حیلہ شرعی پر مفصل فتویٰ
    تاریخ: 19 نومبر، 2025
    مشاہدات: 32
    حوالہ: 178

    سوال

    1:۔کیا حیلہ شرعی کاثبوت قرآن وسنت سے ملتا ہے ۔نیزکیا مطلق طور پر حیلہ جائز ہے؟

    2:۔ لوگ زکوۃ کی رقم حیلہ کرواکر اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اسکے بعد اپنے ملازمین ، خادمین، نوکر چاکر، ماسی وغیرہ کو اس میں سے تنخواہ دیتے ہیں۔کیا اس طرح انکی زکوۃ ادا ہوجاتی ہے؟

    3:۔ کچھ لوگ زکوۃ کی رقم کا حیلہ کروانے کے لئے ویلفیئر ،مدارس وغیرہ میں چلے جاتے ہیں اور وہاں کے مہتممین انکو اس رقم کا حیلہ کرواکر دے دیتے ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟نیز حیلہ کا طریقہ ارشاد فرما دیں!

    4:۔بعض لوگ زکوۃ کا سال مکمل ہونے سے پہلے کسی کو اپنا مال ہبہ کر دیتے ہیں اور سال مکمل ہو نے کے بعد موہوب لہ واہب کو وہ چیز گفٹ کر دیتا ہے ،یوں وہ زکوۃ سے بچ جاتاہے تو اس کا یہ عمل کرنا کیسا؟

    سائل: مفتی محمد راشد القادری: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    حیلہ شرعیہ سے مراد ہر وہ تدبیر ہے جو ضرورت و حاجت کے پیشِ نظر کی جائے تاکہ اس سے کسی حکم شرعی کی تعمیل یا کسی کام میں حرام یا حرام کی آمیزش کو دورکیا جائے ،بشرطیکہ اس کی وجہ سے حکمِ شریعت ،یا مقصدِ شریعت باطل نہ ہوتاہو۔جس حیلہ سے حکمِ شریعت ،یا مقصدِ شریعت فوت ہو جائے ایسا حیلہ جائزنہیں ۔اس کا جواز قرآن و سنت ،اور ائمہ و مجتہدین کےاقوال سے ثابت ہے۔

    حیلہ شرعیہ کا ثبوت قرآن سے:

    1:۔وَ خُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبۡ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ ترجمہ کنز الایمان: "اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو لے لے اس سے مار اور قسم نہ توڑ"۔ (ص:44)ترجمہ:اللہ کے نبی حضرت ایوب علیہ السلام کواپنی زوجہ کی کسی بات پر غصہ آیا ،اور قسم کھائی کہ جب اپنی بیماری سے صحتیاب ہوں گا تو زوجہ کو سو لاٹھیاں ماروں گا۔جب صحت یاب ہوئے تودو چیزوں کا سامنا ہے ایک طرف قسم پورا کرنے کا وقت آن پہنچا ،،اور دوسری طرف باوفا وباحیا بیوی ہے،کوڑے مارنے پر دل کسی طور تیار نہیں اور اگر نہیں مارتے تو حانث (قسم توڑنے والے)ہوں گے۔تو ایسی کشمکش میں اللہ جل وعلا نےآپ پر کرم نوازی کرتے ہوئے فرمایا کہ سو تیلوں والا جھاڑو لیکراس سے مارو حالانکہ قسم کا تقاضا یہ تھا کہ سو کوڑے مارے جائیں اس سے

    پتہ چلتا ہے کہ مشکل وقت میں ضرورت و حاجت کے پیشِ نظر حکم شرعی کی تعمیل کے لیے حیلہ شرعیہ کیا جاسکتا ہے۔

    2: فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاءِ أَخِيهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَاءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ ترجمہ: پس ان کے سامانوں کی تلاشی لینا شروع کی اپنے بھائی کے سامان کی تلاشی سے پہلے، پھر اسے اپنے بھائی کی خورجی سے نکال لیاہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی بادشاہی قانون میں اسے نہیں پہنچتا تھا کہ اپنے بھائی کو لے لے مگر یہ کہ خدا چاہے ہم جس کے چاہیں درجے بلند کردیتے ہیں اور ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہے(یوسف/76)

