سوال
ہم میاں بیوی کے درمیان لڑائیچل رہی تھی کہ بیو ی بار بار اصرار کر رہی تھی کہ مجھے اپنے والدین کے گھر جاناہے اور بار بار مجھ سے کہہ رہی تھی کہ مجھے طلاق دے دیں ۔تو میںٹالنے کے لیے کہا کہ چلو میں طلاق دے ہی دیتا ہوں !اوراس جملے سے نیت یہ تھی کہ ابھی رات کافی ہو چکی ہے صبح طلاقدے دوں گا ۔۔پھر صبح جب اٹھے تو سب نارمل ہو گیا تھا یہاں تک کہ میں نے بیوی کو طلاق نہیں دی ۔
بیوی کا بیان :شوہر نے اس وقت یہ الفاط کہے تھے کہ چلو پھر میں طلاق دے ہی دیتا ہوں۔
نوٹ: سائل نے درج بالابیان حلفیہ تحریر کیا کہ اس جملہ سےمیری مرادیہ تھی صبح طلاق دے دوں گا ۔ابھی کسی طرح یہ بہل جائے۔سائل نے اس سے پہلے زندگی میں کبھی طلاق نہیں دی ۔
سائل:سید حسین المہروز
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگرمعاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہسوال میں ذکر کیا گیا کہ شوہر کی اس جملہ سے نیت طلاق کی نہ تھی بلکہ مستقبلمیں ارادۂِ طلاق کی تھیتو ایسی صورت میںاس جملہ سے طلاق واقع نہیں ہوئی کہ ارادۂطلاق طلاق نہیںلہذا مذکورہ خاتونبد ستور آپ (سید حسین )کے نکاح میں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:لوقال بالعربیۃ اطلق لایکون طلاقا الااذا غلب استعمالہ للحال فیکون طلاقا۔ترجمہ: گر عربی میں مضارع (اطلق)کہا تو طلاق نہ ہوگی، مگر جب یہ لفظ غالب طور پر حال کے لئے استعمال ہوتا ہو توطلاق ہوجائے گی۔( فتاوٰی ہندیہالفصل السابع فی الطلاق جلد 1 صفحہ384)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:22ربیع الاول ا1444 ھ/19اکتوبر 2022 ء