wirasat ka masla char behne ek bhai
سوال
میرے والدین کا انتقال ہوچکا ہے ، ہم چار بہنیں اور ایک بھائی ہے ، ایک بہن والد کی پہلی زوجہ سےہیں ۔جو انہوں نے اپنے بڑے بھائی کو گود دے دی تھی۔ہم تین بہنوں اور بھائی کی شادی ہوچکی ہے ایک بہن معذور ہے جو بھائی بھابھی کے ساتھ لاڑکانہ میں رہتی ہے۔والد کا انتقال جالائی 2021 میں ہوا، ان کی جائیداد میں ایک فلیٹ ، ایک دکان جس میں وہ کاروبار کرتے تھےاسکے ساتھ وہ پرائز بانڈر کا کام کرتے تھے اور شہر کے بڑے بیوپاری تھے جس کی وجہ سے بینکس اور کمپنیز میں انکے شیئرز تھے۔ اسکے علاوہ امی کا گولڈ جو کہ کافی مقدار میں تھا وہ بھی انکے پاس تھا اس کے ساتھ ساتھ 7.8 تولہ گولڈ بھی انکے پاس تھا جو والدہ نے بڑی بہن کے لئے بنوایا تھااسکے علاوہ چھوٹی بہن نے بھی کچھ گولڈ ابو کے پاس امانت رکھوایا تھا وہ بھی انکے پاس تھا ۔ والد صاحب کے چالیسویں پر بھائی نے بتایا کہ پاپا کے پاس کچھ نہیں تھا بس کچھ رقم یعنی کچھ ہزار روپے اور کچھ پرائز بانڈز اور تھوڑا سا امی کا رکھا ہوا سونا تھا جس کا میں ایک دو ہفتوں میں حساب کرکے بتادونگا۔2 سال ہوگئے انہوں نے کوئی حساب کتاب نہیں کیا بلکہ چھوٹی بہن کی امانت کا بھی صاف انکار کردیا۔ ابو نے فلیٹ اور دکان بھائی کے نام کردیا تھا اور تاحیات خود بھی وہاں کام کرتے رہے اور فلیٹ میں رہتے رہےبھائی کا کہنا ہے کہ تم سب کی شادی کردی اب تمہارا کوئی حصہ نہیں ۔ یہ سب کچھ میرا ہےحالانکہ سب کچھ پاپا نے اپنے بل بوتے کمایا تھا تو اس میں شرعی حساب سے ہمارا حصہ نہیں بنتا؟ شرعی رہنمائی فرماکر ہماری مدد فرمائیں۔
سائلہ:بمعرفت مدنی رضا : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بالجملہ یہاں دو امور ہیں:
1: مکان و دکان کا حکم
2: دیگر اموال(رقم، پرائز بانڈز، شیئرز،والدہ کی جیولری اور بیٹی کی امانت رکھی گئی جیولری)
1: مکان و دکان کا حکم:
مکان اور دکان اگر صرف زبانی یا کاغذات میں بیٹے کے نام کیے اور قبضہ نہ دیا تو یہ مکان و دکان والد کی ملکیت ہی ہیں ۔کیونکہ نام کرنا شرع میں ھبہ کا حکم رکھتا ہے، جس کے لئے قبضہ ضروری ولازم ہے ،بغیر قبضہ ھبہ تام نہ ہوگا، بالخصوص اس صورت میں جبکہ والد خود بھی اس میں رہتا رہا اور اپنا مال و اسباب بھی اسی میں رکھا اور کبھی تخلیہ کرکے بیٹے کو قبضہ نہ دیا حتٰی کہ ان کا انتقال ہوگیا تو یہ ھبہ از سر باطل ہوگیا۔اب یہ مکان خاص ملکِ والد ہوا ، بعد وفات والد اسکے ورثاء میں بحسبِ فرائض ورثاء منقسم ہوگا۔
تنویرالابصار میں ہے: وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے :لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بیٹے کایہ کہنا کہ'' تم سب کی شادی کردی اب تمہارا کوئی حصہ نہیں ''محض لغو وباطل ہے ۔ تمام ترکہ میں بیٹیوں کا اسی طرح حصہ ہوگا جیسے بیٹے کا حصہ ہے۔ کیونکہ وراثت ایک ایسا حق ہے جو کسی سے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا۔نیز اس لئے بھی وراثت کا سبب قرابت(رشتہ داری )ہےاور وہ اب بھی باقی ہے ۔لہذا وراثت بھی باقی رہے گی۔
سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:حق میراث حکم شرع ہے کہ رب العالمین تبارک وتعالٰی نے مقررفرمایا کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوسکتا۔قال علماؤنا کما فی الاشباہ وغیرہ الارث جبری لایسقط بالاسقاط، ہمارے علماء نے فرمایا جیساکہ اشباہ وغیرہ میں ہے کہ حق میراث جبری ہے کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا۔اوروجہ اس کی ظاہرہے کہ بیٹا مثلاً اپنے باپ کا اس لئے وارث ہوتاہے کہ یہ اس کابیٹاہے تو جس طرح یہ اپنے بیٹے ہونے کونہیں مٹا سکتا یونہی اپنے حق میراث کونہیں ساقط کرسکتا۔ ( فتاوی رضویہ کتاب الفرائض جلد 26 ص 132)
