سوال
میرے والد صاحب کی قبر جو 35 سال سے پکی بنی ہوئی تھی تعویز کچی تھی اس کی دیکھ بھال میں خود کرتا تھا اور گورگن کو بھی مقرر کیاہوا تھا جو صفائی و ستھرائی کے لیے مہینہ میں جاتا تھا جس کا مہنتانہ گور گن کو ہدیہ کرتا تھا،کرتا رہا ہوں لیکن آج مورخہ 29 جولائی 2024ءکو گیاتو دیکھا اس کو مسمار کر کے اس میں 25 جو لائی 2024ء کو کسی کی تدفین کر دی گئی ہے معلومات کرنے پر پتہ چلا (گورگن نے بتایا ) جو میرے نام سے اس قبر کی دیکھ بھال کرتے تھے ان کا انتقال ہو گیا ،میت ان کی ہے تدفین کر دی گئی جبکہ وہ میرے چھوٹے بھائی کی تھی جسکے انتقال کی خبر خاندان میں کسی کو نہ دی گئی ،یہ سب کام بھائی کی بیگم اور بچوں نے غلط بیانی سے کیا ،جبکہ میں بفضله تعالی بخیر و عافیت حیات ہوں ،آج میں فاتحہ پڑھنے گیا تو یہ صورت حال سامنے آئی جسکی مجھے بہت تکلیف ہو ئی ،اس وقت بہت ذہنی اذیت میں مبتلا ہوں۔ سائل: فخر عالم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صور ت مسئولہ کا جواب یہ ہے کہ جو والد صاحب کی قبر تھی اس کو مسمار کرکے اس میں کسی اور کی تدفین کردی گئی ایسا کرنا، ناجائز ،سخت گناہ اور حرام ہے، اس میں صاحب قبر کی سخت بے حرمتی اوراس کو تکلیف دینا ہے ، کہ جس سے زندوں کو ایذا ہوتی ہے اس سے مردہ بھی ایذا پاتے ہیں ، جب قبرپرچلنا،پاؤں رکھنا،اس پربیٹھنا،اس پرراستہ بنانا ، جائزنہیں، تواس کو مسمار کر کے اس میں کسی اور کی تدفین کیونکرجائزہوسکتی ہے ۔
آپ کے بارے میں گور گن سے جھوٹ بولا گیا کہ آپ وفات پا گئے ہیں اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ آپ کی میت ہے، حالانکہ اصل میں یہ میت آپ کے چھوٹے بھائی کی تھی ،یہ جھوٹ اور د ھوکہ ہے جوکہ ناجائز اور سخت گناہ ہے, واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی اور جھوٹ بولنے پر شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو مسلمان کی شان کے خلاف بتایا ہے، اور فرمایا کہ مومن ہر خصلت پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے"۔ایک اور روایت میں جھوٹ بولنے کو منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ بہرحال آپ کے بھائی کی تدفین تو ہوگئی یہ جائز نہیں کہ اس کو قبر کو کھولا یا مسمار کیا جائے۔
دلائل وجزئیات :
مسلمان کی قبرپرچلنے کے بارے حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی اکرم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:”لان امشی علی جمرۃ اوسیف احب الی من ان امشی علی القبرترجمہ : میں انگارے یا تلوار پر چلوں یہ میرے نزدیک اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں (کسی مسلمان کی ) قبر پر چلوں۔(سننن ابن ماجہ ،باب ما جاء فی النہی عن المشی علی القبور،جلد:،صفحہ:)
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعود رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں" لان اطاء على جمرة احب الى من ان اطاء على قبر مسلمرواه الطبراني في الكبير باسنا د حسن قاله امام عبد العظيم ۔ ترجمہ :بے شک مجھےآگ پر پاؤں رکھنا زیادہ پیارہ مسلمان کی قبرپر پاؤ ں رکھنے سے ،اسے طبرانی نے معجم کبیر میں بسند حسن روایت کیا ،جیسا کہ عبد العظیم نے کہا ۔(الترغیب و الترہیب ، الترہیب من الجلوس علی القبر،جلد:۴صفحہ:۳۷۲،مصطفی البانی مصر)
