وراثت کا مسئلہ حواله نمبر1294

    warasat ka masla hawala number 1294

    تاریخ: 9 جولائی، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 1607

    سوال

    ہماری بہن(روبینہ کوثر) کا 19 رمضان المبارک کو انتقال ہوا ہے، انکی وراثت میں ایک فلیٹ ہے جو کہ انہوں نے اپنے زیورات بیچ کر خریدا تھا اور کچھ قرض لیا تھا تاہم قرض ادا کردیاتھا ، انکی کوئی اولاد نہیں ہے البتہ شوہر حیات ہیں لیکن پیریلائز ہیں اسکے علاوہ ہمارے والد صاحب بھی حیات ہیں جبکہ والدہ کا دو سال قبل انتقال ہوگیا ہے ہم چار بھائی ہیں اور روبینہ کوثر ہماری بڑی بہن ہیں۔

    سائل:محمد شہزاد :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب کسی کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے تو بات مکمل ہے اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر اسکے ذمے جو قرض ہے اسکی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ اگر مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس) مال کے تین حصے کیے جاتے ہیں ،ایک حصہ سے وصیت پوری کی جاتی ہے اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جاتے ہیں۔

    مالِ وراثت کی تقسیم کی تفصیل:

    امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد فلیٹ ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۔

    تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ فلیٹ یا اسکی قیمت کے صرف 2 حصے کیے جائیں گے ۔جس میں سے ایک حصہ شوہر کو اور ایک والد کو ملے گا ، جبکہ تمام بھائی محروم ہونگے، کیونکہ میت کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں والد عصبہءِ محض قرار پاتا ہے اور مابقی جمیع مال کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اگر چہ یہاں بھائی بھی عصبات میں سے ہیں لیکن قوتِ قرابت والد کو حاصل ہے لہذا والد عصبہءِ اقرب ہوا اور تمام بھائی عصبہءِ ابعد ۔ اور اقرب کی موجودگی میں ابعد محروم ہوجاتاہے۔

    وراثت کی مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)

    علمِ وراثت کا اصول ہے کہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور والا رشتہ دار محروم رہتا ہے، اور یہاں باپ بھائیوںکی بہ نسبت قریبی ہے لہذا اس قاعدے کے تحت میت کے باپ کی موجودگی میں تمام بھائی محروم ٹھہریں گے،چناچہ سراجی میں ہے:یرجحون بقرب الدرجۃ،اعنی اولاھم بالمیراث جُزْء ُ المیت ای البنون ۔۔۔ثم اصلہ ای الاب ثم الجد۔۔۔۔ثم جزء ابیہ ،ای الاخوۃ،ثم بنوھم ترجمہ:وراثت کا زیادہ حق قریبی رشتہ دار رکھتے ہیں یعنی وراثت کا سب سے زیادہ حقدار میت کا جز یعنی بیٹے ہیں ۔۔۔پھر اس کی اصل یعنی باپ، داد پھراس کے باپ کا جز یعنی اس کا بھائی پھر انکی اولاد۔( السراجی فی المیراث ص54مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)

    یونہی تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے: وَیُقَدَّمُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْہُمْ) بِہَذَا التَّرْتِیب۔ ترجمہ: اور (میت کے رشتے داروں میں سے) قریب کے رشتے دار کو وراثت دینے میں مقدم کیاجائے گا پھر جو اسکے بعد زیادہ قریب ہو اسکو مقدم کیاجائے گا ، اسی ترتیب سے آگے تک معاملہ ہوگا۔(تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الفرائض باب العصبات جلد6ص774)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:04 شوال المکرم 1446ھ/ 03 اپریل2025 ء