میں تمہاری شادی میں بیٹھوں تو مجھے طلاق
    تاریخ: 19 نومبر، 2025
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 176

    سوال

    میرا نام لیاقت علی ہے اور میرے والد صاحب کا نام عبدالرزاق ہے کچھ ٹائم پہلے میرے والد صاحب نے میری پھپھو کی بیٹی کا رشتہ میرے لیے کیا تھا مگر وہ لڑکی مجھے پسند نہیں تھی اور میری تعلیم کی وجہ سے بھی میں نے شادی سے انکار کر دیا کچھ ٹائم پہلے ہمارے گھر پہ مہمان آئے ہوئے تھے اور یہی میری شادی کا ذکر ہو رہا تھا تو اس میں میں نے سب کے سامنے انکار کر دیا کہ مجھے یہ رشتہ نہیں کرنا جس کی وجہ سے میرے والد صاحب کو غصہ آ گیا اور انہوں نے غصے میں یہ الفاظ کہے کہاگر میں تمہاری شادی میں بیٹھوں تو مجھ پہ طلاق ہےتو اب میں اس مسئلے کا حل چاہتا ہوں کیونکہ میری ابھی ایک جگہ رشتے کی بات چل رہی ہے میں چاہتا ہوں کہ میرے والد صاحب میری شادی میں شرکت کریں اور یہ جو الفاظ انہوں نے کہے اس کا کوئی حل نکل آئےاور انہوں نے یہ الفاظ صرف ایک مرتبہ ہی بولے تھے ایک سے زیادہ مرتبہ نہیں بولا۔ سائل :لیاقت علی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے تو صورت مسئولہ کا جواب یہ ہے کہ جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط کے پائے جانے سے طلاق ہو جاتی ہے ،اس تعلیق کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے ؛لہذا اگرآپ کے والد محترم نے شادی میں شرکت کی تو اس سے ان کی بیوی کو ایک طلاق رجعی ہو جائے گی،نکاح ختم نہیں ہوگا دوران عدت رجوع کا حق حاصل ہو گا ،رجوع کرنے کے بعد دو طلاقوں کا حق باقی رہے گا ،اگر شرکت نہیں کرتے تو شرط کے نہ پائے جانے سے کوئی طلاقنہیں ہوگی نیز یہ الفاظ کہ اگر میں تمہاری شادی میں بیٹھوں تو مجھ پہ طلاق ہے ان میں بیوی کی طرف طلاق کی نسبت تو مفقود ہے لیکن عرفا ان جیسے الفاظ سے بیوی کو طلاق دینا مراد لیا جاتاہےنیز شادی میں بیٹھنے سے مراد شر کت کرنا ہوتی ہے ۔

    دلائل و جزئیات :

    ہدایہ میں ہے''فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره''ترجمہ:پس صریح مرد کا قول کہ تو طلاق والی ہے یا مطلقہ ہے اور میں نےتجھے طلاق دی، پس ان الفاظ سے طلاق رجعی واقع ہوجاتی ہے کیونکہ یہ الفاظ طلاق میں استعمال ہوتے ہیں غیر طلاق میں نہیں ۔(الہدایۃ،کتاب الطلاق،باب ایقاع الطلاق،جلد:1،صفحۃ:225، دار احياء التراث العربي)

    طلا ق کی نسبت بیوی کی طرف نہ کرے لیکن عرفا ایسے الفاظ سے سے بیوی کو طلاق لینا مراد لیا جاتا ہے اس بارے علامہ ابن عابدین رحمۃا للہ علیہ فرماتے ہیں "و من الفاظ المستعملة :الطلاق یلزمنی ،و الحرام یلزمنی ،و علی الطلاق ،وعلی الحرام فیقع بلا نیة للعرف"ترجمہ :عام طور پر استعمال ہونے والے الفاظ کہ طلاق مجھ کولازمہے،حرام مجھ کولازم ہے،مجھ پر طلاق لازمہے،مجھ پہ حرام لازم ہے ، پس عرف کی وجہ بغیر نیت کے طلاق واقع ہو جائے گی ۔(رد المحتار،كتاب االطلاق،باب الصريح الطلاق،جلد:٣،صفحه:٢٥٢،دارالفكر بيروت)

