warasat ka masla munasakha ka hukm
سوال
میرے داد کا انتقال ہوا انکے ورثاء میں ایک بیوی(صغرٰی) دو بیٹے (انور، صادق)اور ایک بیٹی(بشیرن)۔محمد انور میرے والد ہیں۔
اسکے بعد دادی صغرٰی کا انتقال ہوا۔انکے ورثاء وہی ہیں جو اوپر گزرے۔
اسکے بعد ایک بیٹے (انور)میرے والدکاانتقال ہو ا، انکے ورثاء میں ایک بیوی (امیرجہاں )اور ایک بیٹا(منیریعنی میں )ہے۔
پھر چچا صادق کا انتقال ہوا۔چچا کی بیوی کا پہلے انتقال ہوا۔انکے ورثاء میں چار بیٹے(شبیر، جمیل، بشیر اور عارف)اور چھ بیٹیاں (صفیہ، رضیہ، شاذیہ، نورین، رابعہ، ماریہ)ہیں۔
پھر میری پھپو (بشیرن) کا انتقال ہوا۔ انکے شوہر کا ان سے قبل انتقال ہوچکا ہے ورثاء میں 4 بیٹے (عبدالرشید، عبدالوحید، شاہد، نوید)ہیں اور سات بیٹیاں( شمیم، پروین، نسرین، رخسانہ،رشیدہ، فرزانہ اور شبانہ) ہیں۔
وراثت میں 6 مرلے کی جگہ ہے جوکہ میرے دادا کو میرے پردادا سے ملی۔ نیز یہ بات یاد رہے کہ میری پھپو(بشیرن) کی بیٹی میرے نکاح میں ہے انہوں نے آخری عمر میں اپنی والدہ کی بہت خدمت کی اس لئے میری پھپو نے کہا کہ مجھے حصہ نہیں چاہیے بلکہ یہ میرے بھتیجے کا یعنی میرا ہے۔ تو اس بارے میں شرعی حکم بیان فرمائیں۔اب سوال یہ ہے کہ اس جگہ میں سے میری پھپو کی اولاد کا حصہ ہوگا یا نہیں ؟ اگر ہوگا تو کتنا ؟ شرعی تفصیل عنایت فرمائیں۔
سائل:منیر احمد:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بشیرن بے بی کا یہ قول کہ مجھے حصہ نہیں چاہئے یہ میرے بھتیجے کا ہے بے اصل و بے معنٰی ہےکہ یہ جائیداد سے دستبرداری ہے اور جائیداد سے دستبرداری شرعا نادرست ہے ۔اگر زندگی میں اپنا حصہ اپنے بھتیجے کو دیناچاہتی تھی ،تو اسکی صورت یہ تھی کہ جائیداد سے اپنا حصہ جدا و الگ کرکے بھتیجے کو قبضہ کاملہ دے دیتی ، بعد قبضہ کے وہ اسکی ملکیت میں آجاتا ۔لیکن یہ صورت یہاں نہ پائی گئی ۔لہذا اب حکمِ شرع یہ ہے جائیداد میں جو کچھ ہے،اسکی موجودہ ویلیو نکلوائی جائے گی پھر دیکھا جائےگا کہ ان پر کوئی قرض ہے تو وہ ادا کیا جائےگا، قرضہ جات ادا کرنے کے بعددیکھا جائے گا کہ اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہے تو باقی ماندہ کے ایک تہائی مال سے وصیت پوری کی جائے گی اسکے بعد جو کچھ بچے،وہ ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا ۔ تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کے2100حصے کئے جائیں گے جس میں سے امیر جہاں کو105 حصے ، منیرکو735 حصے، شبیر،جمیل، بشیراور عارف میں سے ہر ایک کوالگ الگ120 حصے،جبکہ صفیہ،رضیہ، شاذیہ، نورین، رابعہ،ماریہ میں سے ہر ایک کوالگ الگ60حصے۔ پھرعبدالرشید، عبدالوحید،شاہد، نویدمیں سے ہر ایک کوالگ الگ56حصے،جبکہ پروین، نسرین،رخسانہ، رشیدہ،فرزانہ، شبانہ میں سے ہر ایک کو الگ الگ 28 حصے ملیں گے۔
جائیداد سے دستبرداری کے سلسلے میں قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار میں فتاویٰ بزازیہ کے حوالے سے ہے :وفيهَا: وَلَو قَالَ تركت حَقي من الْمِيرَاث أَو بَرِئت مِنْهَا وَمن حصتي لَا يَصح وَهُوَ على حَقه، لَان الارث جبري لَا يَصح تَركه :ترجمہ:اور بزازیہ میں ہے کہ اگر کسی وارث نے کہا کہ میں نے وراثت سے اپنا حق چھور دیا ، یا میں وراثت سے دست بردار ہوا،یا میں اپنے حصے سے دست بردار ہوا، تو یہ درست نہیں بلکہ اسکا حصہ ابھی بھی باقی ہے، کیونکہ وراثت ایک جبری چیز ہے اسکا ترک درست نہیں ہے۔(قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار جلد 12 ص 116 امدادیہ)
سیدی اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں:فان الارث سبب ضروری للملک حتی ان الوارث یرث ویملک سھمہ ولوقال الف مرۃ انی ترکت حقی والمسئلۃ فی الاشباہ وغیرھا۔ترجمہ: بلاشبہ وارث ہونامِلک کے لئے سبب ضروری ہے یہاں تک کہ وارث اپنے حصے کاوارث ومالک بن جاتاہے اگرچہ ہزار بار کہے ہے کہ میں نے اپنا حق چھوڑدیاہے اور یہ مسئلہ اشباہ وغیرہ میں مذکورہے۔