    عرصہ دراز کے بعد جب حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بچھڑےہوئے بھائی بنیامین سے مصر میں ملےتو بنایمین نے ان ظالم بھائیوں کے ساتھ واپس جانے سے انکار کر دیا، حضرت یوسف علیہ السلام پریشان ہو گئے کہ میں کیسے تمہیں روکوں کہ ملکی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کو بلا وجہ اس کے ملک جانے سے روک دیا جائے ،بالخصوص ایسی صورت میں کہ جب تم اپنےبھائیوں کے ماتحت بن کرآئے ہو۔غور و فکر کے بعد آخر یہ باتطے پائی کہ آپ کے سامان میں بادشاہ کا پیالہ رکھ دیا جائے گا،اور روانگی کے وقت حکام پیالہ نہیں پائیں گے تو سامان کی تلاشی لی جائے گی اور جب پیالہ آپکے سامان سے برآمدکر لیا جائے گا تو پھر روکنے کی صورت نکل آئے گی۔چناچہ ایسا ہی کیا گیا اور یوں یوسف علیہ السلام راز کو افشاں کیے بغیر اپنے بھائی کو روکنے میں کامیاب ہو گئے ۔

    آپ کے اس عمل کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا : كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ یعنی ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی۔(یوسف:76)

    یہاں پرملاحظہ کیجئے کہ کید کا لفط استعمال کیا گیا جس کا عام طور پر حیلہ سازی اور مکر وفریب کیا جاتا ہے ۔جبکہ یہاں اس کے دیگر معانی میں سے تدبیرمراد ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ بھائی کو اپنے پاس رکھنے کے لیے حضرت یوسف کو اللہ تعالی نے جو خفیہ تدبیر بتائی تھی اس سے ثابت ہوتی ہے کہ صحیح اور جائز غرض کو پورا کرنے کے لیے کسی خفیہ تدبیر پر عمل کرنا جائز ہے جب کہ اس سے کسی شرعی حکم کی مخالفت نہ ہوتی ہو۔یہ وہ حیلہ ہے جو جائز اور مشروع ہے۔کیوں کہ اس میں کار خیر ہے اور کسی فریق کو نقصان نہیں پہنچا ، کیوں کہ بنیامین کو اطمینان تھا کہ وہ بے قصور ہیں اور جو باتیں ان کے خلاف ہیں وہ سب عارضی ہیں۔

    سنت سے ثبوت :

    1: قَالَ: جَاءَ بِلاَلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مِنْ أَيْنَ هَذَا؟» ، قَالَ بِلاَلٌ: كَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ رَدِيٌّ، فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ، لِنُطْعِمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: أَوَّهْ أَوَّهْ، عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا، لاَ تَفْعَلْ، وَلَكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ فَبِعِ التَّمْرَ بِبَيْعٍ آخَرَ، ثُمَّ اشْتَرِهِ۔ترجمہ:حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس بَرنی کھجوریں لے کر حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا :۔ تم نے یہ کہاں سے لیں؟ حضرت سیدنابلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:حضورہمارے پاس خراب چھوہارے تھے ہم نے دو صاع خراب چھوہاروں کے بدلے ایک صاع( ایک صاع تقریباً چار کلو اورسو گرام کے وزن کاپیمانہ ہوتا ہے ) بَرنی کھجوریں خریدیں۔نبی کریم رؤف رحیم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اُف یہ تو خالص سود ہے ،خالص سود ہے ایسا نہ کرو! مگر جب تم ان کھجوروں کو خریدنا چاہو توپہلے اپنے چھوہاروں کو کسی اور چیزسے بیچ لو اور پھر اُس چیز کے بدلے ان کجھوروں کو خریدلو۔(صحیح البخاری کتاب الوکالۃ، باب إذا باع الوکیل شیئًا فاسدًا...إلخ، رقم الحدیث: 2321)

    2:عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟، قَالَ: لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاَثَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَفْعَلْ، بِعْ الجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا۔ ترجمہ:حضرت ابو سعیدخدری اور ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہما دونوں سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر پر گورنر بنا کر بھیجا ،وہ سرکار صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جَنِیب کجھوریں یعنی اعلیٰ قسم کی کجھوریں لے کر حاضر ہوا ، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں؟عرض کی:نہیں تو خدا کی قسم! یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہم اس قسم کی کھجوروں کا ایک صاع دو صاع کے بدلے میں، دو صاع تین صاع کے بدلے میں خریدتے ہیں ۔نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو! (اپنی) کھجوریں روپوں کے بدلے میں بیچ کر روپوں سے جَنِیب کھجوریں خریدلیا کرو۔(صحیح البخاري"، کتاب البیوع، باب إذا أراد بیع تمر بتمر خیر منہ، رقم الحدیث: ۲۲۰۱)

    3:بخاری شریف ہی کی ایک اور رویت ہے کہ حضرت سیدتنا ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:بعث الی نسیبۃ الانصاریۃ بشاۃ منھا فقال النبیصلی اللہ علیہ وسلم عندکم شیء فقالت لا الا ما ارسلت بہ نسیبۃ من ذالک الشاۃ فقال ھات فقد بلغت محلھاترجمہ: حضرت نسیبہ انصاریہ کو ایک بکری بھیجی گئی انھوں نے اس میں سے کچھ حضرت عائشہ کے ہاں بھیج دیا ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا : کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے ؟تو عرض کی کچھ نہیں سوائے اس کے جو نسیبہ نے بکری کا گوشت بھیجا تھا ،حضور نے فرمایا :اسے لے آؤ کہ بے شک صدقہ اپنے محل کو پہنچ چکا ۔(صحیح البخاری رقم الحدیث:1446)

    4:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت سارا (اپنی زوجہ) کے ساتھ ہجرت کی اور ایک شہر میں داخل ہوئے ،جس کا بادشاہظالم تھا ،اس کو بتایا گیا کہ حضرتابراہیم اپنے ساتھ ایک عورت کو لائے ہیں جو کہ دنیا کی سب سے خوبصورت عورت ہے ۔اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا : وہ عورت جو آپ کے ساتھ ہے ،یہ کون ہے؟حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا :وہ میری بہن ہے پھر سارا کو کہا کہ میری بات کو جھٹلانا مت،مین نے اس کو بتایا ہے کہ تم میری بہن ہ اور اللہ کی قسم!اس وقت روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے۔قرآن مجید میں ہے :انماالمؤمنون اخوۃ تم مومن بھائی ہیں۔(الحجرات:10)

    (صحیح البخاری ، رقم الحدیث:2217 )

    فقہائے احناف کے نزدیک :

    شمس الائمہ امام سرخسی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا،اور اس نے عرض کی : میں نے قسم کھائی ہے کہ اپنے بھائی سے بات نہیںکروں گا ،اور اگر میں نے اس سے باتکی تو میری بیوی کو تین طلاقیں ۔آپ نے فرمایا:تم اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دو ،اور جب اس کی عدت گزر جائے تو اپنے بھائی سے بات کر لو پھر اس عورت سے نکاح کر لو،اور یہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے حیلہ کی تعلیم دی ۔نیزا سی کے ساتھ لکھتے ہیں:حیلہ کے جواز پر باکثرت احادیث اور آثار،اور جو آدمی احکام شرع میں غور و فکر کرے گا وہ بہت معاملات کو اس طرح پائے گا ۔

    اگر کوئی شخص کسی عور تسے محبت کرتا ہو اور وہ پوچھے اس سے وصال کا طریقہ کیا ہے؟تو کہا جائے گا اس سے نکاحکر لو،اور اگر کوئی اپنی