    اس بارے اعلحضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "الثالث ان لا یشمل کلامه علی الاضافةو لا یکون خرج مخرج الجواب لکن یکون اللفظ خصه العرف بتطلیق المرأةفحیث یطلق یفهم منه ایقاع الطلا ق علی المرأة کقولهم : الطلاق یلزمنی ،و الحرام یلزمنی ،و علی الطلاق ،وعلی الحرام۔۔۔و ان لم تزکرالاضافة لفظا لکنها ثابته عرفا و المعهود عرفاکالموجود لفظا"ترجمہ :تیسری قسم کہ مرد کا کلام اضافت پر مشتمل نہ ہو اور نہ ہی جواب کے قائم ومقام ہو لیکن عرف نے اسے عورت کو طلاق دینے کے ساتھ خاص کیا پس جب بھی ان کو بولا جا تا ہےتو عورت پر طلاق کو کو واقع کرنا ہی سمجھا جاتاہے جیسا کہ ان کا کہنا کہ طلاق مجھ کو لازم و حرام مجھ کو لازم ،مجھ پہ طلاق لازم ،مجھ پہ حرام لازم ۔۔۔اگرچہ لفظا اضافت کو ذکر نہیں لیکن یہ عرفا ثابت ہے اور عرفا موجود ہونا لفظا موجود ہونے کی مثل ہے ۔(جد الممتار ،کتاب الطلاق،جلد:۵،صفحہ:، الملکتبۃ العلمیۃ)

    شرط کے پائے جانے سے طلاق واقع ہو جائے گی اس بارے میں علامہ علاؤالدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "و تنحل الیمین بعد وجود الشرط مطلقالکن ان وجد فی الملک طلقت"ترجمہ :شرط کے پائے جانےکےبعدمطلقا قسم ثابت ہو جاتی ہے لیکن اگر ملک میں پائی جائے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔(در مختار،کتاب الطلاق،باب التعلیق،جلد:1،صفحہ:221،دار الکتب العلمیة)

    اسی طرح ایک اور مقام پہ ہے "فیها (کلها )تنحل ای تبطل الیمین ببطلان التعلیق اذا وجد الشرط مرة" ان تمامی الفاظ شرط میں تعلیق کو باطل کرنے کے ساتھ یمین باطل ہو جاتی ہے جب ایک مرتبہ بھی شرط پائی جائے ۔ (رد المحتار ،کتاب الطلاق ،باب التعلیق ،ج:۴،ص:۶۰۵،مکتبہ امدادیہ )

    فتاوی ہندیہ میں ہے''وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق۔"ترجمہ:جب طلاق کی نسبت شرط کی طرف کرے تو شرط کےبعد اتفاقی طور پر طلاق واقع ہو جائے گی مثال کے طور پر مرد اپنی بیوی کو کہے کہ اگر تو گھر میں داخل ہو ئی تو طلاق والی ہوگی ۔(كتاب الطلاق ،الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوه ،جلد:1صفحہ:420،دارالفکر بیروت)

    تین فوری طلاقوں کے علاوہ کسی بھی صورت میں تعلیق ختم نہیں ہو سکتی اس بارے علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں "ويبطل تنجيز الثلاث للحرة والثنتين للأمة تعليقه للثلاث وما دونها إلا المضافة إلى الملك كما مر لا تنجيز ما دونها "تین فوری طلاقیںآزاد عورت کے لیےاور دو فوری طلاقیںلونڈی کے لیے تین یا تین سے کممعلق طلاقوں کو ختم کر دیتی ہیں ۔اور تین فوری طلاقوں سے کم معلق طلاقوں کو ختم نہیں کرتیں ۔(کتا ب الطلاق ،باب التعلیق ،جلد:۴،صفحۃ:۵۹۸،مکتبۃ امدادیۃ)

    اسی کے تحت مزید علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں "ا علم أن التعليق يبطل بزوال الحل لا بزوال الملك فلو علق الثلاث أو ما دونها بدخول الدار ثم نجز الثلاث ثم نكحها بعد التحليل بطل التعليق فلا يقع بدخولها شيء، ولو كان نجز ما دونها لم يبطل فيقع المعلق كله" ترجمہ :جان تو کہ تعلیق حلیت کے زائل یعنی تین طلاقوں کے واقع ہونے سے باطل ہو جاتی ہے زوال ملک یعنی تین سے کم کے واقع ہونے سے باطل نہیں ہوتی ،اگر تین طلاقوں یا اس سے کم کودخول دار سے معلق کیا پھر تین فوری طلاقیں دے دیں پھر تحلیل شرعی کے بعد اسی عورت سے نکاح کر لیا ،تو تعلیق باطل ہو گئی عورت کے اس گھرمیں داخل ہونے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ۔اگر تین سے کم فوری طلاقیں دی تو تعلیق باطل نہ ہوگیساری معلق طلاقیں واقع ہو جائیں گی ۔(کتا ب الطلاق ،باب التعلیق ،جلد:۴،صفحۃ:۵۹۸،مکتبۃ امدادیۃ)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب


    کتــــــــــــــــــــــــــبه:محمدسجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: محرم الحرام 1446ھ/29جولائی 2024ء