وراثت کا مسئلہ مناسخہ چار بطون

    warasat ka masla manasikha chaar batoon

    تاریخ: 30 اپریل، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 1245

    سوال

    ہمارے والدعبد البصیر کا1987ء میں انتقال ہو ا اورہماری والدہ کا 1992ءمیں انتقال ہوا، دونوں کے والدین ، دادا،دادی اور نانی کا ان کی زندگی میں ہی انتقال ہو گیاتھا ،انہو ں نے اپنے ورثاءمیں چار بیٹے (عبد القدیر خان،عبدالرؤف خان ،عتیق الرحمن خان ، فصیح الرحمن خان )اور دو بیٹیاں(فہمیدہ خانم ،سعیدہ خانم ) چھوڑیں ۔

    3)پھر2007میں عبد الرؤف کا انتقال ہوا، انہوں نے اپنے ورثا ءمیں ایک بیوہ (دلشاد )ایک بیٹا (افتخار )اور دو بیٹیا ں ( عنبرین ،فرحین )چھوڑیں ۔

    4)پھر 2013میں فصیح الرحمن کا انتقال ہوا ، انہوں نے اپنے ورثا ءمیں ایک بیوہ (شائستہ )ایک بیٹا (محمد احسن )اور چار بیٹیا ں (صبا، جویریہ، وردہ ،رامیش )چھوڑیں۔

    5)پھر 2017میں عتیق الرحمن کا انتقال ہوا ، انکی کوئی اولاد نہیں تھی ، انہوں نے اپنے ورثا میں ایک بیوہ (نسیم اختر )ایک بھائی (عبد القدیر خان )اور دو بہنیں (فہمیدہ خانم ،سعیدہ خانم)چھوڑیں ۔

    6)پھر 2017میں فہمیدہ کا انتقال ہوا، ان کے شوہر کا انتقال ان کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا ، انہوں نے اپنے ورثا میں دو بیٹے (محمد طاہر ،محمد مظہر )اور چھ بیٹیاں(ناہید، روبینہ، شبانہ ، حسنہ ، نازش ، شگفتہ ) چھوڑیں ۔

    7)پھر 2020میں نسیم اختر کا انتقال ہوا ، ان کے والدین ، دادا ،دادی اور نانی کا انتقال ان کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا ، ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی ، انہوں نے اپنے ورثا میں ایک بھائی (اخلاق احمد )اور تین بہنیں (بانو، ملکہ ، نگار )چھوڑیں ۔

    یہ فرمائیں کہ مرحوم عبد البصیر کا ترکہ ان کے ورثاء کے مابین کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟

    سائل: عبد القدیر (فیڈرل بی ایریا کراچی )


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں مرحوم عبد البصیر پراگرکوئی قرض تھاتوان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے پہلے اس کی ادائیگی اوراگرکوئی جائز وصیت کی تھی توبقیہ مال کی تہائی سے وصیت نافذکرنے کے بعد کل مال کے(2400)حصے کئے جائیں گے جن کی تقسیم درج ذیل ہیں:

    مرحوم کے بیٹے (عبدالقدیر )کو 660حصے بیٹی سعیدہ کو330 حصے ،مرحوم عبدالرؤف کی بیوہ (دلشاد)کو60 حصے ،بیٹے (افتخار )کو210 حصے دو بیٹیوں (عنبرین ، فرحین)کو الگ الگ105 حصے ، مرحوم فصیح الرحمن کی بیوہ (شائستہ )کو 60حصے، بیٹے(احسن )کو 140حصے ،چاربیٹیوں (صبا، جویریہ، وردہ ،رامیش)کو الگ الگ 70حصے ،مرحومہ نسیم اختر کے بھائی (اخلاق احمد )کو 48حصے تین بہنوں (بانو، ملکہ ، نگار)کو الگ الگ 24حصے،مرحومہ فہمیدہ کے دو بیٹوں (محمد طاہر ،محمد مظہر)کوالگ الگ66 حصے اور چھ بیٹیوں (ناہید، روبینہ، شبانہ ، حسنہ ، نازش ، شگفتہ)کو الگ الگ 33حصے ملیں گے ۔ یہ حصے قرآن کریم کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق نکالے گئے ہیں ۔

    فائدہ:رقم تقسیم کرنے کاحسابی طریقہ: جائیداد منقولہ وغیرمنقولہ کی تمام رقم کو فتوی میں بیان کردہ کل حصوں کو (2400) پر تقسیم کریں جو جواب آئے اس جواب کو محفوظ کرلیں اور پھر اس محفوظ جواب کو ہر وارث کے حصہ سے ضرب کریں جو جواب آئے گا وہ ہر وارث کی رقم ہوگی جو بطورِ وراثت اسے اپنے مورث سے مل رہی ہے۔پھر آخر میں تمام ورثاء کی رقم کو ملاکر چیک کرلیں اگر وہ کل مجموعہ کل جائیداد کی رقم کے برابر ہے تو تقسیم درست ہے ورنہ نہیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی