قادیانی کو نماز جنازہ،نکاح اور دیگر مذہبی معاملات میں شریک کرنا کیسا
    تاریخ: 27 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 65
    حوالہ: 34

    سوال

    (۱)مرزائی قادیانی کے ساتھ لین دین کھانے پینے والے مسلمان کا کیا شرعی حکم ہے ؟

    (۲) نماز جنازہ، نکاح کی محفل یا دیگر مذہبی محافل میں قادیانیوں کی موجودگی میں ان (نماز جنازہ نکاح و دیگر مذہبی محافل) کا کیا شرعی حکم ہے؟ (۳)عبادات یا مذہبی محافل میں مرزائیوں کو باہر نکالنا فرض واجب سنت وغیرہ میں سے کیا ہے؟ سائل: مولوی محمد رمضان خیر پور میرس ،سندھ۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    (۱)مسلمانوں کا براہِ راست قادیانیوں سے لین دین ،کھانا پینا ناجائز و حرام ہے،کیونکہ قادیانی اپنے عقائدِ باطلہ،مثلاً ختم ِنبوت کاانکار، انبیائےکرام علیہم السلام کی توہین وغیرہ کے سبب مرتد ہیں یعنی دعوی اسلام کرنے کے باوجود بہت سی ضروریاتِ دین کےانکار کے سبب دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور مرتد، کفار کی سب سے بدترین قسم ہے،یہاں تک کہ ان کے احکام، کافرِ اصلی (ہندو ،مشرک وغیرہ) سے بھی سخت ہیں اور مرتدین کے بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ ان کےساتھ میل جول رکھنا ، اُٹھنا ، بیٹھنا ، کھانا ، پینا ، لین دین وغیرہا سب حرام اورسخت گناہ کے کام ہیں ۔ یونہی دنیوی مُعاملات، مثلاً خرید و فروخت وغیرہ بھی مرتد کے ساتھ جائز نہیں ، لہٰذا قادیانیوں کے ساتھ خرید و فروخت نہیں کر سکتے۔

    (۲)ان کا مسلمانوں کے جنازوں اور نکاح یا دیگر مذہبی محافل میں شرکت کرنا از خود کوئی ایسا خلل نہیں ڈالے گا جس سے فساد ہو،یعنی انکی موجودگی میں نمازجنازہ جائز ہوجائے گا،نکاح منعقد ہوجائے گاوغیرہا ۔البتہ انہیں اپنے جنازوں اور محافل میں شریک کرنا سخت ممنوع و حرام ہے، سنیوں کو ان سے احتراز از حد ضروری ہے۔قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ ان کو توبہ کرانے میں بہت بڑا علاج اور ان کی اصلاح اور ہدایت کا بہت بڑا ذریعہ اور ہر مسلمان کا اولین ایمانی فریضہ ہے اور رسول اللہ ﷺسے محبت کی نشانی ہے۔

    (۳)عبادات یا مذہبی محافل میں مرزائیوں کو باہر نکالنا دینی فریضہ ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    کفّار سے دُور رَہنے کے متعلق اللہ پاک ارشاد فرماتاہے: وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ. ترجمہ:اور ظالموں کی طرف نہ جھکوورنہ تمہیں آگ چھوئے گی۔(ھود:113)

    مذکورہ بالاآیت کے تحت مفتی سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ(المتوفی:1367ھ) لکھتے ہیں : ”اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے نافرمانوں کے ساتھ یعنی کافِروں اور بے دینوں اور گمراہوں کے ساتھ میل جول ، رسم و راہ ، مَوَدّت و مَحبت ، ان کی ہاں میں ہاں ملانا ، ان کی خوشامد میں رہنا ممنوع ہے“۔(خزائن العرفان ،تحت الآیۃہود:133 ،مکتبۃ المدینہ کراچی )

    عام بَدْمذہب ، مرتدین کے مقابلے میں ہلکا حکم رکھتے ہیں اور عام بدمذہبوں سے بچنے کی نہایت تاکید ہے تو مرتد کا معاملہ تو اور شدید ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺنے بدمذہبوں کی صحبت سے دُور رَہنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: "فإياكم وإياهم، ‌لا ‌يضلونكم، ولا يفتنونكم ".ترجمہ: تم ان سے دُور رَہو اور وہ تم سے دُور رَہیں کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔(صحیح مسلم، باب النھی عن الروایۃ عن الضعفاء ،1/33، لاھور)

    ایک موقع پر نبی پاک ﷺنے ارشادفرمایا:"فلا تجالسوھم ولاتشاربوھم ولا تؤاکلو ھم ولاتناکحوھم".ترجمہ: نہ تم اُن کے پاس بیٹھو ،نہ ان کے ساتھ کھاؤ ،پیو ، نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرو۔(کنزالعمال،کتاب الفضائل ، باب ذکر الصحابۃ، 6/246،دارالکتب العلمیۃ )

    مفتی محمد وقار الدین علیہ الرحمہ(المتوفی:1413ھ) فرماتے ہیں:” قادیانیوں کے دونوں گروپ لاہوری اور احمدی کافر ومرتد ہیں اور مرتد کے احکام اہلِ کتاب اور مشرکین سے جداہیں ،شریعت کےمطابق مسلمان ،مرتد سے معاملات بھی نہیں کرسکتا،اس سے مِلنا جُلنا کھانا پینا سب ناجائز ہے…لہٰذا ان سے تجارت رکھنا ،اٹھنا ،بیٹھنا کھانا پینا سب حرام ہے“۔(وقار الفتاوی،1/274،بزم وقارالدین)

    دنیوی معاملات صرف مرتدین سے ممنوع ہیں، جیسا کہ امامِ ہلسنت رحمۃ اللہ تعالی عنہ (المتوفی:1340ھ) لکھتے ہیں:’’دنیوی معاملت جس سے دین پرضَرَرْ نہ ہو سوا مرتدین …… کے کسی سے ممنوع نہیں۔(فتاوی رضویہ ،24/331 ، رضافاؤنڈیشن لاہور)

    قادیانیوں کےمرتد ہونے کے متعلق امامِ ہلسنت رحمۃ اللہ تعالی عنہ لکھتے ہیں:” لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲ مُحَمَّد رَسُولُ اﷲ ﷺکے بعد کسی کو نبوت ملنے کاجو قائل ہو ، وہ تو مطلقاً کافر مرتد ہے ، اگرچہ کسی ولی یا صحابی کے لیے مانے،لیکن قادیانی توایسا مرتدہے جس کی نسبت تمام علمائے کرام حَرمَیْن شریفین نے بِالْاِتفاق تحریر فرمایا ہے کہ’’ مَنْ شَکَّ فِیْ کُفْرِہٖ فَقَدْ کَفَرَ ‘‘یعنی جو اس کے کفر میں شک کرے ،تووہ بھی کافرہوجائے گا “۔(فتاوی رضویہ ،21/279-280، رضافاؤنڈیشن لاہور) ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15 ربیع الآخر 1444 ھ/31اکتوبر2023ء