(فتاوی رضویہ کتاب المداینات جلد 25 ص 311)
سیدی اعلیٰ حضرت سے اسی طرح کا ایک سوالکیا گیا ،(سوال مع جواب)سوال :''خورشید حسن خاں ایک بیٹا امدادحسن خاں اوردوبیٹیاں وجیہ النساء اور تنربیگم چھوڑ کرانتقال کرگیا امدادحسن خاں اپنے حصہ سے دستبردار ہوگیا اب تقسیم ترکہ کیسے ہوگا؟الجواب : حق میراث حکم شرع ہے کہ رب العالمین تبارک وتعالٰی نے مقررفرمایا کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوسکتا۔قال علماؤنا کما فی الاشباہ وغیرہ الارث جبری لایسقط بالاسقاط، ہمارے علماء نے فرمایا جیساکہ اشباہ وغیرہ میں ہے کہ حق میراث جبری ہے کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا۔اوروجہ اس کی ظاہرہے کہ بیٹا مثلاً اپنے باپ کا اس لئے وارث ہوتاہے کہ یہ اس کابیٹاہے تو جس طرح یہ اپنے بیٹے ہونے کونہیں مٹا سکتا یونہی اپنے حق میراث کونہیں ساقط کرسکتا، پس امدادحسن خاں کاترکہ متوفی سے دستبردارہوناہرگزمعتبرنہیں، اور وہ اس وجہ سے زنہار کالعدم نہیں ہوسکتا اگرلاکھ باردست برداری کرلے شرع تسلیم نہ فرمائے گی اور اسے اس کے حصہ کامالک ٹھہرائے گی ہاں اگراسے لینامنظورنہیں تو یوں کرے کہ لے کراپنی بہن خواہ بھاوج خواہ جسے چاہے ہبہ کامل کردے اورجومال قابل تقسیم ہواسے منقسم کرکے قبضہ دلادے اس وقت البتہ اس کاحق منتقل ہوجائے گا ورنہ مجرد دست برداری کچھ بکارآمدنہیں ملخصا( فتاوی رضویہ کتاب الفرائض جلد 26 ص 132)
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں :''ارث جبری ہے، کہ موت مورث پر ہروارث خواہ مخواہ اپنے حصہ شرعی کامالک ہوتاہے مانگے خواہ نہ مانگے، لے یانہ لے، دینے کاعرف ہویانہ ہو، اگرچہ کتنی ہی مدت ترک کوگزر جائے، کتنے ہی اشتراک دراشتراک کی نوبت آئے اصلاً کوئی بات میراث ثابت کوساقط نہ کرے گی، نہ کوئی عرف فرائض اﷲ کوتغیرکرسکتاہے، یہاں تک کہ نہ مانگنا درکنار اگر وارث صراحۃً کہہ دے کہ میں نے اپناحصہ چھوڑ دیا جب بھی اس کی مِلک زائل نہ ہوگی ۔( فتاوی رضویہ کتاب الفرائض جلد 26 ص 115)
وراثت کے حوالے سے البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہےو:قسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت) ش: أي وقت الحكم بالموت۔ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اسکی موت کے وقت موجود ہوں۔( البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)
اسی طرح السراجی فی المیراث ص36میں ہے:''اولاہم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوہم وان سفلوا'' ترجمہ: میت کی وراثت کے زیادہ حقدار میت کا جزء یعنی بیٹے ہیں ،(اگر بیٹے نہ ہوں تو)اسکے بعد پوتے ۔(السراجی فی المیراث ص36)
تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے ''(وَیُقَدَّمُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْہُمْ) بِہَذَا التَّرْتِیبِ فَیُقَدَّمُ جُزْء ُ الْمَیِّتِ (کَالِابْنِ ثُمَّ ابْنِہِ وَإِنْ سَفَلَ'' ترجمہ: اور (میت کے رشتے داروں میں سے)قریب کے رشتے دار کو وراثت دینے میں مقدم کیاجائے گا پھر جو اسکے بعد زیادہ قریب ہو اسکو مقدم کیاجائے گا ،اسی ترتیب سے آگے تک لہذا میت کے جزء یعنی بیٹے کووراثت دینے میں مقدم کیا جائے گا ۔ (اگر بیٹا نہ ہوتو)پھر اسکا بیٹے(یعنی پوتے کو )وراثت دینے میں مقدم کیا جائے گا۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الفرائض باب العصبات جلد6ص774)
وراثت کی تقسیم قرآن کریم میں بیان کردہ اُصولوں کے مطابق ہے:بیٹے اور بیٹیوں کے حصے بارے میں ارشاد ہے: یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء: 10)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:19جمادی الثانی 1442 ھ/01 فروری 2021 ء