    بیوی سے تنگ ہو اور سوال کرے کہ اس سے کیسے چھٹکارا پاؤں تو اس سے کہا جائے گا طلاق دے دونہیں ،اور اگر طلاق دینے کے بعد نادم ہو،اور اس سے وصال کا سوال کرے تو اس سے کہا جائے گا رجوع کر لو ،،اور اگر تین طلاقیں دے دی اور اب اسسے وصال چاہتا ہو تو اس کا حیلہ یہ ہے کہ وہ عورت بعد عدت کسی اور مرد سے شادی کرے اور وہ مباشرت کے بعد طلاق دے تو اس کی عدت گزارنے کے بعد پہلے شخص سے نکاح کر لے۔ سو جو شخص حیلہ کو مکروہ سمجھتا ہے وہدر حقیقت احکام شرع ہی کو مکروہ سمجھتا ہے ،اور حیلہ کو مکروہ سمجھنے کی وجہ غور و فکر کی کمی ہے ۔(المبسوط: جلد30، صفحہ 209 تا 210، دار المعرفہ بیروت)

    خلا صہ یہ ہے جس حیلہ کی وجہ سے انسان کسی حرام کام سے بچ جائے ،یا انسان کسی حلال چیز کو حاصل کر لے وہ حیلہ مستحسن ،اور جس حیلہ کی وجہ سے انسان کسی حق کو باطل کرے ،یا باطل چیز کو ملمع کاری کر کے حق ظاہر کرے تو اس طرح کا حیلہ مکروہ (تحریمی)ہے،کیوں کہ اللہ تعالی نے فرمایا: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰىوَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪ ترجمہ:اور تم نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے مدد کرتے رہو اور گناہ اور ظلم کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔

    حیلہ شرعی ضرورت و حاجت شرعیہکے تحت ہی جائز ہو گا ،اور جو حیلہ محض منفعت کے حصول ،یا خواہشِ نفس کی تکمیل کے لیے ہوجائز نہیں کہ اس سے مقصدِ شریعت کو فوت کرنا ہے جو کہ قبیح جرم ہے ۔

    ضرورت و حاجت کسے کہتے ہیں ؟ان کا دائرہ کار کیا ہے؟ ضروری ہے کہ انہیں جانا جائے ،چناچہ علامہ حموی بحوالہ فتح المدبرللعاجز المقصر ضرورت، حاجت، منفعت، زینت ، فضول تعریفات نقل فرماتے ہیں :فالضرورۃ:بلوغہ حدا ان لم یتناول الممنوع،ھلک او قارب وھذایبیح الحرام ترجمہ: ضرورت یہ ہے کہانسان کا اس حد کو پہنچ جانا کہ ممنوع چیز کو استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک یاہلاکت کے قریب ہوجائے،اور یہی وہ صورتِ اضطرار ہے جس میں حرام وممنوع اشیاء کا استعمال جائز ہوجاتا ہے۔

    والحاجۃ :کالجائع الذی لو لم یجد مایاکلہ لم یہلک غیر انہ یکون فی جھد ومشقۃو ھذا لا یبیح الحرام ویبیحالفطر فی الصوم ۔ترجمہ:حاجت کی مثال یہ ہے کہ کوئی بھوکا شخص اگر ممنوع چیزوں کو استعمال نہ کرے تو ہلاک تو نہیں ہوگا مگر مشقت وتکلیف شدید ہوگی، یہ صورت حرام کو مباح نہیں کرتی ،البتہ روزے میں افطار کو مباح کر دیتی ہے ۔

    یہ صورتچونکہ اضطرار کی نہیں اس لیے اس کے واسطے روزے ، نماز، طہارت کے بہت سے احکام میں رعایت وسہولتیں تو دی گئی ہیں مگر ایسی حالت میں حرام چیزیں نص قرآنی کے تحت حلال نہیں ہوں گی۔

    والمنفعۃ: کالذی یشتہیخبز البر ولحم الغنم والطعام الدسم (یعنی) منفعت یہ ہے کہ جیسے کوئی آدمی گندم ک روٹی،بکرے کا گوشت،اور مرغن غزائیںکھانے کی خواہش رکھتا ہو۔ یعنی منفعت یہ ہے کہ اس چیز کے استعمال کرنے سے اس کے بدن کو فائدہ پہنچے گا لیکن نہ کرنے سے کوئی سخت تکلیف یا ہلاکت کا خطرہ نہیں جیسے عمدہ قسم کے کھانےاور مقوی غذائیں ، ایسی حالت کے لیے نہ کوئی حرام حلال ہوتا ہے نہ روزہ کا افطار جائز ہوتا ہے مباح اور جائز طریقوں سے یہ چیزیں حاصل ہوسکیں تو استعمال کرے اور نہ حاصل ہوسکیں تو صبر کرے۔

