سوال
محفل سماع میں پڑھا جانے والے اس شعر ’’تصویر محمد عربی دی رب آپ بنا کہ لٹیاگیا ، سوہنے دی سوہنی صورت تے اک چاتی پا کے لٹیا گیا کے متعلق شرعی رہنمائی فرمائیں کہ یہ شعر پڑھنے والے ، سننے والے ، اور سُن کر اس پر راضی رہنے والے اور محفل کا انعقاد کرانے والے بعد میں اس جملے کا دفاع کرنے والے کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟
سائل: محمد رمضان صادق آباد رحیم یارخان ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ شعر ذاتِ باری تعالیٰ کے شایانِ شان نہیں بلکہ ایسے معانی پر مبنی ہیں جو حرام حرام اشد حرام ہیں۔اسے پڑھنا ہرگز جائز نہیں۔اسے سمجھ کر پڑھنے والے،سننے والے،سن کر راضی رہنے والے اور جملے کا دفاع کرنے والوں پر تجدید ایمان، تجدید نکاح اور تجدید بیعت لازم ہے۔
خدائے برحق کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ لٹ گیا ،اس کا کوئی بھی حقیقی معنی شان الوہیت کے مطابق نہیں ۔اگر فریفتہ کا معنی لیں تو وہ بھی یہاں مفقود ہے کہ فریفتہ کا مطلب شدت محبت میں بے قرار ہوجانا ہے،یہ لفظ اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی کی چاہت میں محبّ کا سب کچھ برباد ہوجائے،ذلیل و خوار ہوجائے اور رب تعالی کی جناب میں ان معنوں کا استعمال کفر ہے کہ باری تعالی آباد ہے آباد کرنے والا ہے،عزتوں والا ہے اور عزت بخشنے والا ہے۔ہاں مجازی معنی یہ ہے کہ اس سے شدید محبت کا اظہار ہےجو کہ کفری معنی نہیں۔البتہ جملہ بہرحال کفریہ ہے۔نیز اس مصرع سے یہ معنی بھی مفہوم ہوتا ہے کہ معاذ اللہ! اللہ عزوجل کو معلوم نہ تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر بنا کر میرا کیا حال ہوگا،اسی لئے جب تصویر بنالی تو اس غیر متوقع نتیجہ پر لٹ گیا ،نعوذ باللہ ۔ اسی طرح اللہ عزوجل کیلئے ’’چاتی پانے‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا جس کا معنی جھانک کر دیکھنا ہے اور جھانکنا جسم کے عوارضات ہیں جبکہ رب تعالی جسم اور اسکے عوارضات سےپاک ہے۔اللہ تعالی کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال کرنا جن کا معنی اللہ تعالی کے لیے ناممکن ہو ممنوع ہیں، البتہ ایسے الفاظ جن کا ذکر قرآن و حدیث میں آیا ہو ان کو رب تعالیٰ کیلئے استعمال کرنے میں حرج نہیں ہے۔
دلائل و جزئیات:
رب تعالی حی و قیوم ہے، سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہوا: اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ.ترجمہ:اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا۔(البقرۃ:255)
رب تعالی ہی حیات دینے والا ہے،سورۃ المؤمنون میں آیا:وَہُوَ الَّذِی یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ.ترجمہ: اور وہی جِلائے اور مارے۔
( المؤمنون: 80)
تمام عزتیں رب تعالی ہی کی ہیں:لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ.ترجمہ:اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا۔
(آل عمران:6)
رب تعالی ہی عزت دینے والا ہے،ارشاد ہے: وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ.ترجمہ:جسے چاہے عزت دے۔(آل عمران:26)
