سوال
میں بالکل نشہ میں تھامجھے بالکل پتہ نہیں تھا کہ گھر پہ ہوں یا باہر جب میں دوسرے دن ہو ش میں آیا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دی میری بڑی بھابھی نے بتایا کہ آپ بار بار یہ بول رہے تھے کہ بلاؤ اس کو طلاق دیتاہوں ،پھر جب میرا بھائی آیا تو میں نے اس کو یہ بولا کہ بلاؤ اس کو میں طلاق دو ں گا ،اس بارےمیں آپ ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں آپکی عین نوازش ہو گی ۔
سائل: نعمان احمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے تو شوہر کا قول " بلاؤ اس کو طلاق دیتا ہوں ،اور بلاؤ اس کو میں طلاق دوں گا''ان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ یہ مستقبل قریب( آنے والے زمانے ) میں طلاق دینے کے ارادہ کو ظاہر کرنا اوروعدہ ہے شرعا ارادہ یا وعدہ پر طلاق نہیں ہوتی ،طلاق انشاء میں سے ہے یعنی واضح طور پر کہے کہ میں تم کو طلاق دیتا ہو (صیغہ حال کے ساتھ )یا میں نے تمہیں طلاق دی (صیغہ ماضی کے ساتھ)،سوال میںجو الفاظ مذکور ہیں کہ" طلاق دیتا ہوں" اگرچہ یہ حال کا صیغہ ہے لیکن کلام کے سیاق و سباق سے مستقبل قریبکے معنی میں بھی ہو سکتا ہے ۔ باقی یہ بات بھی واضح رہے کہ نشہ کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔
دلائل و جز ئیات :
اللہ تعالٰی کا فرمان مبارک ہے :’’ اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ-فَاِمْسَاكٌۢبِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ' ترجمہ کنزالایمان : یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی(اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔(البقرہ:229)۔
مستقل کے صیغے سے طلاق واقع نہیں ہوتی اس بارے فتاوی ہندیہ میں ہے "فِي الْمُحِيطِ لَوْ قَالَ بِالْعَرَبِيَّةِ أُطَلِّقُ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إلَّا إذَا غَلَبَ اسْتِعْمَالُهُ لِلْحَالِ فَيَكُونُ طَلَاقًا "ترجمہ : محیط میں ہے اگر عربی میں کہا اطلق (طلاق دو گا )طلاق واقع نہ ہوگی مگر جب زمانہ حال میں اس کا استعمال غالب ہو جائے (الفتاوی الهندیة، کتاب الطلاق ،جلد:۱ صفحة:۳۸۴،دار الفکر بیروت)
اسی بارے فتح القدیر میں ہے "و لا یقع باطلقک الاا ذا غلب استعمالہ فی الحال " ترجمہ :اطلقک (میں تمہیں طلاق دو گا) سے طلاق واقع نہیں ہو تی مگر جب زمانہ حال میں اس کا استعمال غالب ہو جائے ۔(فتح القدیر ،کتاب الطلاق ،باب ایقاع الطلاق ،جلد:۴،صفحة:۷،دارا لفکر بیروت)
اس بارے اعلحضرت عظیم البرکت احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں " ہم "تجھ کو نہ رکھیں گے" متمحض للاستقبال والابعاد ہے اور ایسا لفظ اگر صریح بھی ہوا اصلا موثر نہیں مثلاً اگر ہزار بار کہے میں تجھے طلاق دے دوں گا طلاق نہ ہوگی ۔وهذا ظاهر جدا ، وفي جواهر الاخلاطی فقال الزوج طلاق میکنم طلاق میکنم انها ثلاث ، لان می كنم يتمحض للحال وهو تحقیق بخلاف قوله کنم لانه يتمحض للاستقبال وبالعربية قوله اطلق لا يكون طلاقا لانه دائر بين الحال والاستقبال فلم یکن تحقیقا مع الشک ترجمہ:یہ بالکل ظاہر ہے، اور جواہر اخلاطی میں ہے خاوند نے کہا "میں طلاق کرتا ہوں ، طلاق کرتا ہوں" تو تین طلاقیں ہو گی کیونکہ اس کا قول کرتا ہوں صرف حال کے لیے مختض ہے اور یہ طلاق کو واقع کرتا ہے اس کے بر خلاف اس کا یہ کہنا" طلاق کروں گا "یہ خالص استقبال کے لیے ہے اور عربی میں اطلق(طلاق دو گا) سے طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ حال اور اور استقبال دونوں میں مشترک ہے لہذا شک کی بنا پر طلاق واقع نہ ہوگی ۔(فتاوی رضویہ ،جلد:۲،صفحة:۵۸۷،رضا فاؤنڈیشن)