    والزینۃ: کالمشتہی بحلوی والسکر( یعنی) زینت کی مثال جیسے کوئی شخص مٹھائی اور شکر کی خواہش رکھے۔ اس سے بدن کو کوئی خاص تقویت بھی نہیں ملتی ،محض تشریح خواہش ہے ظاہر ہے کہ اس کام کے لیے کسی ناجائز چیز کے جائز ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    والفضول:التوسع باکل الحرام والشبہۃ ( یعنی) حرام اور مشتبہ چیزوں کے کھانے میں وسعت پیدا کرنا ۔ یعنی قسم وہ ہے جو زینت مباح کے دائرہ سے بھی آگے محض ہوس کے لیے ہے جو کہ ناجائز ہے کہ اس فضول کی مخالفت احادیث صحیحہ میں وارد ہے۔ (شرح حموی علی الاشباہ ولانظائر جلد 1 صفحہ 252)

    پہلی دو صورتوں (ضرورت و حاجت )کے علاوہ درج بالا کسی صورت میں بھی حیلہ جائز نہیں۔

    مذکورہ بالاعبارات کی روشنی میں سوالات کے جوابات ملاحظہ فرمائیں:

    1:۔لوگ زکوۃ کی رقم حیلہ کرواکر اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اسکے بعد اپنے ملازمین ، خادمین، نوکر چاکر، ماسی وغیرہ کو اس میں سے تنخواہ دیتے ہیں؟

    ایساحیلہ شرعًا جائز نہیں کہ در حقیقت یہ اپنی ذاتپر مال خرچ کرنا ہے جو کہ انتہائی مذموم حرکت ہے ۔ ایسا کرنے والوں کو اللہ کے خوف سے ڈرنا چاہیے کہ جو احکام شرعیہ کو اپنے مذموممقاصد اور خواہشات کے سانچے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔امام اہلسنت اماماحمد رضا خان علیہ الرحمہ ایسےلوگوں کے متعلق لکھتے ہیں: ہزاروں روپے فضول خواہش یا دنیوی آسائش یا ظاہر آرائش میں اُٹھانے والے مصارف خیر میں ان حیلوں کی آڑ نہ لیں۔ متوسط الحال بھی ایسی ہی ضرورتوں کی غرض سے خالص خدا ہی کے کام صرف کر نے کے لیے ان طریقوں پر اقدام کریں نہ یہ کہ معاذاﷲاُن کے ذریعہ سے ادا ئے زکوٰۃ کانام کرکے روپیہ اپنے خُر دبُردمیں لائیں کہ یہ امر مقاصد شرع کے بالکل خلاف اور اس میں ایجاب زکوٰۃ کی حکمتوں کا یکسر ابطال ہے تو گویا اس کا برتنااپنے رب عزوجل کو فریب دینا ہے۔(فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 109 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    2:۔ کچھ لوگ زکوۃ کی رقم کا حیلہ کروانے کے لئے ویلفیئر ،مدارس وغیرہ میں چلے جاتے ہیں اور وہاں کے مہتممین انکو اس رقم کا حیلہ کرواکر دے دیتے ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

    حیلہ کروانے سے پہلے کسی دار الافتا ء میں رجوع کیا جائے،اگر ضرورت شرعیہ و مقصدِ شرعیہ کے تحت اجازت ملے تو حیلہ کروائیں ورنہ نہیں،مہتمین حضرات کو بھی چاہیے کہ حیلہ کرنے سے پہلے تحقیق کر لیں کہ کہیں ناجائز کام میںمعاونت تو نہیں ہو رہی کہ اللہ جل وعلا کا فرمان ہے:ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ۔ ترجمہ:اور گنااہ اور دشمنی کے کاموں پر اایک دوسرے کی معاونت نہ کرو۔

