوس یا مائع چیز جس کی وضع، قدرتی یا مصنوعی لحاظ سے خاص خوشبو کے لیے نہ ہو بلکہ دیگر کاموں کے لیے ہو لیکن اسے خوشبو کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہو ۔
پہلی صورت کے احکام
1:۔وہ قدرتی یا مصنوعی خوشبو جو اصلِ وضع میں خوشبو ہو اسےخالص کھا،پی نہیں سکتے ۔
2:۔اسے کسی دوسری چیز میں ملا کر کھانے پینے کے حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ
اسے کسی دوسری چیز میں ملا کر حرارت دے دی گئی تو اب اس پر سے خوشبو کا حکم ساقط ہو جائے گا ۔
مَلِکُ العلماء ابوبکر کاسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی بَدَائِع الصَّنَائع(ج ۲،ص۱۹۰ مطبوعہ کوئٹہ)میں علامہ سید احمد طحطاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر( ج ۱، ص ۵۲۰) میں اور فتاویٰ عالمگیری( ج ۱، ص ۲۴۰) میں ہے :قال اصحابنا ان الاشیاء التی تستعمل فی البدن علی ثلاثۃ انواع نوع ھو طیب محض معد للتطیب بہ کالمسک والکافور والعنبر وغیرذلک وتجب بہ الکفارۃ علی ای وجہ استعمل حتی قالوا لوداوی عینہ بطیب تجب علیہ الکفارۃ لان العین عضوکامل استعمل فیہ الطیب فتجب الکفارۃ و نو ع لیس بطیب بنفسہ ولا فیہ معنی الطیب ولا یصیرطیبا بوجہ کالشحم فسواء اکل اوادھن اوجعل فی شقاق الرجل لاتجب الکفارۃ ونوع لیس بطیب بنفسہ لکنہ اصل الطیب یستعمل علی وجہ الطیب ویستعمل علی وجہ الادام کالزیت والشیرج فیعتبر فیہ الاستعمال فان استعمل استعمال الادھان فی البدن یعطی لہ حکم الطیب وان استعمل فی مأکول اوشقاق رجل لایعطی لہ حکم الطیب کالشحم یعنی ہمارے اصحاب نے فرمایا : بدن پر استعمال ہونے والی اشیاء تین قسم کی ہیں ، خوشبوئے محض کہ جو خوشبو حاصل کرنے کے لیے ہی تیار کی گئی، جیسے مشک، کافور، عنبر وغیرہ ، اس میں کفارہ واجب ہوگا، خواہ کسی طور پر اسے استعمال کیا گیا ہو۔ حتی کہ فقہاء نے فرمایا کہ اگر کسی نے خوشبو سے اپنی آنکھ کا علاج کیا ، تو اس پر کفارہ واجب ہوگا، کیونکہ آنکھ ایک مکمل عُضو ہے اور اس میں خوشبو کو استعمال کیا گیا ہے، لہٰذا کفارہ لازم ہوگا۔دوسری قسم وہ کہ جو بذاتِ خود خوشبو نہ ہو، نہ ہی اس میں خوشبو والا معنیٰ پایا جاتا ہو جیسا کہ چربی تو اس میں کھانا یا بطورِ تیل استعمال کرنا یا پیروں کی پھٹن پر لگانا سب برابر ہے اور اس میں کوئی کفارہ واجب نہیں۔ تیسری نوع وہ کہ جو بذاتِ خود تو خوشبو نہیں ، لیکن خوشبو کی اصل ہے کہ بطورِ خوشبو بھی استعمال ہوتی ہے اور بطورِ سالن بھی۔ جیسے زیتون اور تل کا خالص تیل۔ اس میں اس کا استعمال مُعتبر ہے ( چنانچہ ) اگر بطورِ تیل بدن پر استعمال ہو، تو اس کے خوشبو ہونے کا حکم دیا جائے گا اور اگر کسی کھانے والی شے یا پیروں کی پھٹن میں استعمال ہو، تو چربی کی طرح خوشبو کا حکم نہ دیا جائے گا۔
علامہ شمس الدین سرخسی علیہ الرحمہ میں فرماتے ہیں :واعلم ان المحرم ممنوع من استعمال الدھن والطیب لقولہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:’’الحج الشعث التفل، وقال: یأتون شعثا غبرا من کل فج عمیق‘‘ واستعمال الدھن والطیب یزیل ھذا الوصف وما یکون صفۃ العبادۃ یکرہ ازالتہترجمہ:جان لو کہ مُحرم کو تیل ( خوشبودار )اورخوشبو کے استعمال سے منع کیاگیاہے، رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اس فرمانِ عالیشان کی بناء پر کہ ’’حاجی بکھرے بال والا اور بو والا ہوتا ہے۔‘‘ اور فرمایا : لوگ دور دراز راستے سے پراگندہ سر ، غبار آلود چہرے والے ہو کر آتے ہیں اور تیل اور خوشبو کا استعمال اس وصف کو زائل کردیتا ہے اور جو چیز عبادت کی صفت ہو اس کا زائل کرنا مکروہ ہے۔( المبسوط جلد4،صفحہ122،مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت)