wirasat ka masla das behan bhai
سوال
ایک شخص محمد فہیم صدیقی کا انتقال ہوا جسکی بیوی کا بہت پہلے انتقال ہوچکا ہے، جبکہ کوئی اولاد نہیں ہے ،والدین بھی پہلے فوت ہوچکے۔ دس بہن بھائی ہیں جس میں سے چار بھائیوں اور ایک بہن کا انتقال پہلے ہوگیا جبکہ انکے انتقال کے وقت دو بھائی (نسیم، وکیل)اور دو بہنیں (افسر،فہمیدہ) حیات ہیں۔ جس میں سے ایک بھائی (وکیل) سوتیلے(باپ شریک) ہیں ۔
وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی شرعی رہنمائی فرمائیں۔نیز میں نے انکی بیماری پر تقریباً ایک لاکھ روپے خرچ کئے تھے انہوں نے کہا تھا فلاں کے پاس میرا قرض ہے وہ تم اس سے لے لینا جو پیسے خرچ کئے اسکی مد میں اور سامنے والے بندے کو بھی معلوم ہے کہ مجھے دینے کا کہا ہے۔وہ رقم میں لے سکتا ہوں یا نہیں؟
سائل:فرجاد :سکھر۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
برتقدیرِ صدقِ سائل و انحصارِ ورثاء مرحوم کےکفن دفن کےاخراجات اورقرضوں کی ادائیگی اوراگرکسی غیروارث کےلئےوصیت کی ہوتواسکومرحوم کےتہائی مال سےپورا کرنےکےبعد مالِ وراثت کے کل 4 حصےکئےجائیں گے۔ جس میں سے ہر کو 1 حصہ جبکہ سگے بھائی کےدو حصے ہونگے ۔ سوتیلا بھائی وراثت سے حصہ نہیں پائے گا کہ کیونکہ سگے بہن بھائیوں کی موجودگی میں باپ شریک محروم ہوجاتا ہے ۔
نیز جو رقم آپکے خرچ کی تو آپ اتنی رقم انکی وراثت سے یا اسی شخص سے لے سکتے ہیں ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
سوتیلے بھائی کے حوالے سے سراجی فی المیراث میں ہے: ويَسقُط بنو العَلاّت أيضاً بالأخ لأبٍ وأمٍّ، وبالأخت لأبٍ وأمٍّ إذا صارَتْ عَصَبة۔ ترجمہ:اور باپ شریک بہن بھائی سگے بہن بھائی کی وجہ سے ساقط ہوجائیں گے، جبکہ وہ عصبہ ہوں۔(سراجی ص 43 )
فائدہ: رقم کی صورت میں تقسیم کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے تمام غیر نقدی اشیاء کی مارکیٹ ویلیو نکلوالیں اسکے بعد تمام رقم ملا لیں پھر اس کو 4 پر تقسیم کرلیں جو جواب آئے اسے اپنے پاس محفوظ کرلیں پھر اس جواب کو ہر ایک کےحصے سے ضرب دیدیں ،یوں ہر ایک کے حصے کی رقم معلوم ہو جائے گی ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:20 شعبان المعظم 1444 ھ/13 مارچ 2023 ء