    حیلہ شرعی کا طریقہ:جب ضرورت و حاجت شرعیہ کا تحقق ہو جائے تو حیلہ کرنےکا طریقہ یہ ہے کہ رقم وغیرہ کسی شرعیفقیرکی ملک کی جائے۔پھر وہ شرعی فقیر اسرقم پر قبضہ کرنے کے بعداپنی خوشی سے بطور تحفہ واپس کر دے ،بہتر یہ ہے کہجس نیک کام کے لیے اس سے حیلہ کروایا گیا اس کار خیرمیں ازخود رقم دےکہ یوں ثواب کا بھی مستحق ہو گا ۔مگریاد رہے کہ عمومی طور پرہمارے مدارس ،یا فلاحی اداروں کی حیثیت وکیل کی سی ہوتی ہے ،اس لیے مہتممین یہ حیلہ خودنہیں کر سکتے اگرچہ شرعی فقیر ہوں ۔

    4:۔بعض لوگ زکوۃ کا سال مکمل ہونے سے پہلے کسی کو اپنا مال ہبہ کر دیتے ہیں اور سال مکمل ہو نے کے بعد موہوب لہ واہب کو وہ چیز گفٹ کر دیتا ہے ،یوں وہ زکوۃ سے بچ جاتاہے تو اس کا یہ عمل کرنا کیسا؟

    ہمارےائمہ کرام کے نزدیک اس طرح کا حیلہ مکروہ وممنوع ہے جیسا کہامام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ اپنے رسالہ’ رادع

    التعسف عن الامام ابی یُوسف ‘‘ میں اسی مسئلہپر تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’امام الائمہ سراج الامہ حضرت سیّد نا امام اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ کا مذہب بھی یہی مذہبِ امام محمد ہے کہ ایسا فعل ممنوع و بد ہے۔غمزالعیون میں تاتارخانیہ سے ہے:کان ممنوع مکروھا عند الامام و محمد یہ(حیلہ ) امام اعظم اور امام محمد دونوں کے نزدیک مکروہ ہے۔

    خزانۃالمفتین میں فتاوٰی کبرٰی سے ہے: الحیلۃ فی ابطال الشفعۃ بعد ثبوتھا یکرہ لانہ ابطال لحق واجب واما قبل الثبوت فلا باس بہ وھو المختار والحیلۃ فی منع وجوب الزکوٰۃ تکرہ بالاجماع ترجمہ: ثبوت کے بعد ابطال شفعہ کے لیے حیلہ کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ حق واجب کو باطل کرنا ہے لیکن ثبوت سے پہلے حیلہ میں کوئی حرج نہیں اوریہی مختار ہے اور وجوبِ زکوٰۃ میں رکاوٹ کے لیے حیلہ کرنا بالاجماع مکروہ ہے۔

    یہاں سے ثابت(ہوا) کہ ہمارے تمام ائمہ کا اس کے عدمِ جواز پر اجماع ہے، حضرت امام ابو یوسف بھی مکروہ رکھتے ہیں ممنوع و ناجائز جانتے ہیں کہ مطلق کراہت کراہتِ تحریم کے لیے ہے خصوصاً نقل اجماع کہ یہاں ہمارے سب ائمہ کا مذہب متحد بتارہی ہے اور شک نہیں کہ مذہبِ امام اعظم و امام محمد اس حیلہ کا ناجائز ہوناہے، غمزالعیون کے لفظ سُن چُکے کہ صاف عدمِ جواز کی تصریح ہے اقول اگر بتظافر نقولِ خلاف ،بغرض توفیق اس روایت اجماع میں کراہت کو معنی اعم پر حمل کریں، فربما تجئی کذا کقولھم فی الصلٰوۃ کرہ کذاوکذاوارادوابہ المکروھات من القسمینتو کبھی یوں بھی آتا ہے جیسا کہ فقہاء کا نماز کے باب میں کہنا کہ فلاں فلاں چیز مکروہ ہے اور مکروہات کی دونوں قسموں کو مراد لیتے ہیں تو حاصل یہ ہوگا کہ اس حیلہ کے مکروہ و نا پسند ہونے پر ہمارے ائمہ کا اجماع ہے، خلاف اس میں ہے کہ امام ابو یوسف مکروہِ تنزیہی فرماتے ہیں اور امام اعظم و امام محمد مکروہِ تحریمی۔

