تحریری طلاق کی ایک صورت
    تاریخ: 17 جنوری، 2026
    مشاہدات: 38
    حوالہ: 610

    سوال

    ایک لڑکی کو اسکے شوہر نے درج ذیل تحریر کے ذریعے طلاق دی۔یہ تحریر سادہ کاغذ پر لکھی ہوئی تھی اور اس پر طلاق نامہ کا عنوان موجود ہے اور یہ کہ یہ تحریر کرتے وقت کئی لوگ موجود تھے۔ جن میں سے دو لوگ محمد صادق اور عبدالستار بطورِ گواہ تھے۔تحریر درج ذیل ہے:

    میں عدنان ارشاد ہاشمی ولد محمد ارشاد کی مؤرخہ 2017ـ1ـ3 کوعمبرین حسین ولد محمد حسین سے شادی ہوئی ، شادی کے فورا بعد سے گھر میں لڑائی جھگڑے رہتا تھااور میری بیوی بار بار طلاق مانگتی تھی میں برداشت کرتا رہا مگر آج مؤرخہ 2020ـ9ـ13کو اپنے ہوش و حواس قائم رکھتے ہوئے ان گواہان (محمد صادق، عبدالستار)کی موجودگی میں ''طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں۔''

    سوال یہ ہے کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟

    نیز یہ کہ انہوں نے زبانی بھی تین طلاقیں ان ہی الفاظ سے دی ہیں جس کے گواہ (محمد نوید ، محمد فیاض ) ہیں۔

    سائل:محمد ظفر حسین :کراچی۔

    لڑکے سے کئی بار رابطہ کی کوشش کی گئی تاہم کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ گواہان نے زبانی اور تحریری کی گواہی بھی دی ہے۔ یہ جواب اس سوال کو درست ہونے کی تقدیر پر دیا جارہا ہے ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    زبانی اور تحریری ہر ایک صورت کے اعتبار سےمذکورہ صورت میں لڑکی کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ۔

    جس کے بعد عورت ،مرد پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے۔عورت پر عدت لازم ہے اور اب رجوع کی کوئی گنجائش باقی نہیں مگر یہ کہ حلالہ شرعیہ ہو۔

    تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں اس سلسلہ میں قرآن و حدیث سےدلائل درج ذیل ہیں۔

    تین طلاق کے تین ہونے پر قرآن پاک سے دلیل:

    اللہ تعالی نے قرآن پاک میں اولاً دو طلاق کا ذکر کرکے فرمایا کہ اب بھی خاوندکو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ، اور تیسری طلاق کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اب ان کے درمیان حرمت مغلظہ قائم ہوچکی ہے لہذا بغیر حلالہ شرعیہ کے واپسی ناممکن ہے ۔سورہ البقرہ میں اللہ تعالی فرماتا ہےالطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ'' ترجمہ کنز الایمان :یہ طلاق دو بارتک ہی ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔(البقرۃ :آیت 229)

    پھر اسکے بعد مزید فرمایا:'فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِن بَعْدُ حَتَّیَ تَنکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ 'ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ۔(البقرۃ ،آیت:230)

    ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالی نے مطلقاً تین طلاق کا حکم بیان فرمایا اور اسکو ایک مجلس یا متعدد مجلس کے ساتھ مقید نہیں کیا یعنی تین طلاقیں ایک مجلس میں دے یا ایک ایک سال کے وقفے سے دے بہرصورت تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔جیسا کہ غیر مقلد اہلحدیث کے امام ابن حزم ظاہری نے اپنی کتاب میں لکھا: فھذا یقع علی الثلاث مجموعۃ ومفرقۃ، ولا یجوز ان یخص بھذہ الآیۃ بعض ذلک دون بعض بغیر نص۔ترجمہ: یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ تین طلاق اکٹھی دی جائیں یا الگ الگ بہر حال طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اور اس آیت کو بغیر دلیل کے بعض صورتوں کے ساتھ خاص کرنا جائز نہیں ہے ۔(المحلی بالآثار: 3/394، مطبوعہ: دار الفکر بیروت، لبنان)۔

    تین طلاق کے تین ہونے پراحادیث سے دلائل :

    1:امام نسائی نے محمود بن لبید سے روایت کیا:عن محمود بن لبید قال اخبر رسول اللہ ﷺ عن رجل طلق امراتہ ثلث تطلیقات جمیعا فقام غضبان ثم قال ایلعب بکتاب اللہ عزوجل وانا بین اظہر کم حتی قام رجل فقال یا رسول اللہ الااقتلہ۔ترجمہ:حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک شخص کے متعلق خبر دی گئی کہ اس نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دے دی ہیں تو آپ ﷺ غضب ناک حالت میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا ’میرے سامنے کتاب اللہ کو کھیل بنایا جارہا ہے ؟ حتی کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ،میں اس کو قتل نہ کردوں۔(سنن النسائی، کتاب الطلاق، حدیث نمبر 3401: 6/142، مطبوعہ: مکتب المطبوعات الاسلامیۃ، حلب)

