قسم شرعی توڑنے کا حکم
    تاریخ: 31 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 16
    حوالہ: 492

    سوال

    میرا سوال یہ ہے کہ میرے بیٹے کی ایک لڑکی سے ناجائز دوستی ہے جوکہ ہمارے گھر ٹیوشن پڑھنے آتی تھی ، ستمبر 2018 میں اس لڑکی کے والد آئے اور انہوں میرے بیٹے سے قرآن پر ہاتھ رکھواکر قسم لی ، اور میرے بیٹے نے قسم کھالی اس کے الفاظ یہ تھے کہ میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتا ہوں کہ میں آئندہ کبھی اس لڑکی سے تعلق نہیں رکھوں گا ، اب یہ میری بہن کی طرح ہے ۔لیکن اس قسم کے باوجود یہ دونوں باتیں کرتے ہیں اور گھنٹوں باتیں کرتے رہتے ہیں ، جس کی وجہ سے ہم بہت پریشان ہیں اسکا کیا کفارہ ہے، مجھے قرآن سے بہت خوف آتا ہے ۔ برائے مہربانی مجھے اس بارے میں بتادیں۔

    سائلہ:سعدیہ: پشاور


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین رہے کہ قرآن کو اللہ کریم نے لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے نازل کیا گیا ہے نہ کہ قسم اٹھانے یا اپنے معاملات کے درمیان لانے کے لئے، قال اللہ تعالیٰ ذلک الکتاب لاریب فیہ ہدی للمتقین :ترجمہ : یہ وہ شان والی کتاب ہے جس میں شک کی گنجائش نہیں یہ پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے ۔(البقرہ: 2)

    دوسری جگہ ارشاد فرمایا : شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ہدی للناس :ترجمہ: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے۔(البقرہ:185)

    دوسری بات یہ ذہن نشین کریں کہ اسلام میں غیر مَحرَم مردوں اورعورتوں کا باہم مروّجہ محبتیں کرنا یا دوستیاں لگانا ایک بے ہودہ عمل ہے۔اس طرح کی ناجائز دوستی جس میں نامحرم لڑکی سے گپ شپ ہو ناجائز و حرام ہے،ان کے لیے حکم یہ ہے کہ آپس میں بغیر ضرورت شدیدہ شرعیہ کے بات نہیں کر سکتے۔حتٰی کہ غیر محرم نوجوان عورتوں کو سلام کا جواب زبان سے دینے سے بھی شریعت نے منع کیا ہے تو پھر کھلم کھلا گفتگو کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے؟فتاوٰی ہندیہ میں ہے:واذ ا سلمت المرأۃ الاجنبیۃ علی رجل ان کانت عجوزا ردالرجل علیھا السلام بلسانہ بصوت تسمع وان کانت شابۃ ردعلیھا فی نفسہ :ترجمہ: اور جب کوئی اجنبی عورت کسی مرد کو سلام کرے تو دیکھیں گے اگر عورت بوڑھی ہو تو مرد اسکے سلام کا زبان سے اتنی آوازسے جواب دے کہ وہ اسکی آواز سن لے اور اگر جوان ہو تو دل میں اسکے سلام کا جواب دے۔(فتاوٰی ھندیہ کتاب الکراہیۃ، جلد 5 ص 326)

    اب آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر کسی نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھالی تو وہ شرعا قسم ہوگی ۔تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے :''قَالَ الْکَمَال: وَلَا یَخْفَی أَنَّ الْحَلِفَ بِالْقُرْآنِ الْآنَ مُتَعَارَفٌ فَیَکُونُ یَمِینًا''ترجمہ : علامہ کمال نے کہا کہ قرآن کی قسم اب اس زمانے معروف ہے لھذا قرآن کی قسم کھانا قسم ہے۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الایمان جلد 3ص712)

    سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں :'' وقد تعورف الحلف بہ فکان کالحلف بعزتہ وعظمتہ وجلالہ ''ترجمہ:قرآن کی قسم کھانا متعارف ہے لہذا قرآن کے ساتھ قسم کھانا ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالی کی عزت ،عظمت اور جلال کی قسم کھانا۔( فتاویٰ رضویہ جلد 13ص575رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    لہذا اب ان پر قسم کا کفارہ لازم ہے ،اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کوکپڑے پہنائے یا غلام آزاد کرے ان تینوں میں سے جو چاہے کرسکتا ہے اگر ان میں سے کچھ نہیں کرسکتا یعنی اگر غلام آزاد کرنے یا10مِسکین کو کھانا یا کپڑے دینے پر قادِر نہ ہو توپے دَرپے (یعنی لگا تار) تین روزے رکھے۔

    قال اللہ تعالٰی فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ :ترجمہ: تو ایسی قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا دینا اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یااِنہیں کپڑے دینا یاایک بردہ(غلام) آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ۔(الانعام : 89)

    سیدی اعلٰی حضرت سے سوال کیا گیا : ایک شرابی نے نے چار گواہوں کے سامنے قراٰنِ کریم اُٹھا کر قسم کھائی کہ آیَندہ شراب نہ پیوں گا مگر پھر پی لی۔ آپ مفصلا جواب عنایت فرمانے کے بعد لکھتے ہیں:اگر اس نے قراٰن اٹھا کر قراٰن کے نام سے قسم کھائی یا اللہ تَعَالٰی کے نام سے قسم کھائی اور زبان سے ادا بھی کی ہو پھر قسم توڑدی ہے تو اس پر کفّارہ لازم ہے۔ اور اگراُس نے قراٰنِ مجید اٹھا کر قسم کھائی ہے اوربَہُت سخت مُعامَلہ ہے کہ قراٰن اُٹھا کر اُس نے اِس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پھر سے شراب نَوشی کی ہے جس سے قراٰنِ پاک کی توہین تک مُعامَلہ پہنچا۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد 13 ص 609، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    آپ کے بیٹے پر لازِم ہے کہ فوراً توبہ کرے اور اُس بُرے فِعل کو آیَندہ نہ کرنے کاپُختہ قَصد (یعنی پکّی نیّت) کرے ورنہ پھر اللہ تَعَالٰی کی طرف سے درد ناک عذاب اورجہنَّم کی آگ کا انتِظار کرے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:08 رمضان المبارک 1440 ھ/14 مئی 2019 ء