سوال
ایک جگہ پر مؤذن کو مسجد کی مؤذنی سے محض اس وجہ سے فارغ کردیا گیا کہ یہ حافظ نہیں ہےایسا کرنا شرع میں کیا حکم رکھتا ہے۔ سائل:سید فیضان رضا:کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر مذکورہ شخص اپنے فرائضِ منصبی بخوبی سرانجام دے رہا ہے، اور کسی طرح کی کوتاہی نہیں کررہا نیز اسکی قرات بھی درست ہے تو محض اس بنیاد پر کہ یہ حافظ قرآن نہیں ہے مؤذنی سے فارغ کرنا جائز نہیں ہے۔کیونکہ مؤذن وقف کا ملازم ہے، اور وقف کے ملازم کو اس وقت تک فارغ نہیں کیا جاسکتا جب تک کوئی عذر نہ پایا جائے یا یہ کہ جس کام کے لئے رکھا اسکا اہل نہ رہے۔
ردالمحتار میں ہے: لا يصح عزل صاحب وظيفة بلا جنحة أو عدم أهلية۔ترجمہ:وقف کے وظیفہ خوار کو بغیر عذر یا عدمِ اہلیت کے بغیر نکالنا صحیح نہیں ہے۔( ردالمحتار مع الدرالمختار،کتاب الوقف جلد 4 ص 382)
الدر المختار میں ہے:الاجارۃ تفسخ بالقضاء والرضاء۔ترجمہ:اجارہ رضامندی یا قضاءکےذریعے فسخ ہوسکتاہے۔(الدرالمختارمع ردالمحتار، کتاب الاجارہ،باب فسخ الاجارہ جلد 6 ص 76)
پھر ردالمحتار میں ہے : لان الاجارۃ تفسخ بالاعذار ۔ ترجمہ:اس لئے کہ اجارہ عذروں کی وجہ سے فسخ ہوجاتاہے۔( ردالمحتار علی الدر المختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد جلد 4 ص 127، داراحیاء التراث العربی بیروت)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :کسی شخص کو اصلا اختیارنہیں کہ بے اطلاع اجیر جب چاہے بطور خود عقد اجارہ فسخ کردے،مگر جب کوئی عذر بین واضح ظاہر ہوجس میں اصلا محل اشتباہ نہ ہو جب تک ایسا نہ ہو اجیر بیشک مستحق تنخواہ ہوگا۔(فتاوٰ ی رضویہ ، کتاب الاجارہ جلد 19 ص 438 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زوہیب رضا قادری
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 24 صفر المظفر 1442 ھ/12 اکتوبر 2020 ء