وراثت کا مسئلہ مناسخہ تین بطن

    warasat ka masla manasakha teen batn

    تاریخ: 19 مئی، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 1374

    سوال

    ایک شخص (وقار احمد) کا انتقال ہوا اسکی تین بیویاں(شکیلہ، روشن جہاں، عثمانی) تھی جن میں سے دو بیویوں (شکیلہ، روشن جہاں )کا اسکی زندگی میں ہی انتقال ہوگیا جبکہ کچھ اولاد بھی زندگی میں وفات پا گئی ، وقت وفات ٹوٹل 5 بیٹے(ذوالفقار، افتخار، نثار، محبوب،وقاص) اور 4 بیٹیاں (جمیلہ، روبینہ، شبانہ، شائستہ)حیات تھی۔

    تینوں بیویوں میں سے عثمانی لاولد ہے، جبکہ شکیلہ خاتون سے ایک لڑکا(ذوالفقار) دو لڑکیاں(جمیلہ، روبینہ) ۔ اور روشن جہاں سےچار بیٹے(نثار، افتخار ،محبوب،وقاص)اور دو بیٹیاں(شبانہ، شائستہ) ہیں۔

    بعد ازاں ایک بیٹے افتخار کا انتقال ہواجوکہ غیر شادی شدہ تھا ،اسکے بعد ایک اور بیٹے محبوب کا انتقال ہوا جسکی ایک بیوی(نسرین) ایک بیٹا(علی) اور ایک بیٹی (زینب)ہے ۔ وراثت کی شرعی تقسیم مطلوب ہے۔

    سائل:ذوالقفار: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے فبہا۔ اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر قرض کی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جائیں گے ،اس میں سے ایک حصہ سے وصیت پوری کی جائیگی اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جائیں گے۔

    السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)

    مالِ وراثت کی تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کے 768 حصے کیے جائیں گے ۔ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے:

    کل حصے : 768

    عثمانی:96 ، ذوالفقار:96 ، نثار:120 وقاص:120 جمیلہ:48 ، روبینہ:48 ، شبانہ:60 ، شائستہ:60 ، یاسمین:15 علی :70 ، زینب :35

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے :قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)

    عینی (سگے )بہن بھائیوں کی صورت میں علاتی (باپ شریک) بہن بھائی محروم ہوجاتے ہیں ، کیونکہ عینی میں دو قرابتیں ہیں جبکہ علاتی میں محض ایک ، سو عینی علاتی سےاقرب ہوا،اور علاتی ابعد اور اقرب کی موجودگی میں ابعد ساقط ہوتا ہے جیساکہ تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے: وَیُقَدَّمُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْہُمْ) بِہَذَا التَّرْتِیب۔ترجمہ: اور (میت کے رشتے داروں میں سے) قریب کے رشتے دار کو وراثت دینے میں مقدم کیاجائے گا پھر جو اسکے بعد زیادہ قریب ہو اسکو مقدم کیاجائے گا ،اسی ترتیب سے آگے تک معاملہ ہوگا۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الفرائض باب العصبات جلد6ص774)

    سراجی مع الشریفیہ میں ہے: یرجحون بقوة القرابة أعني به ذا القرابتین أولی من ذي قرابة واحدة ذکراً کان أو أنثیٰ؛ لقوله علیه السلام: إن أعیان بني الأم یتوارثون دون بني العلات۔ ترجمہ:ورثاء قوت قرابت کی وجہ سے ترجیح پائیں گے ، لہذادو قرابت والا ایک قرابت والے سے اولٰی ہے مذکر ہو یا مؤنث کیونکہ فرمانِ رسول ﷺ ہے عینی وارث ہونگے نہ کہ علاتی ۔(سراجی ص 21 شریفیہ ص:47)

    فائدہ : رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جائیداد کی مارکیٹ ویلیو لگواکرکل رقم کو مبلغ یعنی 768 پرتقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:11 جمادی الثانی1444 ھ/04 جنوری 2023 ء