سوال
(۱)مسجد میں رہنے والے امام صاحب، موذن و دیگر کرایہ دار چوری کی بجلی جو کنڈا کہلاتی ہے جس میں مسجد بھی شامل ہے،چوری کی بجلی استعمال کر رہے ہیں۔شریعت مطہرہ کیا اس کی اجازت دیتی ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دے کر مطمئن کریں۔ (۲) ریاض احمد گوہر شاہی ملعون جس نے مہدی علیہ السلام ہونے کا دعوی کیا تھا۔ وہ واصل جہنم ہوا آج بھی اس کے پیروکار یہ سلسلہ چلا رہے ہیں کہ نعوذ باللہ چاند پر اور خانہ کعبہ پر اس ملعون کی تصویر آتی ہے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے گیارہویں ،بارہویں کی محفل بھی کرتے ہیں۔ کیا ملعون گوہر شاہی کے پیسوں سے کوئی عمرہ کر سکتا ہے؟ حالانکہ ہم سنی عقیدہ رکھنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھنے والے ہیں کہ آپ آخری نبی ہیں، قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دے کر مطمئن کیجئے۔
سائل: سید محمد اسلام الرحمن اویسی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
(۱) چوری کی بجلی چاہے کوئی استعمال کرے ناجائز و حرام ہے۔جس نے ماضی میں ایسا کیا ہے وہ توبہ بھی کرے اور جتنی بجلی چوری کی ہے حساب لگا کر متعلّقہ ادارے کو اتنا بِل ادا کرے۔
تفصیل یہ ہے کہ مکّلف شخص کا دوسرے کا مال چھپاکر، ناحق طریقے سے لے لینا، چاہے نصابِ سرقہ کی مقدار کے برابر ہو یا نہ ہو ’’چوری‘‘ کہلاتا ہے۔اور مالیت کا تحقق لوگوں کے میلان سے ثابت ہوتا ہے۔ مال کی مختلف تعریفات بیان ہوئی ہیں اور دور حاضر میں معتمد تعریف شیخ مصطفی الزرقا کی ہے، آپ نے مال کی تعریف یوں بیان فرمائی: "المال هو كل عين ذات قيمة مادية بين الناس".ترجمہ:ہر وہ شے جس کا خارج میں وجود ہو، مادّی ہو اور لوگوں کے درمیان اس کی قیمت ہو وہ مال ہے۔( الفقہ الاسلامی وادلتہ بحوالہ المدخل،4/345،دار الفکر)۔
اس تعریف کی رُو سے بجلی پر تمول (لوگوں کا اسے مال سمجھنے) کا اطلاق ہوتا ہے کیونکہ مال کے عوض اس کی خریدو فروخت ہوتی ہے۔
کنڈے لگا کر بجلی چوری سے علاقے کے لوگوں کی بھی حق تلفی ہے جو کہ ’’سرقہ کبری‘‘ ہے۔ حکومت اپنی حکمت کے تحت اس پر سزا مقرر کر سکتی ہے، البتہ اس چوری پر ہاتھ کاٹنے کی شرعی سزا نہیں، کیونکہ اس کیلئے باقاعدہ شرائط مقرر ہیں جو یہاں نہیں پائی جاتیں۔
پھر حکومت نے بھی بجلی چوری کو قابلِ سزا جرم قرار دیا ہے اور حکومت کے وہ قوانین جو عوامی مفاد کیلئے ہوں اور شریعت سے متصادم نہ ہوں، ان پر عمل کرنا ہر شہری کی شرعی ذمہ داری ہے، ان کی خلاف ورزی سے خود کو ذلت کے مقام پر پیش کرنا لازم آتا ہے جو کہ شرعاً ممنوع ہے۔لہذا بجلی چوری کرنا جائز نہیں اور اس سے بچنا لازم و ضروری ہے۔
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:’’مسجد میں بلاکنکشن چوری سے بجلی جلا نا منع ہے کہ اس میں حکومت کو دھوکہ دینا اور اس کے قانون کو توڑنا ہے۔اپنے کو اہانت کے لئے پیش کرنا، اپنی عزت کو خطرہ میں ڈالنا ہے۔اور عزت کی حفاظت کرنا ذلت و رسوائی سے بچنا ضروری ہے۔( فتاوی فقیہ ملت،1/192،شبیر برادرز لاہور)
حدیث پاک میں ہے:"عن حذيفة رضي الله تعالی عنه قال : قال رسول الله صلى الله تعالی علیه وسلم: "لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه".ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، فرمایا: رسول اللہ صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کو نہیں چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو ذلت پر پیش کرے۔ (ترمذی شریف جلد2، صفحه 498 مطبوعه لاهور)
مرقاۃ المفاتیح میں اس حدیث کے تحت فرمایا:"(لا ينبغي) أي لا يجوز للمؤمن أن يذل نفسه) اي باختياره".ترجمہ: حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ مومن کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے اختیار سے اپنے آپ کو زلت پر پیش کرے۔ (مرقاة المفاتیح،5/416،مطبوعہ کوئٹه)
مبسوط للسرخسی میں ہے:"اذلال التنفس حرام".ترجمہ: خود کو ذلت پر پیش کرنا حرام ہے۔ (المبسوط للسرخسی،5/23، مطبوعہ کوئٹه)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) لکھتےہیں:’’ کسی ایسے امر کا ارتکاب جو قانونا ناجائز ہو اور جرم کی حد تک پہنچے شرعا بھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لئے جرم قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے آپ کو سزا اور ذلت کے لئے پیش کرنا شرعا بھی روا نہیں۔ قال تعالٰی لا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ ، وقد جاء الحدیث عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ینہی المومن ان یذل نفسہ ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا: اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو، اور حدیث شریف میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ آپ نے مومن کو اپنا نفس ذلت میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ،جلد:20،ص:188،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
(۲)گوہرشاہی کو اس کے گمراہ کن ،زندقانہ عقائد و نظریات کی بنا پر علمائے اہلسنت نے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے ۔اسی طرح اس کے متبعین و متعلقین بھی خارج از اسلام ہیں بلکہ اس کے متبعین تو کفر میں اس سے بھی دو قدم آگے نکلے ہیں۔لہذا ایک سنی صحیح العقیدہ کا عمرہ جیسی نعمت کیلئے گوہری فرقے سے پیسے لینا کراہت سے خالی نہیں، البتہ اگر لیتے ہیں تو عمرہ بہرحال ہوجائے گا۔
ریاض احمد گوہر شاہی کے عقائد و نظریات ملاحظہ ہوں:
(۱)نماز، روزہ ،زکوٰ ۃ اورحج کو اسلام کے وقتی رکن کہا گیا ہے کہ روزانہ پانچ ہزار مرتبہ عوام ،پچیس ہزار مرتبہ امام اور بہتر ہزار مرتبہ اولیاءکرام کو ذکر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے کہ ہر درجہ کے ذکر کے بغیر نماز بے فائدہ ہے اگرچہ سجدوں سے کمر کیوں نہ ٹیڑھی ہوجائے۔(بحوالہ کتاب :روشناس صفحہ نمبر 3)
(۲)حضرت آدم علیہ السلام نفس کی شرارت سے اپنی وراثت یعنی جنت سے نکال کر عالم ناموت جو جنات کا عالم تھا پھینکے گئے (معاذاللہ)۔(مینارہ نور،صفحہ 11)
