وراثت کا مسئلہ بیوی والدہ دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں

    wirasat ka masla biwi walida do bete aur panch betiyan

    تاریخ: 16 مئی، 2026
    مشاہدات: 26
    حوالہ: 1352

    سوال

    غلام رسول کا انتقال ہوا اسکے والد پہلے ہی وفات پاچکے ہیں ، ورثاء میں بیوی(بیگمہ)، والدہ (بچل) دو بیٹے (محمد رضا،عبدالقیوم) اور پانچ بیٹیاں (یاسینہ،عائشہ،کوثر ،فلک،بختاور)تھی پھر ایک بیٹی یامینہ کا انتقال ہوا اسکی کوئی اولاد نہیں ہے شوہر(سکندر) زندہ ہے ہر ایک کا وراثت سے کیا حصہ بنے گا؟

    سائل:سرمد حسین


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے اور ان کے علاوہ کوئی اور ورثاء نہیں ہیں تو کل وراثت کے 10368 حصے کئے جائیں گے جس میں سے بیگمہ کو 1432 حصے، بچل کو 1728 حصے ،بیٹوں(رضا،عبد القیوم ) میں سے ہر ایک کو 1700 حصے اور بیٹیوں (عائشہ،کوثر ،فلک ، بختاور ) میں سے ہر ایک کو 850 حصے،اور سکندر کو 408 حصے ملیں گے ۔

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ، قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہےومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    بیویوں اور شوہروں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ:ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے، جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    السراجی فی المیراث ص18 میں ہےاما للزوجات الربع للواحدۃ فصاعدۃ عند عدم الولد او ولد الابن والثمن مع الولد او ولد الابن وان سفل:ترجمہ: ایک بیوی ہو یا ایک سے زائد اولاد نہ ہونے کی صورت میں اسکا (زوج کی وراثت سے )چوتھا حصہ ہے، اور بیٹا، بیٹی یا پوتا پوتی کی موجودگی میں زوجہ کو آٹھواں حصہ ملے گا۔

    اور والدین کے بارے میں ارشاد ہے،قال اللہ تعالیٰ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ :ترجمہ کنزالایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو -پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے ، تو ماں کا تہائی پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی ہوں ،توماں کا چھٹا۔

    فائدہ: رقم کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل وراثت کو مذکورہ حصوں پر تقسیم کرلیا جائے اور پھر ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیا جائے اس طرح ہر ایک کا حصہ معلوم ہوجائے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:19 ذوالحجہ 1439 ھ/01 ستمبر 2018 ء