اعلیٰحضرت عظیم البرکت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" جب حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبر پر بیٹھنے اور اس سے تکیہ لگانے اور مقابر میں جوتا پہن کر چلنے والوں کو منع فرمایا اور علماء نے اس خیال سے کہ قبور پر پاؤں نہ پڑے ، گورستان میں جو راستہ جدید نکالا گیا ہو، اس میں چلنے کو حرام بتایا او رحکم دیا کہ قبر پر پاؤں نہ رکھیں ،بلکہ اس کے پاس نہ سوئیں، سنت یہ ہے کہ زیارت میں بھی وہاں نہ بیٹھیں ،بلکہ بہتریہ ہے کہ بلحاظِ ادب پاس بھی نہ جائیں، دور ہی سے زیارت کرآئیں ۔ اور تصریح فرمائی کہ مسلمان زندہ ومردہ کی عزت برابر ہے او رجس بات سے زندوں کو ایذا پہنچتی ہے مُردے بھی اس سے تکلیف پاتے ہیں ا ور انہیں تکلیف دینا حرام ، تو خود ظاہر ہوا کہ یہ فعل مذکور فی السوال کس قدر بے ادبی و گستاخی وباعث گناہ اور استحقاق عذاب ہے۔ جب مکان سکونت بنایا گیا تو چلنا پھرنا، بیٹھنا لیٹنا، قبورکو پاؤں سے روندنا ، ان پر پاخانہ ، پیشاب ، جماع سب ہی کچھ ہوگا اور کوئی دقیقہ بے حیائی اور اموات مسلمین کی ایذا رسانی کا باقی نہ رہے گا۔ (فتاوٰی رضویہ ،جلد9، صفحہ453،رضافاؤنڈیشن ،لاہور)
فتاوی رضویہ شریف میں قبروں کے مسمار کرکے مسجدبنانے کے حوالے سے امام اہلسنت اعلحضرت الشاہ احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن تحریرفرماتے ہیں:”یہ حرکت شنیعہ ہمارے ائمہ کے اجماع سے ناجائز و حرام ہے۔ توہین قبور مسلمین ایک اور قبور پر نماز کا حرام ہونا دو۔کہاں قبر کی بلندی کہ حدِ شرعی سے زائد ہو اس کے دور کرنے کا حکم او رکہاں یہ کہ قبور مسلمین مسمار کرکے ان پر چلیں، اموات کو ایذا دیں۔ (فتاوی رضویہ ،جلد9،صفحہ428،رضا فاونڈیشن ،لاہور)
ایک قبر میں دو مردوں کو دفن کرنے کے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے " ولا يدفن اثنان أو ثلاثة في قبر واحد إلا عند الحاجة۔ ترجمہ :دو یا تین مردوں کو ایک قبر میں دفن نہیں کیا جائے گا مگر ضرورت وقت۔( كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز،جلد:۱،صفحة:۱۶۶،دار الفکر بیروت )
جھوٹ کے متعلق رسول خدا صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان " عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب.ترجمہ:حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مومن میں تمام خصلتیں ہو سکتی ہیں، سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔( كتاب الإيمان، باب ما جاء أن الصدق من الإيمان،جلد:۱،صفحة:۹۲،دارلکتب القاهرہ)
بخاری شریف میں فرمان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم ہے "عن عبد الله بن عمرو ،عن النبي صلی اللہ علیہ و سلم قال: أربع من كن فيه كان منافقا، أو كانت فيه خصلة من أربعة كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر۔ ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "چار باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں گی یا ان چا ر میں سے ایک پائی جائے ، تو اس میں نفاق کی ایک صفت پائی گئی، یہاں تک کہ وہ اسے ترک نہ کرے: جب بات کرے تو جھوٹ بولےگا، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرےگا، جب معاہدہ کرے تو بدعہدی کرےگا ، اور جب جھگڑا کرے تو گالم گلوچ پر اتر آئےگا۔( كتاب المظالم،باب إذا خاصم فجر،جلد:۲،صفحة:۸۶۸،دار ابن کثیر)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتـــــــــــــــــــــــــــــبه:محمّد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:02صفر المظفر1446 ھ/08اگست 2024ء