(۳)حضرت آدم علیہ السلام پر یوں بہتان باندھا ہے کہ آپ جب اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نام کیساتھ لکھا دیکھا تو خیال ہوا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں ۔جواب آیا کہ تمہاری اولاد میں سے ہوں گے ۔نفس نے اُکسایا کہ یہ تیری اولا دمیں ہوکر تجھ سے بڑھ جائیں گے یہ ”بے انصافی “ہے اس خیال کے بعد آپ کو دوبارہ سزاد ی گئی(معاذ اللہ )۔( روشناس صفحہ نمبر 9)
(۴)قادیانیوں اور مرزا ئیوں کو مسلمان کہا ہے البتہ جھوٹے نبی کو مان کر اصلی نبی کی شفاعت سے محروم کہا ہے۔( روشناس صفحہ نمبر 10)
(۵)اللہ تعالیٰ کا خیال ثابت کرکے اس کے علم کی نفی کی ہے ایک دن اللہ تعالیٰ کے دل میں خیال آیا کہ میں خود کو دیکھوں سامنے جو عکس پڑا تو ایک روح بن گئی اللہ اس پر عاشق اور وہ اللہ پر عاشق ہوگئی (معاذاللہ )۔(روشناس صفحہ نمبر11)
(۶)حضرت آدم علیہ السلام کی شدید ترین گستاخی اور اخیر میں ان پر شیطانی خور ہونے کا الزام لگایا ہے(معاذاللہ )۔(مینارہ نو ر صفحہ نمبر 8 )
(۷)ذکر کو نماز پر فضیلت دی۔ذکر کا نیا طریقہ نکالا اور قرآنی آیت کے مفہوم کو بگاڑ کر اپنے باطل نظریہ پر استد لال کیا ہے ۔(مینارہ نو ر صفحہ نمبر17)
(۸)جب تک حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کسی کو نصیب نہ ہو اسکا امتّی ہونا ثابت نہیں ۔ (مینارہ نو ر صفحہ نمبر44)
(۹)قرآن مجید کی آیت کا جھوٹا حوالہ دیا گیا ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے باربار ”دع نفسک و تعالیٰ “فرمایا ہے حالانکہ پورے قرآن مجید میں کہیں بھی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان وارد نہیں ہوا(معاذاللہ )۔(مینارہ نو ر صفحہ نمبر29)
(۱۰)علماءکی شان میں شدید ترین گستاخیاں کی گئی ہیں ایک آیت جو کہ یہود سے متعلق ہے علماءو مشائخ پر چسپاں کیا ہے۔(مینارہ نو ر صفحہ نمبر30,31)
(۱۱)حضرت خضر علیہ السلام اور ان کے علم کی تو ہین کی گئی ہے۔( مینارہ نو ر صفحہ نمبر35)
(۱۲)انبیاءکرام علیہم السلام دیدار الہٰی کو تر ستے ہیں اور یہ (اولیاءاُمّت )دیدار میں رہتے ہیں ولی نبی کا نعم البدل ہے(معاذاللہ )۔
( مینارہ نو ر صفحہ نمبر30)
(۱۳)گوہر شاہی اپنی کتاب روحانی سفر لکھتا ہے:’’اتنے میں اس نے سگریٹ سلگایا اور چرس کی بو اطراف میں پھیل گئی اور مجھے اس نفرت ہونے لگی ۔رات کو الہا می صورت پیدا ہوئی یہ شخص (یعنی چرسی )ان ہزاروں عابدوں ،زاہدوں اور عالموں سے بہتر ہے جو ہر نشے سے پر ہیز کر کے عبادت میں ہوشیار ہیں لیکن بخل ،حسد اور تکبّر انکا شعار ہے اور (چرس کا )نشہ اسکی عبادت ہے ‘‘(معاذ اللہ!)بالکل ہی واضح طور پر نشہ کو صرف حلا ل ہی نہیں بلکہ عبادت ٹہرایا جا رہا ہے ۔ (روحانی سفر،صفحہ نمبر 49 تا 50)
(۱۴)گوہر شاہی اپنی کتاب دین الہی پر لکھتا ہے:’’ سب سے بہتر اور بلند وہی ہے جس کے دل میں اللہ کی محبت ہے، خواہ وہ کسی مذہب سے بھی ہو‘‘(معاذاللہ )۔(دین الہی، صفحہ:45)
(۱۵)کتاب مینارہ نور پر مرزا غلام احمد قادیانی کو عابد وزاہد لکھا جبکہ یہ شخص اعلان نبوت کی بناء پر جمہور علماء کے متفقہ فیصلہ کی وجہ سے کافر و مرتد ہے۔( مینارہ نور ،ص :14)۔
تفصیل کے لئے مولانا محمد طفیل رضوی صاحب کی کتاب ’’گوہر شاہی کے عقائد و نظریات‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14ذو القعدہ 1445 ھ/23مئی 2024ء