مفتی شریف الحق امجدی (المتوفی:1421ھ) فرماتے ہیں:’’اللہ عز وجل کو فدائے محمد کہنا کفر ہے۔ فدا کے اصل معنی ہیں اپنی جان دے کر کسی کو بچانا ۔ اللہ تعالیٰ حی قیوم ہے، اس کے لیے موت نہیں۔ نیز جان دے کر دوسرے کو اس وقت بچایا جاتا ہے جب کہ جان بچانے والا کسی اور ترکیب سے جان بچانے سے عاجز ہو۔ اور اللہ تعالیٰ معجز ہے اسے عاجز ماننا کفر ہے۔ اور شیدائے محمد کہنا بھی جائز نہیں کہ اس میں معنی سوء کا احتمال ہے۔ شیدا کا معنی آشفتہ ، فریفتہ ، مجنون عشق میں ڈوبا ہوا، عاشق ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے منزہ ہے‘‘۔(فتاوی شارح بخاری،1/141، مکتبہ برکات المدینہ کراچی)
لزوم و التزام کفر کے متعلق صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’اقوال کفریہ دو قسم کے ہیں (۱) ایک وہ جس میں کسی معنیٔ صحیح کا بھی اِحتِمال (یعنی پہلو) ہو(۲) دوسرے وہ کہ اس میں کوئی ایسے معنیٰ نہیں بنتے جو قائل کو کُفر سے بچاوے ۔ اِس میں اوّل کو لزوم کفر کہا جاتا ہے اور قسم دوم کو التزام کفر۔لزوم کفرکی صورت میں بھی فقہائے کرام( رحمہم اللہ السلام)نے حکم کفر دیا مگر متکلمین (رحمہم اللہ المبین) اس سے سکوت کرتے (یعنی خاموشی اختیار فرماتے )ہیں ۔ اور فرماتے ہیں جب تک التزام کی صورت نہ ہو قائل کو کافر کہنے سے سکوت کیا جائیگا اور احوط(یعنی زیادہ محتاط) یہی مذہب متکلمین (رحمہم اللہ المبین)ہے‘‘۔(فتاوی امجدیہ ،4/512-513،مکتبہ رضویہ کراچی)
خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"مُجَرَّدُ إيهَامِ الْمَعْنَى الْمُحَالِ كَافٍ فِي الْمَنْعِ عَنْ التَّلَفُّظِ بِهَذَا الْكَلَامِ".ترجمہ :ایسے الفاظ جن کا معنی اللہ کے لیے محال (ناممکن) ہو ان کا صرف وہم، ان کلمات کے تلفظ کی ممانعت کے لئے کافی ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل فی البیع،6/395، دار الفکر)
اللہ عزوجل کیلئے ممنوعہ الفاظ استعمال کرنے والے کے متعلق شیخ الاسلام احمدبن محمد بن علی بن حجر ہیتمی الشافعی (المتوفی:974 ھ) فرماتے ہیں: "لو قال: وصلت إلى رتبة خلصت من رقية النفس وعتقت منها فإنه لا يكفر لكنه مبتدع مغرور، وكذا لو قال: أنا أعشق الله أو يعشقني، والعبارة الصحيحة: أحبه ويحبني".ترجمہ:اگر اس نے کہا: میں ایسے مقام پر پہنچ گیا کہ میں غمِ جان سے آزاد ہو گیا، یہ کہنے سے اس کی تکفیر تو نہیں کی جائے گی، لیکن وہ مُبْتَدِع ہے (اور) فریبِ نفس میں مبتلا ہے۔ اسی طرح اگر کہا: ''میں اللہ کا عاشق ہوں یا وہ مجھ سے عشق فرماتا ہے‘‘ (تو مبتدع ہے)، (اللہ تعالیٰ سے اظہارِ محبت کے لیے) صحیح الفاظ یہ ہیں: ''میں اللہ سے محبت کرتا ہوں اور وہ مجھ سے محبت فرماتا ہے۔(اعلام بقواطع الاسلام،ص:204،دار التقوی سوریا)
علامہ سلیمان بن عمر عجیلی شافعی (المتوفی:1204ھ) فرماتے ہیں:"فَلَا يَجُوزُ أَنْ يُقَالَ فِي اللَّهِ تَعَالَى عَاشِقٌ وَلَا مَعْشُوقٌ بَلْ يُعَزَّرُ قَائِلُهُ".ترجمہ:اللہ تعالیٰ کی ذات کو عاشق اور معشوق کہنا جائز نہیں ہے، بلکہ ایساکہنے والے کو سزا دی جائے گی (یعنی یہ ذات باری تعالیٰ کے شایانِ شان نہیں ہے)۔(حاشیۃ الجمل علی شرح المنہج،کتاب الجنائز،فصل فی صلاۃ المیت،2/194،دار الفکر)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:24 محرم الحرام 1445 ھ/31 جولائی 2024ء