Warasat Mein Mojood Shares Ki Taqseem
سوال
میرے بڑے ماموں کا انتقال 2014ء میں ہوا ان کی شادی نہیں ہوئی تھی اور ان کی اولاد بھی نہیں تھی ان کی وراثت میں سے میری والدہ صاحبہ کے حصے میں کچھ شیئرز آئے ان آنے والے شیئرز کے لیے سنٹرل ڈپازٹری کمپنی (سی ڈی سی )میں میری والدہ صاحبہ اور ان کی تین بیٹیوں کے نام ایک مشترکہ کھاتہ کھولا گیااور میری والدہ کے شیئرز براہ راست اسی مشترکہ کھاتے میں منتقل کر دیے گئے ۔میرے والدکا انتقال 1995ء میں ہو چکا تھا بعد ازاں میری والدہ کا اپریل 2026ء میں انتقال ہو گیا میری والدہ کی اولادمیں صرف تین بیٹیاں اور کوئی بیٹا موجود نہیں میری والدہ کے انتقال کے وقت ان کی والدین ،شوہر،بھائی بہن یا کوئی دیگر شرعی وارث موجود نہیں تھابڑے بھائی کا انتقال پہلے ہو گیا تھا ان کی شادی نہیں ہوئی تھی چھوٹے بھائی کابھی پہلے انتقال ہوگیا تھااس کے ورثاء میں ایک بیٹا اور بیٹی ہیں ۔لہذا ہماری رہنمائی فرمائیں کہ مرحومہ والدہ کے حصے میں موجود شیئرز کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟ اور ہر وارث کا کتنا حصہ ہوگا؟۔
سائلہ:سلمی عمران
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ اس طرح ہے تو مرحومہ والدہ کے ترکہ کی شرعی تقسیم اس طرح ہوگی کہ امور متقدمہ علی الارث (مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالیں جائیں گے ،پھر اگر قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے گا ،کوئی جائز وصیت کی ہے تو اس کوتہائی مال سے پور اکیا جائے) کے بعد شیئرز کی موجودہ مارکیٹ ویلیو قیمت لگائی جائے گی پھر اس کے (9) حصے کیے جائیں گے جن میں میں سے تین بیٹیوں میں سے ہر ایک کے 2حصے ،بھتیجا کا 1 حصہ بھتیجی کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
بیٹیوں کے حصے کے متعلق ارشاد ہوا: فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ. ترجمہ:پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)
بھتیجا عصبہ میں سے ہے اس بارے فتاوی ہندیہ میں ہے :"وباقي العصبات ينفرد بالميراث ذكورهم دون أخواتهم وهم أربعة أيضا: العم وابن العم وابن الأخ وابن المعتق. ترجمہ : اور باقی عصبات میں مرد وارثین بغیر اپنی بہنوں کے اکیلے ہی وارث بنتے ہیں، اور یہ بھی چار ہیں: چچا، چچا کا بیٹا، بھائی کا بیٹا، اور آزاد کرنے والے کا بیٹا۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الفرائض، الباب الثالث في العصبات، ج:6، ص:451، دار الفكر بيروت )
بھتیجا اپنی بہن(بھتیجی) کو عصبہ نہیں کرتا اس بارے رد المحتار میں ہے:" أن ابن الأخ لا يعصب أخته. ترجمہ: بھائی کا بیٹا (یعنی بھتیجا) اپنی بہن کو عصبہ نہیں بناسکتا۔(رد المحتار،فصل فی العصبات، ج:6، ص:783،دار الفکر بیروت )
بھتیجی ذوی الارحام میں سے ہے اس بارے السراجی فی المیراث میں ہے:"والصنف الثالث ينتمي إلى أبَوَي الميت، وهم أولاد الأخوات وبَناتُ الإخوة وبنو الإخوة لأم.ترجمہ:ذوی الارحام کی تیسری قسم جو میت کے والدین کی طرف منسوب ہو وہ بہنوں کی اولاد اور بھائیوں کی بیٹیاں اور ماں شریک بہنوں کے بیٹے ۔(السراجی فی المیراث،باب ذوی الارحام،صفحہ:70،دعوت اسلامی)۔
عصبہ باقی مال لے گا،چنانچہ علامہ سراج الدین محمد بن عبد الرشید السجاوندی (المتوفی:600ھ) فرماتے ہیں:"والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال۔ ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے۔(السراجیۃ مع القمریۃ،ص 13،مکتبۃ المدینۃ کراچی)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمدسجاد سلطانی
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:29 محرم الحرام 1448 ھ/15 جولائی2026ء