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں :ارث جبری ہے، کہ موت مورث پر ہروارث خواہ مخواہ اپنے حصہ شرعی کامالک ہوتاہے مانگے خواہ نہ مانگے، لے یانہ لے، دینے کاعرف ہویانہ ہو، اگرچہ کتنی ہی مدت ترک کوگزر جائے، کتنے ہی اشتراک دراشتراک کی نوبت آئے اصلاً کوئی بات میراث ثابت کوساقط نہ کرے گی، نہ کوئی عرف فرائض اﷲ کوتغیرکرسکتاہے، یہاں تک کہ نہ مانگنا درکنار اگر وارث صراحۃً کہہ دے کہ میں نے اپناحصہ چھوڑ دیا جب بھی اس کی مِلک زائل نہ ہوگی ۔( فتاوی رضویہ کتاب الفرائض جلد 26 ص 115)
اب تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ اس دکان و مکان کو 6 حصص میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے ہر بیٹی کو الگ الگ 01 حصہ جبکہ بیٹے کو 02 حصے ملیں گے۔
وراثت کی مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
2: دیگر اموال کا حکم:
بیٹے کا دیگر اموال کے بارے میں یہ کہنا کہ'' والدکے پاس کچھ نہیں تھا محض اتنا ہی مال چھوڑا'' اس وقت تک معتبر نہیں جب تک اس بات پر حلف نہ لے لے۔ کیونکہ بیٹا محلِ تہمت میں ہے بالخصوص اس صورت میں جبکہ ظاہر اس کے خلاف پر دلالت کرے کہ والد کے پاس اپنے مال کے علاوہ زوجہ اور بیٹی کا زیور بطورِ امانت تھااور ایک مسلمان حتی الامکان امانت کی حفاظت کرتا ہے۔نیز بیٹا کایہ قول کہ '' تم سب کی شادی کردی اب تمہارا کوئی حصہ نہیں'' اس احتمال کی مزید تائید کرتا ہے کہ والد نے ترکہ میں وہ اشیاء چھوڑی ہیں جن کا دعوٰی بیٹیوں کی جانب سے کیا جارہا ہے۔ لہذا بیٹے پر حلف لازم ہے ، اگر بیٹا حلف لے لے کہ واقعتاً اتنا ہی مال چھوڑا تھاتو اسکی بات کا اعتبار کرتے ہو یہی مال جس کا اقرار بیٹے نے کیا تقسیم کردیا جائے گا۔ پھر اگر بیٹے نے جھوٹا حلف لیا تو اسکا وبال اسی پر ہے۔ نیز اگر حلف سے انکار کردے تو بیٹیوں کا قول ثابت ہوجائے گا۔
بہر صورت اس مال کی تقسیم بھی اوپر ذکر کردہ طریقے کے مطابق ہوگی۔
وارثین کو وراثت سے محروم کرنے کا وبال:
ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وراثت کے مستحق لوگوں کو انکا حصہ نہیں دیاجاتا ،بالخصوص بہنوں کا حصہ دبا لیا جاتا ہے، جو کہ شرع شریف کے نزدیک سخت گناہ اور ایساکرنا کفار کا طریقہ ہے قرآن مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے :وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌ ۔ترجمہ کنز الایمان :اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔( سورۃ الفجر آیت ١٧تا ٢٥)
آپ تمام بھائیوں نے اگر وراثت میں اپنی بہنوں کوانکا مقررہ حصہ نہیں دیا تو یہ کسی مسلمان کا حصہ غصب کرنے کے زمرے میں آئے گا ،اور احادیث میں کسی مسلمان کا حصہ ناحق غصب کرنے کی سخت وعیدیں آئی ہیں ، چناچہ بخاری شریف میں ہے:فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ۔ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکو سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔( بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198)
اسی طرح بخاری شریف میں ایک اور مقام پر ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ»ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین ) کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔(بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلد جلد 3ص130)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:27 ربیع الاول 1445ھ/ 14 اکتوبر 2023 ء