اس بارے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی ا عظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: اگر واقعی میں یہی الفاظ کہے تھے" کہ طلاق دے دوں گا" تو طلاق واقع نہ ہوئی کہ یہ طلاق دینا نہیں ہے بلکہ آئندہ طلاق دینے کا اظہار ہے اور محض اس ارادہ یا و عددپہ طلاق نہیں ہوتی۔ " لان هذا الفظ متعين لاستقبال ولایقع به الطلاق کمافی الفتاوی الخیر یۃ و غیر ها"(فتاوی امجدیہ ،جلد:۲،صفحہ :۱۷۱،مکتبہ رضویہ آرام باغ )
نشہ کی حالت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے اس بارے رد المحتار میں ہے " وبين في التحرير حكمه انه ان كان سكره بطريق محرم لا يبطل تکلیفہ فتلزمه الاحكام وتصح عباراته من الطلاق والعتاق“ تحریر میں اس کے حکم کو بیان کیا کہ نشہ والا کا نشہ اگر حرام شئی ہو تو یہ اس کے مکلف ہونے کو باطل نہیں کرتا اس پہ احکام لازم ہونگے طلاق اور عتاق سے اس کی عبارات صحیح ہوں گی ۔ (رد المحتار على الدر المختار، کتاب الطلاق، جلد : ۳ صفحۃ : ۲۳۹، دار الفکر بیروت)
اسی بارے فتاوی ہندیہ میں ہے:و طلاق السكران واقع اذا سكر من الخمر او النبيذ وهو مذهب اصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط“ ترجمہ :نشہ والی کی طلاق ہو جاتی ہے جب وہ شراب یا نبیذ سے نشہ کرے یہی ہمارے اصحاب رحمۃ اللہ علیہم کا مذہب ہے اسی طرح محیط میں ہے ۔ (فتاوى هندية، كتاب الطلاق ، جلد:۱، صفحة: ۳۸۷، ۳۸۸، دار الكتب العلمية)
نشہ والے کی طلاق کے متعلق علامہ علاؤ الدین حصکفی فرماتے ہیں " ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل ولو تقديرا - بدائع، ليدخل السكران"ترجمہ :ہر عاقل و بالغ شوہر کی طلاق ہو جاتی اگرچہ عاقل ہونا تقدیرا ہو بدائع میں ہے تاکہ نشہ والا داخل ہو جائے ۔ (در مختار ، کتاب الطلاق،جلد:۱، صفحۃ :۲۰۶، دار الكتب العلمیة)
اعلحضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : نشہ میں طلاق دی بلاشبہ بالا تفاق ہوگئی ۔ (ملخصا ، فتاوی رضویہ، ج: ۱۲ ، ص : ٣٨٦ ، رضا فاؤنڈیشن )
علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :نشہ والے نے طلاق دی تو واقع ہو جائے گی کہ یہ عاقل کے حکم میں ہے اور نشہ خواہ شراب پینے سے ہو یا بھنگ وغیرہ کسی اور چیزسے۔ (بہار شریعت ،جلد:۸،حصہ :ہشتم ،صفحہ:۱۱۳ ، مکتبۃ المدینه )
ایک اور مقام پہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں " عورت سے کہا تجھے طلاق دیتا ہوں یا کہا تو مطلقہ ہو جا تو طلاق ہو گئی مگر یہ لفظ کہ طلاق دیتا ہوںیا چھوڑتا ہوں اس کے یہ معنے لیے کہ طلاق دینا چاہتا ہوں یا چھوڑ نا چاہتا ہوں تو دیانتہً نہ ہوگی قضاء ہو جائیگی۔ اور اگر یہ لفظ کہا کہ چھوڑے دیتا ہوں تو طلاق نہ ہوئی کہ یہ لفظ قصد وارادہ کے لیے ہے۔(بہار شریعت،جلد:۸،حصہ:ہشتم،صفحہ:،مکتبۃ المدینہ۱۱۹)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتــــــــــــــــــــــــــبه:محمدسجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:19محرم الحرام 1446 ھ/26جولائی 2024ء