سوال
مقصوداں مائی بیوہ ہوئی تو اس کے تین بیٹے اکمل، اجمل اور افضل تھے ۔ مقصود اں مائی نے دوسرا نکاح کیا تو اس کی ایک بیٹی زہراں مائی پیدا ہوئی ۔ مقصود اں مائی نے زہراں مائی کا نکاح خلیل سے کر دیا ۔ جبکہ مقصود اں مائی کے بیٹے اکمل کی ایک بیٹی صغری مائی ہے اب خلیل جو کہ زہراں مائی کا شوہراور مقصود اں مائی کا داماد ہے ۔ مقصود اں مائی کی پوتی اکمل کی بیٹی صغری سے نکاح کرنا چاہتا ہے ۔ کیا یہ خلیل کا دوسرا نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ حالانکہ زہراں مائی پھو پھی ہے صغری مائی کی ،زہرہ بی بی ابھی بھی حیات ہیں سائل: قاری عبد الرحیم قادری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت کا جواب یہ ہےکہ زہرہ مائی اور صغری بی بی آپس میں پھوپی اور بھتیجی ہیں لہذا خلیل کا اکمل کی بیٹی صغری سے نکاح کرنا جائز نہیں کیونکہ مرد کا ایک ہی وقت میں پھوپی اور بھتیجی دونوں کو جمع کرنا حرام ہے ۔
دلائل و جزئیات:
پھوپی اور بھتیجی کا جمع کرنا منع ہے بارے رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک’’عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلي الله عليه و سلم نَهَى أَنْ تُزَوَّجَ المَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا ‘‘ ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اِس سے منع فرمایا کہ پھوپی کے نکاح میں ہوتے اُس کی بھتیجی سے نکاح کیا جائے یا بھتیجی کے ہوتے اُس کی پھوپی سے یا خالہ کے ہوتے اُس کی بھانجی سے یا بھانجی کے ہوتے اُس کی خالہ سے۔(سنن الترمذي، أبواب النكاح،باب ما جاء لا تنكح المرأة على عمتها ولا على خالتهاجلد:3،صفحۃ:424، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي)۔
اس بارے مججمع الانهر میں ہے ’’(وَ) يَحْرُمُ الْجَمْعُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ لَوْ فُرِضَتْ إحْدَاهُمَا ذَكَرًا تَحْرُمُ عَلَيْهِ الْأُخْرَى) سَوَاءٌ كَانَتْ لِنَسَبٍ، أَوْ رَضَاعٍ فَلَا يَجُوزُ الْجَمْعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَ‘‘ ترجمہ :دو عورتوں کوجمع کرنا اس طرح کہ ان دو میں سے ایک کو مرد فرض کریں تو اس پہ دوسری عورت حرام ہو جائے برابر ہے کہ یہ حرمت نسب کی وجہ سے ہو یا رضاعت کی وجہ سے تو پس عورت اور اس کی پھوپی کو جمع کرنا جائز نہیں ۔( مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، كتاب النكاح، باب المحرمات، جلد:1،صفحہ:325، دار إحياء التراث العربي)۔
پھوپھی اور بھتیجی کو ایک مرد کے نکاح میں جمع کرنا منع ہے اس بارے احمد بن محمد القدوري الحنفي فرماتے ہیں’’ ولا يجمع بين المرأة وبين عمتها وخالتها ولا ابنة أخيها ولا ابنة أختها ولا يجمع بين امرأتين لو كانت كل واحدة منهما رجلا لم يجز له أن يتزوج بالأخرى ولا بأس أن يجمع بين امرأة وابنة زوج كان لها من قبل‘‘ ترجمہ: اور (ایک مرد کے لیے جائز نہیں) کہ وہ ایک عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ (نکاح میں) جمع کرے، اور نہ ہی اس کی بھتیجی یا بھانجی کے ساتھ (نکاح میں) جمع کرے، اور نہ ہی دو ایسی عورتوں کو (نکاح میں) جمع کرے کہ اگر ان میں سے ہر ایک مرد ہوتی تو ایک دوسرے سے نکاح جائز نہ ہوتا۔ اور اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ ایک مرد اپنی بیوی اور اس بیوی کی سابقہ شوہر سے پیدا ہونے والی بیٹی کو (نکاح میں) جمع کرے۔(مختصر القدوری،صفحہ:323،مکتبہ امام احمد رضا)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتــــــــــــــــــــــــــبه:محمدسجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 24صفرا لمظفر1446/30اگست2024ء