سوال
اگر کوئی یہ کہے کہ ’’شریعت سیدوں کے گھر کی ہے‘‘ تو اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟
سائل: علامہ محمد شکیل باروی، فیض آباد /اسلام آباد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھے گئے مقولہ میں بنیادی دو احتمالات ہیں:
اول یہ کہ شریعت کاشانہ نبوتﷺ سے ہے۔
دوم یہ کہ شریعت امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہماکی اولاد پاک سے ہے ۔
پہلی صورت کہ مرادذاتِ پاکﷺ ہو تو کوئی حرج نہیں بلکہ یہی حقیقت ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی عطا سے شرعی احکام میں خود مختار ہیں،آپ جسے جو چاہے حکم دے سکتے ہیں ،جس کے لئے جو چیز چاہے جائز یا ناجائز کر سکتے ہیں اور جسے جس حکم سے چاہے الگ فرما سکتے ہیں،کثیر صحیح اَحادیث میں اس کے شواہد موجود ہیں۔
پھر شریعت کا سیدوں کے گھر کی ہونے سے دو چیزیں مستفاد ہوتی ہیں:
اول یہ کہ چونکہ گھر والا دیگر کے مقابل اپنے گھر کی حفاظت زیادہ کرتا ہے اور اس حفاظت میں زیادہ محتاط ہوتا ہےلہذا سادات کرام کے لیے شریعت محمدی کی نصرت و حمایت اور حفاظت کی ذمہ داری دیگر کے مقابل زیادہ بنتی ہے۔ دوم یہ کہ گھر والا اپنے گھر میں تصرف کا حق رکھتا ہے لہذا سیدکو شریعت کے احکامات پر تصرف کرنے کا حق ہے۔
پہلی صورت میں تو کوئی حرج نہیں۔البتہ دوسری صورت کہ اولادِحسنین کریمین کیلئے اسی قسم کا تصرف مراد لیا جائے تو ایسا قطعا درست نہیں کہ حضور ﷺ کی بارگاہ سے صادر ہوئے فیصلے پر کسی کو اختیار نہیں اور آپﷺ کےحکمِ شریعت کی نافرمانی کھلی گمراہی ہے۔کیونکہ شریعت اللہ رب العزت کا ایسا قانون ہے جس میں کسی مکلف کی خلاصی نہیں۔شئے اپنی اضافت کے ساتھ مکرم و معظم ہوتی ہے۔سادات کرام اور شریعت محمدیﷺ دونوں کی اضافت حضور خاتم الانبیاءعلیہ الصلاۃ والسلام کی ذات با برکت سے ہےجو انہیں محترم بناتی ہیں۔
اللہ تبارک وتعالی ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا۔ترجمہ:اور کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو اُنہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بےشک صریح گمراہی بہکا۔(الاحزاب:36)
اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے: ’’اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طاعت ہر امر میں واجب ہے اور نبی علیہ السلام کے مقابلہ میں کوئی اپنے نفس کا بھی خود مختار نہیں ‘‘۔(تفسیر خزائن العرفان ،تحت سورۃ الاحزاب آیت36)
حدیث مبارکہ میں ہے: "عن جابر رضي الله عنه، ان عمر بن الخطاب رضوان الله عليه اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم بنسخة من التوراة، فقال: يا رسول الله، هذه نسخة من التوراة، فسكت، فجعل يقرا ووجه رسول الله يتغير، فقال ابو بكر رحمة الله عليه: ثكلتك الثواكل، ما ترى ما بوجه رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فنظر عمر إلى وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: اعوذ بالله من غضب الله، ومن غضب رسوله صلى الله عليه وسلم، رضينا بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"والذي نفس محمد بيده، لو بدا لكم موسى فاتبعتموه وتركتموني، لضللتم عن سواء السبيل، ولو كان حيا وادرك نبوتي لاتبعني".ترجمہ:سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺکے پاس توراۃ کا ایک نسخہ لے کر حاضرہوئےاور عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ توریت کا نسخہ ہے، آپ ﷺخاموش رہے اور عمر رضی اللہ عنہ اسے پڑھنے لگے، رسول اللہ ﷺکا چہرہ مبارک بدلنے لگا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: کھونے (گم کرنے) والی مائیں تمہیں کھو دیں (گم کر دیں)، کیا رسول اللہ ﷺکے چہرے کو دیکھتے نہیں ہو؟ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺکے چہرے کی طرف دیکھا تو کہا: میں اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، ہم اللہ کے رب ہونے،اسلام کے دین اور محمد ﷺکے نبی ہونے پر راضی ہیں۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدر ت میں محمد کی جان ہے، اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تمہارے لئے ظاہر ہو جائیں اور تم ان کی اتباع کرو اور مجھے چھوڑ دو تو تم سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے اگر وہ (موسیٰ علیہ السلام) زندہ ہوتے اور میری نبوت کو پا لیتے تو وہ بھی میری اتباع کرتے۔(سنن الدارمی،رقم:449،دار المغنی)۔
