تحریری طلاق کا شرعی حکم
    تاریخ: 17 جنوری، 2026
    مشاہدات: 46
    حوالہ: 608

    سوال

    میں نے حالت ہوش و حواس میں بلاجبر و اکراہ اپنی بیوی کے لئے طلاق نامہ تیار کروایا جس میں یہ عبارت درج تھی کہ میں اپنے بیوی کو طلاق ثلاثہ ،(طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں)اس طلاق نامہ پر میں نے دستخظ بھی کئے ۔ کیا اس صورت میں میری بیوی کو طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟حکم شرع ارشاد فرمائیں۔

    سائل:محمد یاسر : ایبٹ آباد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    نوٹ : سائل سے طلاق کے پیپر منگوائے گئے جس میں واضح طور پر یہ درج تھا ''میں مسماۃ عائشہ بی بی دختر زین محمد کو طلاق ثلاثہ(طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں)دیتا ہوں '' اوراس پر شوہر کے دستخط موجود تھے۔

    مذکورہ صورت کے پیش نظر عائشہ بی بی دختر زین کو تین طلاقیں واقع ہوگئیں ،اور ان تین طلاقوں سے وہ شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی۔ اب دونوں کا بغیر حلالہ شرعی ساتھ رہنا حرام ہے۔

    لیکن یاد رہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینا گناہ کا کام ہے خواہ تینوں ایک جملے سے دے یا متفرق طور پر دے،جیساکہ حدیث پاک میں ہے: امام نسائی نے محمود بن لبید سے روایت کیا:عن محمود بن لبید قال اخبر رسول اللہ ﷺ عن رجل طلق امراتہ ثلث تطلیقات جمیعا فقام غضبان ثم قال ایلعب بکتاب اللہ عزوجل وانا بین اظہر کم حتی قام رجل فقال یا رسول اللہ الااقتلہ۔ ترجمہ:حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک شخص کے متعلق خبر دی گئی کہ اس نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دے دی ہیں تو آپ ﷺ غضب ناک حالت میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا ’میرے سامنے کتاب اللہ کو کھیل بنایا جارہا ہے ؟ حتی کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ،میں اس کو قتل نہ کردوں۔( سنن النسائی، کتاب الطلاق، حدیث نمبر( 3401): 6/142، مطبوعہ: مکتب المطبوعات الاسلامیۃ، حلب)

    لہذا ایک مجلس میں تین طلاق دینے کی وجہ سے آپ پر توبہ لازم ہے،لیکن اگر کوئی شخص ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں زبانی یا تحریری طور پر دے تو وہ تینوں واقع ہوجائیں گی۔چناچہ فتاوٰی ھندیہ میں ہے: ''اذاقال لامرأتہ’’ انت طالق وطالق وطالق‘‘ ولم یعلقہ بالشرط، ان کانت مدخولۃ طلقت ثلثا'' ترجمہ:جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا ’’تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اورطلاق ہے‘‘ اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہ کیا،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں ۔( فتاوی ہندیہ، کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل الاول: 1/355، مطبوعہ: دار الفکر، بیروت)

    یوں ہی ناصر السنہ محی الدین العلامہ ابو زکریا یحی بن شرف النووی نے شرح النووی میں فرمایا : قال لامرأتہ انت طالق ثلاثاً فقال الشافعی ومالک وابو حنیفۃ واحمد وجماھیر العلماء من السلف والخلف یقع ثلاثاً‘‘۔ترجمہ: جس شخص نے اپنی بیوی کو کہا تجھے تین طلاقیں ہیں تو اس کے متعلق امام شافعی، امام مالک، امام اعظم ابو حنیفہ، امام احمد اور جمہور علماء سلف وخلف نے تین طلاق کے واقع ہونے کا فتوی صادر فرمایا۔

    (شرح النووی علی المسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث: 1/478، مطبوعہ: قدیمی کتب خانہ،کراچی)

    جس طرح زبان سے دی جانے والی طلاق مؤثر ہوتی ہیں یونہی تحریری طلاق بھی مؤثر ہوتی ہے، کیونکہ تحریر عند الشرع خطاب کے درجے میں ہوتی ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے:القلم احد اللسانین ۔ترجمہ:قلم دوزبانوں میں سے ایک ہے۔(ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ،جلد9ص 675)