    اگرتین طلاقوں سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اتنا سخت اظہار ناراضگی کیوں فرمایا؟ یہاں تک کہ ایک صحابی نے اس شخص کے اس جرم کی وجہ سے اسکو قتل کرنے کی اجازت طلب کی۔

    2:امام المحدثین ابو عبد اللہ امام بخاری کے استادِ محترم عظیم محدث امام عبد الرزاق نے اپنی مصنف میں روایت کیا: عَنْ دَاوُدَ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: طَلَّقَ جَدِّی امْرَاَۃً لَہُ اَلْفَ تَطْلِیقَۃٍ، فَانْطَلَقَ اَبِی اِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اما اتَّقَی اللَّہَ جَدَُّک، اَمَّا ثَلَاثٌ فَلَہُ، وَاَمَّا تِسْعُ مِاءَۃٍ وَسَبْعَۃٌ وَتِسْعُونَ فَعُدْوَانٌ وَظُلْمٌ، اِنْ شَاءَ اللَّہُ تَعَالَی عَذَّبَہُ، وَاِنْ شَاءَ غَفَرَ لَہُ :ترجمہ: داود کہتے ہیں کہ میرے دادا نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھیں تو میرے والد رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ان کی خدمت میں سارا معاملہ عرض کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تیرا دادا اللہ سے نہیں ڈرتا؟ تین طلاق کا ان کو حق تھا ( وہ واقع ہوگئیں)اور نو سو ستانوے طلاق انکی طرف سے ظلم وزیادتی ہے ، اللہ تعالی کی مرضی چاہے تو اسے عذاب دے یاچاہے تو اسے بخش دے ۔(مصنف عبد الرزاق، کتاب الطلاق، حدیث نمبر11339: 6/393، مطبوعہ: المکتب الاسلامی، بیروت)

    3:صحاح ستہ کی چھٹی کتاب سنن ابن ماجہ کی حدیث پاک ہے : عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ:’’قَالَ: قُلْتُ لِفَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ: حَدِّثِینِی عَنْ طَلَاقِکِ، قَالَتْ: طَلَّقَنِی زَوْجِی ثَلَاثًا وَھُوَ خَارِجٌ اِلَی الْیَمَنِ، فاَجَازَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘‘۔ترجمہ: حضرت عامر شعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے فاطمہ بنت قیس سے کہا کہ آپ مجھے اپنی طلاق کا واقعہ بیان کیجئے ، انہوں نے جواب دیا مجھے میرے شوہرنے یمن جاتے وقت تین طلاقیں دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے یہ تینوں طلاقیں نافذ فرما دیں۔ (سنن ابن ماجہ ، کتاب الطلاق، باب من طلق ثلاثاً فی مجلس واحد، حدیث نمبر 2024: 1/652، مطبوعہ:احیاء الکتب العربیۃ، بیروت)

    حدیث میں یہ بات ظاہر ہے کہ یہ تین طلاقیں ایک مجلس میں دی گئیں تھیں جبھی تو حضرت فاطمہ نے یہ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ طلاقیں نافذ فرمادیں۔ اگر الگ الگ مجلس میں تین طلاقیں واقع ہوتیں تو رسول اللہ ﷺ کا ان طلاقوں کو نافذ کرنے کا کیا معنی ہے ؟ اسی لئے امام ابن ماجہ نے اس حدیث کیلئے جو باب باندھا وہ من طلق ثلاثاً فی مجلس واحد ہے یعنی جو ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے ۔

    4:امام المحدثین ابو عبد اللہ بخاری اپنی صحیح بخاری میں حضرت عویمر عجلانی کا واقعہ لعان ذکر کرنے کے بعد نقل فرماتے ہیں: فلما فرغا قال عویمر کذبت علیھا یارسول اللہ ان ا مسکتھا فطلقھا ثلاثاً۔ترجمہ: جب دونوں میاں بیوی لعان سے فارغ ہو گئے تو حضرت عویمر نے کہا: یارسول اللہ ﷺ اگر میں اسکو روکے رکھوں تو یہ میرا اسٍپر جھوٹ ہوگا۔ چنانچہ حضرت عویمر نے (اسی وقت ) تین طلاقیں دے دیں۔(صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب اللعان، حدیث نمبر5308: 7/53، دار طوق النجاۃ، بیروت)