بالادستی شریعت کی ہے : خیرالقرون کی طرز ِزندگی ہمارے سامنے روز ِروشن کی طرح عیاں ہے، خلفائے راشدین ،اہل بیت اطہار صحابہ و صحابیات (رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین ومتعنا بھم الی یوم الدین )میں کوئی ایک ہستی ایسی نظر نہیں آئی جس نے شریعت سے خود کو بالا تر سمجھا ہو ۔ سب کے سب دائرہ شریعت میں یکساں سرتسلیمِ خم نظر آئے۔کسی صحابی سے خلافِ شریعت کوئی عمل سر زد ہوا تو اس نے اپنےسامنے حکمِ شرع کو متوجہ پایا۔حضرت ماعز رضی اللہ عنہ سے گناہ سرزد ہوا تو حکم شریعت رجم کو اپنے سامنے پایا ۔
اس سلسلہ میں حرف ِآخر کہ سرور کائنات علیہ الصلاۃ والسلام کا وہ اعلان ہے جسے برسرعام شریعت کی بالا دستی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُقِيمُونَ الْحَدَّ عَلَى الْوَضِيعِ، وَيَتْرُكُونَ الشَّرِيفَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ فَاطِمَةُ فَعَلَتْ ذَلِكَ لَقَطَعْتُ يَدَهَا "۔جب خیر القرون میں کسی شخص کو شریعت سے بالا نہیں سمجھا گیا تو آج بھی اہل بیت اطہار کو یہ اجازت نہیں ہو گی کہ وہ خود کو اس دائرہ سے باہر سمجھیں۔ یہاں پر باغیان تو قابلِ التفات ہی نہیں جو فخریہ ہذیان بکتے ہیں کہ ہمیں شرع سے کیا تعلق ؟؟؟ اور شریعت سیدوں کے گھر کی ہے!!! یا اس قسم کے دیگر کلمات جن میں شریعت سے بالا دستی مراد ہو اور کھلم کھلا نماز ،روزہ کا انکار کرتے ہیں۔ہماری رُودادِ سخن ان کی طرف متوجہ ہے جن کے عمل سے کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ شریعت سے بالا تر ہیں اللہ کریم ان کو بھی ہم کو بھی ہدایت عطا فرمائے !!!
عارف باللہ ابو بكر محمد بن ابی اسحاق المعروف كلاباذی (المتوفى: 380ھس) کی صوفیائے کرام اور تصوف پر لکھی گئی مستند و معتمد کتاب جس کے بارے کہا گیا کہ: (لو لاالتعرف لماعرف لمذہب اہل التصوف ) کے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں: "أَجمعُوا أَن جَمِيع مَا فرض الله تَعَالَى على الْعباد فِي كِتَابه وأوجبه رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فرض وَاجِب وحتم لَازم على الْعُقَلَاء الْبَالِغين لَا يجوز التَّخَلُّف عَنهُ وَلَا يسع التَّفْرِيط فِيهِ بِوَجْه من الْوُجُوه لأحد من النَّاس من صديق وَولي وعارف وَإِن بلغ أَعلَى الْمَرَاتِب وَأَعْلَى الدَّرَجَات وأشرف المقامات وَأَرْفَع الْمنَازل وَأَنه لَا مقَام للْعَبد تسْقط مَعَه آدَاب الشَّرِيعَة من إِبَاحَة مَا حظر الله أَو تَحْلِيل مَا حرم الله أَو تَحْرِيم مَا أحل الله أَو سُقُوط فرض من غير عذر"۔ ترجمہ:صوفیائے کرام کا اس پر اجماع ہے کہ جو احکامات اللہ تعالی نے بندوں پر اپنی کتاب میں فرض کیے اور جن احکامات کو رسول اللہ ﷺ نے واجب کیا وہ عاقلوں بالغوں پر فرض واجب ،حتمی اور لازم ہیں، ان سے روگردانی کسی کے لیے بھی جائز نہیں، نہ ہی اس میں کسی طرح کی تفریط جائز ہے خواہ وہ صدیق ہو ولی ہو یا کوئی عارف ،اگرچہ وہ کتنے ہی بڑے مرتبے،اعلی درجے، معزز ترین مقام، ارفع منزل پر پہنچا ہوا ہو ،کسی بندے کے لیے کوئی ایسا مقام نہیں کہ جس پر فائز ہو کر اس سے آدابِ شریعت ساقط ہو جاتے ہوں مثلاًاس چیز کا مباح ہو جانا جسے اللہ نے ممنوع کیا ،یا اس چیز کا حلال ہو جانا جسے اللہ نے حرام کیا یا جسے اللہ نے حلال فرمایا وہ اس کے لیے حرام ہو جائے یا بغیر کسی عذر کے فرض کا ساقط ہو جانا۔(التعرف لمذهب أهل التصوف صفحہ : 63)
عام لوگوں کے مقابلے میں مقربینِ بارگاہ کو زیادہ احتیاطیں کرنی پڑتی ہیں کہ حسنات الابرار سیئات المقربین۔یہ ہستیاں دھاری دھار تلوار پر چل رہی ہوتی ہیں، معمولی سی غفلت سے ،زلتِ قدم سے پکڑ کا باعث بن جاتا ہے۔ وعدہ آسان ہے، وعدے کی وفا مشکل ہے جن کے رُتبے ہیں سِوا، اُن کو سِوا مشکل ہے خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہر ایسا جملہ جو مختلف معنی رکھتا ہو(جیسا کہ صورت مسؤولہ )جس کے تمام معانی اپنے اپنے مقام پر سمجھے جاتے ہوں اور ان میں صحیح و غلط دونوں معنی شامل ہوں جن کا استعمال برابر (صحیح و غلط)ہو یا غلط معنی غالب طور پر استعمال ہوتا ہو ایسے جملے کا استعمال شرعاً ممنوع ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:4 رجب المرجب 1444 ھ/27 جنوری 2023ء