    حاشیہ شامی وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے واللفظ لہ:الْکِتَابَۃُ عَلَی نَوْعَیْنِ: مَرْسُومَۃٍ وَغَیْرِ مَرْسُومَۃٍ، وَنَعْنِی بِالْمَرْسُومَۃِ أَنْ یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا یُکْتَبُ إلَی الْغَائِبِ. وَغَیْرُ الْمَرْسُومَۃِ أَنْ لَا یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا، وَہُوَ عَلَی وَجْہَیْنِ: مُسْتَبِینَۃٍ وَغَیْرِ مُسْتَبِینَۃٍ، فَالْمُسْتَبِینَۃُ مَا یُکْتَبُ عَلَی الصَّحِیفَۃِ وَالْحَائِطِ وَالْأَرْضِ عَلَی وَجْہٍ یُمْکِنُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. وَغَیْرُ الْمُسْتَبِینَۃِ مَا یُکْتَبُ عَلَی الْہَوَاء ِ وَالْمَاء ِ وَشَیْء ٌ لَا یُمْکِنُہُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. فَفِی غَیْرِ الْمُسْتَبِینَۃِ لَا یَقَعُ الطَّلَاقُ وَإِنْ نَوَی، وَإِنْ کَانَتْ مُسْتَبِینَۃً لَکِنَّہَا غَیْرَ مَرْسُومَۃٍ إنْ نَوَی الطَّلَاقَ وَإِلَّا لَا، وَإِنْ کَانَتْ مَرْسُومَۃً یَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَی أَوْ لَمْ یَنْوِ ثُمَّ الْمَرْسُومَۃُ۔ ترجمہ: کتابتِ (طلاق ) کی دو قسمیں ہیں ،(1) مرسومہ (2) غیر مرسومہ اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق کاعنوان ہو جیسے کسی شخص کوخط لکھتے ہیں تو اس پر عنوان دیتے ہیں،اور غیر مرسومہ سے مراد جس پر طلاق کا عنوان نہ ہو،پھر اس (غیرمرسومہ) کی دو قسمیں ہیں۔مستبینہ اور غیر مستبینہ (یعنی واضح اور غیر واضح) مستبینہ وہ ہے جو دیوار،زمین یا کسی کاغذپر لکھ کر دی جائے کہ جسکو پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو، اورغیر مستبینہ وہ ہے جو پانی ،ہوا یا ایسی چیز پر لکھ کر دی جائے جس کو سمجھنا اور پڑھنا ممکن نہ ہو،پس غیر مستبینہ (یعنی اس آخری والی صورت میں) طلاق واقع نہیں ہوگی ،اگر چہ طلاق دینے کی نیت کی ہو، اور اگر مستبینہ ہو لیکن غیر مرسومہ ہو تو اگر نیت کی تو طلاق واقع ہوجائے گی اور نیت نہیں کی تو نہیں ہوگی،اور اگر طلاق مرسومہ ہو(یعنی اس پر طلاق کا عنوان ہو جیسے آج کل کا طلاق نامہ) تو نیت کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہوجائے گی۔ (حاشیہ شامی کتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ج3ص246،عالمگیریہ کتاب الطلاق الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ ج1 ص414)

    طلاق نامہ بھی مرسومہ طلاق کی ایک صورت ہے لہذا عائشہ بی بی دختر زین محمد کو طلاق نامہ کے مطابق تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔

    اب آپ دونوں ایک دوسرے پر حرام ہیں ، اب اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا :ارشاد باری تعالی ہے: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ۔ ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیث ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ۔ ( البقرۃ : 230)

    فتاوٰی ھندیہ میں حلالہ کی وضآحت یوں فرمائی : وَإِنْ كَانَ الطَّلَاقُ ثَلَاثًا فِي الْحُرَّةِ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ نِكَاحًا صَحِيحًا وَيَدْخُلَ بِهَا ثُمَّ يُطَلِّقَهَا ترجمہ: آزاد عورت کو اگر تین طلاقیں دی گئیں تو اسکے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لئے اس وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک (عدت کے بعد)دوسرے شوہر سے نکاح صحیح نہ کرلے اورنکاح کے بعد وہ دوسرا شوہراس سے دخول نہ کرلے ،پھر دوسرا شوہر اسے طلاق دے (اور عورت اس دوسرے شوہر کی عدت گزارے)پھر یہ عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہوگی۔( فتاوٰی ھندیہ،کتاب النکاح ، جلد 1 ص 473مطبوعہ بیروت )

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں : '' حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ ( فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 12ص 84)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:مفتی محمدریحان قادری

    تاریخ اجراء:13 ذوالحج 1440 ھ/15 اگست 2019 ء