    5:اسی واقعہ کے بارے میں سنن ابی داود میں یہ الفاظ منقول ہیں: فَطَلَّقَھَا ثَلَاثَ تَطْلِیقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَاَنْفَذَہُ رَسُولُ اللّہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلّم‘‘ترجمہ: حضرت عویمر عجلانی نے رسول اللہ ﷺ کے روبرو تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ ﷺ نے تینوں طلاقوں کو نافذ فرما دیا‘‘۔( سنن ابی داود، کتاب الطلاق، باب اللعان، حدیث نمبر 2250: 2/274، المکتبۃ العصریۃ، بیروت)

    6:امام دار الہجرت عظیم مجتہد ومحدث امام مالک نے حدیث کی عظیم الشان کتاب موطا امام مالک میں مفسر شہیر حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا:’’اَنَّ رَجُلاً قَالَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ: اِنِّی طَلَّقْتُ امْرَاَتِی مِاءَۃَ تَطْلِیقَۃٍ، فَمَاذَا تَری عَلَیَّ؟ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ: طَلُقَتْ مِنْکَ لِثَلاَثٍ، وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ آیَاتِ اللہِ ھُزُواً‘‘ترجمہ: ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دی ہیں تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا : تیری عورت کو تیری طرف سے تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور باقی ستانوے کی وجہ سے تونے اللہ تعالی کی آیات کو مذاق بنا لیا۔(مؤطا امام مالک، کتاب الطلاق، حدیث نمبر2021: 4/789، مطبوعہ: مؤسسہ زاید بن سلطان، ابو ظہبی)

    ائمہ اربعہ اور جمیع علماء کی نظر میں تین طلاقوں کا حکم :

    ناصر السنہ محی الدین العلامہ ابو زکریا یحی بن شرف النووی نے شرح النووی میں فرمایا : قال لامرأتہ انت طالق ثلاثاً فقال الشافعی ومالک وابو حنیفۃ واحمد وجماھیر العلماء من السلف والخلف یقع ثلاثاً‘‘۔ترجمہ: جس شخص نے اپنی بیوی کو کہا تجھے تین طلاقیں ہیں تو اس کے متعلق امام شافعی، امام مالک، امام اعظم ابو حنیفہ، امام احمد اور جمہور علماء سلف وخلف نے تین طلاق کے واقع ہونے کا فتوی صادر فرمایا۔[ شرح النووی علی المسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث: 1/478: قدیمی کتب خانہ، کراچی]

    محقق علی الاطلاق علامہ کمال الدین ابن ہمام نے فرمایا: ذھب جمھورالصحابۃ والتابعین ومن بعدھم من ائمۃ المسلمین الی ان یقع ثلاثاً:ترجمہ: جمہور صحابہ، تابعین اور ان کے بعد والے مسلمانوں کے ائمہ کرام کا مسلک ہے کہ ایک لفظ سے تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہوں گی۔[فتح القدیر، کتاب الطلاق، باب طلاق السنۃ: 3/469، مطبوعہ: دارالفکر، بیروت، لبنان]

    عمد ۃالقاری شرح صحیح بخاری میں ہے مذہب جماھیر العلماء من التابعین ومن بعد ھم منھم الاوزاعی والنخعی والثوری ابوحنیفہ واصحابہ ومالک واصحابہ والشافعی واصحابہ واحمد واصحابہ واسحاق وابو ثوروابو عبید وآخرون کثیرون علی ان من طلق امراتہ ثلاثا وقعن ولکنہ یاثم وقالوا من خالف فیہ فھو شاذمخالف لاھل السنۃ وانما تعلق بہ اھل البدع ۔ترجمہ: جمہور علماء کرام تابعین میں سے اور جو ان کے بعد والے ہیں ان میں امام اوزاعی اور علامہ نخعی اور علامہ ثوری اور امام ابو حنیفہ اور اس کےاصحاب اور امام مالک اور اس کے اصحاب اور امام شافعی اور اس کے اصحاب اور امام احمد اور ان کے اصحاب اور علامہ اسحاق اور علامہ ابو ثور اور علامہ ابو عبید اور بہت سے متاخرین کا مذہب یہ ہے کہ جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو واقع ہو جائیں گی لیکن اس سے گناہ گار ہو گا اور علماء نے فرمایا جو اس کے خلاف مذہب رکھتا ہو شاذاور اہل سنت کا مخالف ہے اور اس کا تعلق اہل بدعت سے ہے ۔[ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب من اجاز طلاق الثلاث: 20/233، دار احیاء التراث العربی، بیروت]

    فقہاء احناف کی نظر میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کا حکم:

    اسی طرح فتاوی ہندیہ میں ہے:اذاقال لامرأتہ انت طالق وطالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط، ان کانت مدخولۃ طلقت ثلثا۔ترجمہ:جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اورطلاق ہے‘‘ اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہ کیا،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں ‘‘۔( فتاوی ہندیہ، کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل الاول: 1/355، مطبوعہ: دار الفکر، بیروت)

    اسی طرح تقریباً چاروں مذاہب کی فقہی کتب میں یہ بات موجود ہے کہ تین طلاق بیک وقت دینے سے تین ہی ہوتی ہیں، مثلاً فقہ حنفی کی کتب میں رد المحتار، الدر المختار، تبیین الحقائق، النھر الفائق، بدائع الصنائع، فتح القدیر، الجوہرۃ النیرۃ، شرح الوقایۃ، الہدایۃ، البنایۃ، حاشیۃ الطحطاوی وغیرہم میں تین طلاق کو تین ہی شمار کیا اورنافذ کیا ہے ۔

    جس طرح زبان سے دی جانے والی طلاق مؤثر ہوتی ہیں یونہی تحریری طلاق بھی مؤثر ہوتی ہے، کیونکہ تحریر عند الشرع خطاب کے درجے میں ہوتی ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے:القلم احد اللسانین ۔ترجمہ:قلم دوزبانوں میں سے ایک ہے۔(ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ،جلد9ص 675)

    حاشیہ شامی وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے واللفظ لہ:الْکِتَابَۃُ عَلَی نَوْعَیْنِ: مَرْسُومَۃٍ وَغَیْرِ مَرْسُومَۃٍ، وَنَعْنِی بِالْمَرْسُومَۃِ أَنْ یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا یُکْتَبُ إلَی الْغَائِبِ. وَغَیْرُ الْمَرْسُومَۃِ أَنْ لَا یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا، وَہُوَ عَلَی وَجْہَیْنِ: مُسْتَبِینَۃٍ وَغَیْرِ مُسْتَبِینَۃٍ، فَالْمُسْتَبِینَۃُ مَا یُکْتَبُ عَلَی الصَّحِیفَۃِ وَالْحَائِطِ وَالْأَرْضِ عَلَی وَجْہٍ یُمْکِنُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. وَغَیْرُ الْمُسْتَبِینَۃِ مَا یُکْتَبُ عَلَی الْہَوَاء ِ وَالْمَاء ِ وَشَیْء ٌ لَا یُمْکِنُہُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. فَفِی غَیْرِ الْمُسْتَبِینَۃِ لَا یَقَعُ الطَّلَاقُ وَإِنْ نَوَی، وَإِنْ کَانَتْ مُسْتَبِینَۃً لَکِنَّہَا غَیْرَ مَرْسُومَۃٍ إنْ نَوَی الطَّلَاقَ وَإِلَّا لَا، وَإِنْ کَانَتْ مَرْسُومَۃً یَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَی أَوْ لَمْ یَنْوِ ثُمَّ الْمَرْسُومَۃُ۔ ترجمہ: کتابتِ (طلاق ) کی دو قسمیں ہیں ،(1) مرسومہ (2) غیر مرسومہ اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق کاعنوان ہو جیسے کسی شخص کوخط لکھتے ہیں تو اس پر عنوان دیتے ہیں،اور غیر مرسومہ سے مراد جس پر طلاق کا عنوان نہ ہو،پھر اس (غیرمرسومہ) کی دو قسمیں ہیں۔مستبینہ اور غیر مستبینہ (یعنی واضح اور غیر واضح) مستبینہ وہ ہے جو دیوار،زمین یا کسی کاغذپر لکھ کر دی جائے کہ جسکو پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو، اورغیر مستبینہ وہ ہے جو پانی ،ہوا یا ایسی چیز پر لکھ کر دی جائے جس کو سمجھنا اور پڑھنا ممکن نہ ہو،پس غیر مستبینہ (یعنی اس آخری والی صورت میں) طلاق واقع نہیں ہوگی ،اگر چہ طلاق دینے کی نیت کی ہو، اور اگر مستبینہ ہو لیکن غیر مرسومہ ہو تو اگر نیت کی تو طلاق واقع ہوجائے گی اور نیت نہیں کی تو نہیں ہوگی،اور اگر طلاق مرسومہ ہو(یعنی اس پر طلاق کا عنوان ہو جیسے آج کل کا طلاق نامہ) تو نیت کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہوجائے گی۔(حاشیہ شامی کتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ج3ص246،عالمگیریہ کتاب الطلاق الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ ج1 ص414)

    طلاق نامہ بھی مرسومہ طلاق کی ایک صورت ہے لہذا طلاق نامہ کے مطابق تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔

    طلاقیں واقع ہوتے ہی ان پر عدت لازم ہوچکی۔عدت کی تفصیل یہ ہے:طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ،اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینے عدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی،ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرۃ:228)

    دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالٰی ہے: والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق: 04)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:21 شعبان المعظم 1442 ھ/05 اپریل 2021 ء