سوال
ہمارے ابو (محمد امین) اور امی کا انتقال ہو چکا ہے،ہم چار بہنیں ہیں ۔ ایک بہن کا انتقال ابو کی حیات میں ہی ہو گیا تھا۔ابو کی وراثت میں ایک گھر ہے۔جو بہن انتقال کر گئی ہے، کیا شریعت کے مطابق اُس کے بچوں کا اس وراثت میں کوئی حصہ ہے؟
نوٹ: محمد امین کی زوجہ اور والدین ان کی زندگی میں انتقال کرگئے تھے۔اور اولاد میں صرف بیٹیاں تھیں کوئی بیٹا نہیں۔البتہ ان کے تین بھائی (فرید، انیس، سہیل) اور ایک بہن (زینت) حیات ہیں۔
سائل: عبد الرزاق۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تومرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 63حصے کئے جائیں گےجن میں سے مرحوم کی 3 بیٹیوں (جو اپنے والد کے انتقال کے وقت حیات تھیں) میں سے ہر ایک کو علیحدہ 14 حصے، 3 بھائیوں میں سے ہر ایک کو 6 حصے اور بہن کو 3 حصے تقسیم ہونگے۔ترکے کی حسابی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 63سے تقسیم Divide کریں جو جواب آئے اسے محفوظ کرلیں اور اسے ہر ایک وارث کے حصے پر ضرب Multiplyدے دیں، حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
یاد رہے کہ ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً: دکان، مکان، پلاٹ، زمین، زیورات، بینک اکاؤنٹ وغیرہ) میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت لگا کر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہے اور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔یہاں مرحوم (محمد امین) کی بیٹی کے ورثاء (اگر کوئی ہوں تو اپنی مورثہ سے) کوئی حصہ وراثت نہیں پائیں گے، کہ ترکہ کے وہی وارثین مستحق ہوتے ہیں جو میت کے انتقال کے وقت حیات ہوں ، پس اگر کوئی وارث میت سے پہلے انتقال کرتا ہے تو نہ وہ ترکہ سے حصہ پائے گا نہ ہی اس کے اپنے ورثاء۔
المسئلۃ بھذہ الصورۃ:
3×21=63
میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
3بیٹیاں 3بھائی 1بہن
ثلثان عصـــــــــــبہ
2×21 1×21=21
14/42 6/18 3
دلائل و جزئیات:
السراجی فی المیراث میں ہے : "تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ : الاول یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ، ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین ، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ".ترجمہ:میت کے ترکہ کے ساتھ ترتیب وار چار حقوق متعلق ہیں: مناسب تجہیز و تکفین سے ابتدا کی جائے گی ، پھر بقیہ مال سے اس کے قرضے ادا کئے جائیں گے ، قرضوں کی ادائیگی کےبعد بقیہ مال کے ثلث سے وصیت کو نافذ کیا جائے گا ،پھر باقی ترکہ ورثاء کےدرمیان تقسیم کیا جائے گا۔( السراجیۃ مع القمریۃ،ص:11/12،مکتبۃ المدینہ العلمیہ کراچی)
بیٹیوں کے حصے کے متعلق ارشاد ہوا: فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ. ترجمہ:پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)
بہن بھائیوں کے حصے کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِؕ.ترجمہ: اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے بر ابر۔(النساء: 176)
عصبہ باقی مال لے گا،چنانچہ علامہ سراج الدین محمد بن عبد الرشید السجاوندی (المتوفی:600ھ) فرماتے ہیں:"والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال". ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے۔(السراجیۃ مع القمریۃ،ص 13،مکتبۃ المدینۃ کراچی)
وراثت صرف ان میں تقسیم ہوتی ہے جو مورث کے وصال کے وقت زندہ ہوں،چنانچہ ہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه. ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے،(لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔(الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی،کتاب المفقود ،2/424،دار احیاء التراث العربی)
یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:"وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت أي وقت الحكم بالموت".ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔(البنایۃ شرح الہدایۃ،کتاب المفقود،7/367،دار الکتب العلمیۃ) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:24 رجب المرجب 1447ھ/14جنوری 2025ء