    اور فقیر نے بچشمِ خود امام ابی یوسف رضی اﷲ عنہ کی متواتر کتاب مستطاب الخراج میں یہ عبارت شریفہ مطالعہ کی (مطبع میری بولاق مصر صفحہ۴۵): قال ابو یوسف رحمہ اﷲلا یحل لرجل یؤمن باﷲوالیوم الاٰخر منع الصدقۃ و لااخرا جھا من ملکہ الی ملک جماعۃ غیرہ لیفرقھا بذٰلٰک فتبطل الصدقۃ عنھا بان یصیر لکل واحد منھم من الابل والبقر والغنم مالا یجب فیہ الصدقۃ ولایحتال فی ابطال الصدقۃ بوجہ ولا سبب بلغنا عن ابن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ انہ قال مامانع الزکوٰۃ بمسلم ومن لم یؤدھا فلا صلوٰۃ لہ۔ترجمہ: امام ابُو یُوسف فرماتے ہیں کسی شخص کو جو اﷲو قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ حلال نہیں کہ زکوٰۃ نہ دے یا اپنی ملک سے دوسروں کی ملک میں دے دے جس سے ملک متفرق ہوجائے اور زکوٰۃ لازم نہ آئے کہ اب ہر ایک کے پاس نصاب سے کم ہے اور کسی طرح کسی صورت ابطالِ زکوٰۃ کا حیلہ نہ کرے، ہم کو ابن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے حدیث پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا زکوٰۃ نہ دینے والامسلمان نہیں رہتا، اور جو زکوٰۃ نہ دے اس کی نماز مردود ہے‘‘۔

    ہمارے سرمایہ دار لوگاور حیلہ زکوۃ :

    زکوۃفرائضِ اسلام میں سے ہے،اور ہر فرض میںبے شمار حکمتیں پنہاں ہوتی ہیں ،شریعت کے ہر حکم کی حکمت تک ہماری عقل رسائی حاصل کر لے ضروری نہیں ۔ضروری یہ ہے کہ بلا چوں چراں حکمِ شریعت پر عمل کرتے رہیں ۔شریعت نے حکم دیا کہ مال کی زکوۃ یہ ہے کہ تم اپنے مال کا ڈھائی فیصد ہمارے مقرر کردہ لوگوں پر خرچ کرو ،،،تو ہمیں ڈھائی فیصدیعنی کل مال کا چالیسواں حصہ ہی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔اس سے کم نہیں ،اور اس کا ڈھائی فیصدکامالک اسی کو بنانا ہے جس کا شرع نے حکم دیا ہے،یہیحکمِ شریعت اور اسی طرزِ عمل پر کاربند رہنا مقصدِ شریعت ہے ۔

    ہمارے معاشرے میں تین طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں :

    کچھ لوگ زکوۃ فرض ہونے کے بعد نکالتے ہی نہیں ایسوں کو احکامِ زکوۃ سے آشنا کروا یا جائے ،مسائل زکوۃ سیکھائےجائیں تو امید ہے کہ

    بہتری آئے گی،اور بعض نکالتے تو ہیں لیکن معیارِ شریعت کے مطابق نہیں ،بلکہ اس سے کم جس قدر ان کا دل چاہے اور کچھ کرم فرما توایسے ہیں جو معیارِ شریعت کا لحاظ تو رکھتے ہیں لیکن بلامقصد شرعیو ضرورتِ شرعی حیلہ سازی سے وہی رقم دوبار حاصل کر لیتے ہیں،اور اپنی مرضی سے جہاں چاہتے ہیں خرچ کرتے رہتے ہیں۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ: محمد یونس انس القادری عفی عنہ

    الجواب الصحیح: ابو الحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی