دوران سفر شوہر کے انتقال پر بیوی كی عددت کا حکم
    تاریخ: 19 نومبر، 2025
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 175

    سوال

    زید جس کی دائمی سکونت کراچی کی ہے ،وہ اپنی بیوی کے ہمراہعلاج کی غرض سے اپنے رشتہ داروں کے ہاں چیچہ وطنی میں آیا ۔اور قضائے الہی سے زیدکا یہیں (چیچہ وطنی) پہ انتقال ہو گیا ۔ابمسئلہ یہ ہے کہ زید کی بیوی کی عدت کہاں کرے گی کراچی میں آ کے کرے گی یا چیچہ وطنی میں کرے گی؟ ۔زید کے چیچہ وطنی میں رشتہ دار ہیں وہاں عدت کرنے میں اس کو تحفظ بھی ہے ،نیز زید کا بیٹا چیچہ وطنی سے 20 کلو میٹر کے فیصلے پر نوکری کرتا ہے ۔

    اس مسئلہ کے حوالے سے مختلف اہل علم سے پوچھا کوئی کہتے ہیں کہ کراچی آکر کرے گی جبکہ کسی نے کہا کہ چیچہ وطنی کرے گی !!مہربانی فرما کر دلائل کے ساتھ مسئلہ کاحل ارشاد فرما دیں !!

    سائل:عبد اللہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    دین متین میں عدت کے حوالے سے اصل ضابطہ یہ ہے کہ عدت بیوی شوہر کے گھر کرے گی (خواہوہ عدت طلاق کی ہو یا وفات کی)۔لیکن چند صورتیں ایسیہیں جن میں عورت کو رخصت دی گئی ہے کہ وہعدت شوہر کے گھر کے علاوہ والدین کے گھر بھی گزار سکتی ہے۔

    مثلاً

    1:۔ شوہر کے گھرعدت گزارنے میں جان و مال کا تحفظ نہیں یا عزت کے بے آبروہونے کا خطرہ ہے ۔

    2:۔ شوہر یا اس کے گھروالوں نے گھر سے زبردستی نکال دیا ۔

    3:۔ شوہر کا گھر رینٹ کا تھا اس کے انتقال کے بعد اتنے وسائل نہیںکہ گھر کاکرایہ دے سکے۔

    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہمشیرہ حضرت فریعہ بنت مالک کے شوہرکواُ ن کے غلاموں نے قتل کرڈالاتھا،وہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کرتی ہیں کہ مجھے میکے میں عدت گزارنے کی اجازت دی جائے کہ میرے شوہرنے کوئی اپنامکان نہیں چھوڑااورنہ خرچ چھوڑا۔اجازت دیدی پھربُلاکرفرمایا:” امکثی فی بیتک حتی یبلغ الکتاب اجلہ قالت فاعتددت فیہ اربعۃ اشھروعشرا “ اُسی گھرمیں رہوجس میں رہتی ہو،جب تک عدت پوری نہ ہو۔حضرت فریعہ فرماتی ہیں : پھرمیں نے اسی گھرمیں چارماہ دس دن عدت گزاری۔‘‘(جامع ترمذی ، ابواب الطلاق ،باب ماجاء این تعتدالمتوفی عنھازوجھا ، جلد1 ، صفحہ359، مطبوعہ لاهور)

    الاختیار میں ہے :’’وتعتد في البيت الذي كانت تسكنه حال وقوع الفرقة إلا أن ينهدم أو تخرج منه أو لا تقدر على أجرته فتنتقل “ یعنی عورت عدت اُسی گھر میں گزارے گی جس میں ِفرقت کے وقت رہ رہی تھی ، ہاں اگر وہ (گھر )منہدم ہوجائےیا اُسے گھر سے نکال دیا جائے یا وہ کرائے کا مکان ہے مگر یہ اُس کی اجرت دینے پر قادر نہیں تو معتدہ (ان صورتوں میں اس گھر) سے دوسرے گھر منتقل ہو سکتی ہے۔(الاختیار جلد2،صفحہ227 ،مطبوعہ پشاور)

    صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:موت یافُرقت کے وقت جس مکان میں عورت کی سکونت(رہائش)تھی اُسی مکان میں عدت پوری کرے اوریہ جوکہاگیاہے کہ گھرسے باہرنہیں جاسکتی اس سے مراد یہی گھرہے اوراس گھر کو چھوڑ کر دوسرے مکان میں بھی سکونت نہیں کرسکتی مگربضرورت آج کل معمولی باتوں کوجس کی کچھ حاجت نہ ہومحض طبیعت کی خواہش کوضرورت بولاکرتے ہیں وہ یہاں مرادنہیں بلکہ ضرورت وہ ہے کہ اُس کے بغیرچارہ نہ ہو۔(ملخص از بھارشریعت حصہ8،ج2 ، ص245، مکتبۃ المدینہ ، باب المدینہ کراچی )

    اگر دورانِ سفر شوہر کا انتقال ہو جائے تو بیویکے حق میں مقام ِ عدت کیا ہو گا ؟استقرائی اعتبار سے اس کی تین صورتیں ہیں:

    پہلی صورت

    ا گر شوہر کا انتقال دورانِ سفر ایسی جگہ ہوا جہاں سے جائے سکونت اور منزل ِمقصود دونوں ہیمدت سفر سے کم پر ہیں۔مثلاً کراچی کا رہائشی حیدر آبا جا رہا ہے راستے میں انتقال ہو جاتاہے جہاں سے کراچی اور حیدرآباد دونوں ہی مدتِ سفر (92 کلو میٹر)سے کم مسافت پرہیں ۔

    حکم:

    معتدہ کو اختیار ہے جہاں چاہے (کراچی یا حیدار آباد)عدت کرے ،جس مقام پر پہنچی وہ شہر ہو یا دیہات۔اور اگر لوٹتی ہے تو ساتھ محرم کا ہونا بھی شرط نہیں کہ یہ مدتِ مسافت شرعی سے کم پر ہے۔لیکن افضل یہ ہے کہ لوٹ جائے تاکہ شوہر کے گھر عدت کرے اس لیے کہ یہ حکم قرآنی( اسکنوھم من حیث سکنتم )کے عین مطابقہے۔

    دوسری صورت

    دونوں (جائے سکونت و منزل ِمقصود )مسافتِ سفر (92 کلو میٹر) پر ہیں۔

    حکم:

    اس کی تفصیل یہ ہے کہ :

    1:۔ جہاں انتقال ہوا وہ جگہ جنگل یا دیہات ہے تو اسے اختیار ہے یہاں سے منزل مقصود کی طرفچلی جائے یا جائے سکونت کی طرف لوٹ آئے خواہ محرم ساتھ ہو یا نہ ہو ۔البتہ لوٹنا بہتر ہے کہ اس میں تحفظ زیادہ ہے۔

    2:۔اگر وہ مقام(جہاں انتقال ہو ا) شہر ہے تو پھر جائے سکونت کی طرف جانے کے لیے محرم کا ہونا ضروری ہے بغیر محرم کے سفر نہیں کر سکتی۔۔

    حکم کی دوسری صورت میں اختلافِ ائمہ:

    امام صاحب کے نزدیک اگر محرم ساتھ ہو پھر بھی سفر کرنے کی اجازت نہیں آپ علیہ الرحمہ کا یہی قول اظہر ہے،جبکہ صاحبین کے نزدیک اجازت ہے اور یہی قول امام صاحب سے بھی مروی ہے لیکن اظہر وہی پہلا قول ہے ۔

    تیسری صورت

    جائے سکونت و منزل ِمقصود میں سے کوئی ایک مدت ِسفر پر ہے جبکہ دوسرا نہیں۔

    حکم:

    جو شرعی مسافت سے کم مدت پر ہے اسے اختیار کرنا ہو گا ۔

    نوٹ :یاد رہے کہ ان تمام صورتوں میں حالتِ اقامت کی تمام استثنائی صورتیں اپنی علل و اسباب کے ساتھ جاری ہوں گی۔

    شوہر کے حالتِ سفر میں انتقال کرنے صورت میں بیوی کا مقام ِ عدت کیا ہو گا اس حوالے سے فتاوی ہندیہ میںہے: طَلَّقَهَا بَائِنًاأَوْ ثَلَاثًا أَوْ مَاتَ عَنْهَا وَبَيْنَهَا وَبَيْنَ مِصْرِهَا وَمَقْصِدِهَا أَقَلُّ مِنْ السَّفَرِ إنْ شَاءَتْ مَضَتْ، وَإِنْ شَاءَتْ رَجَعَتْ سَوَاءٌ كَانَتْ فِي الْمِصْرِ أَوْ غَيْرِهِ مَعَهَا مَحْرَمٌ أَوْ لَمْ يَكُنْ إلَّا أَنَّ الرُّجُوعَ أَوْلَى لِيَكُونَ الِاعْتِدَادُ فِي مَنْزِلِ الزَّوْجِ، وَإِنْ كَانَ أَحَدُ الطَّرَفَيْنِ سَفَرًا وَالْآخَرُ دُونَهُ اخْتَارَتْ مَا دُونَهُ، وَإِنْ كَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا سَفَرًا، فَإِنْ كَانَتْ فِي الْمَفَازَةِ مَضَتْ إنْ شَاءَتْ أَوْ رَجَعَتْ بِمَحْرَمٍ أَوْ غَيْرِ مَحْرَمٍ وَلَكِنَّ الرُّجُوعَ أَوْلَى، فَإِنْ كَانَتْ فِي مِصْرٍ لَمْ تَخْرُجْ بِغَيْرِ مَحْرَمٍ، وَإِنْ كَانَ مَعَهَا مَحْرَمٌ لَمْ تَخْرُجْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - وَقَالَا: تَخْرُجُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - أَوَّلًا وَقَوْلُهُ الْآخَرُ أَظْهَرُ ۔ترجمہ :شوہر نے بیوی کو بائن یا مغلظطلاق دے دی ،یا شوہر فوت ہو گیا اس حال میں کہ معتدہ ،اس کے شہر اور منزلِ مقصود کے مابین مسافت شرعی نہیں تو اسے اختیار ہے یہاں سے گزر جائے(یعنی منزل مقصودچلی جائے) یا اپنے شہر کی طرف لوٹ آئے خواہ( فی الوقت ) جس جگہ ہے وہ شہر ہو یا نہ ہو،محرم ساتھ ہو یا نہ ہو ،تاہم لوٹنا افضل ہےتاکہ شوہر کے گھر میں عدت گزار سکے۔ اور اگرطرفین (جائے سکونت اور منزل مقصود)میں سےصرف ایک مسافتِ سفر پر ہو ،دوسرا نہ ہوتو جو مسافت شرعی سے کم اسے اختیار کرے گی۔اور اگر دونوں ہی مسافت شرعی پر ہوں تو( پھر دیکھا جائے گا کہ جس مقام پہ شوہر کی وفات ہوئی )وہجنگل دیہات ہے تو اسے اختیار ہے یہاں سے گزر جائے (یعنی منزل مقصود کی طرف چلی جائے ) یا اپنے شہر لوٹ جائے بھلے ساتھ محرم ہو یانہ ہو لیکن لوٹنا اولی ہے ۔اور اگر وہ جگہ شہرہے تو پھر بغیر محرم کے نہیں نکلے گی جبکہ امام اعظم علیہ الرحمہکے نزدیک اگر چہ ساتھ محرم ہو پھر بھی نہیں نکل سکتی اور صاحبین کے نزدیک نکلے گی یہی امام اعظم کاپہلا قول تھا جبکہ آپ کا آخری قول اظہر ہے۔( الفتاوى الهندية،جلد 1صفحہ 536)

    خلاصہ کلام :

    شوہر کا انتقالدورانِ سفر سرِ راہ نہیں ہوا بلکہ منزلِ مقصود (چیچہ وطنی ) پر ہوا ۔اور یہ صورت سفر کی تیسری صورت( جائے سکونت و منزل ِمقصود میں سے کوئی ایک مدت ِسفر پر ہے جبکہ دوسرا نہیں۔۔حکم : جو شرعی مسافت سے کم مدت پر ہے اسے اختیار کرنا ہو گا) سے بھی خاص ہے کہ یہاں پر خاتون منزل ِمقصود پر پہنچ چکی ہے ،لہذا خاتون پر لازم ہے کہ چیچہ وطنی میں ہی اپنی عدت مکمل کرے جب تک کہاستثنا کی صورتوں میں سے کسی صورت کا تحقق نہیں ہو جاتا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:22ربیع الاول ا1444 ھ/19اکتوبر 2022 ء