warasat ka masla hawala number 1263
سوال
میرے والد کا ایک پلاٹ ہے اس میں ہماری والدہ، ہم 5 بھائی اور 2 بہنیں ہیں، ہمیں بتائیں کہ بہن کا کیا حصہ بنتا ہے اور بھائی کا کیا؟ بڑے بھائیوں کا یہ کہنا ہے اگر ہمیں 4 لاکھ ملے گا تو بہنوں کو 01 لاکھ ملے گا۔ اس سال محرم میں والدہ کا انتقال ہوگیا ہے جبکہ نانا نانی پہلے وفات پا چکے ہیں۔
سائل:ارشد علی : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہوا اور ورثاء بھی فقط یہی ہیں تو اس صورت میں حکم شرعی یہ ہے کہ پلاٹ کے کل 12 حصص ہونگے جس میں سے ہر بھائی کو 2 حصے اور ہر بہن کو 1 حصہ ملے گا، یعنی بہنوں کو بھائیوں کے حصے کا نصف ملے گا اس سے معلوم ہوگیا کہ کہ بڑے بھائیوں کا کہنا سراسر غلط ،بے اصل ،بے بنیاد ہے یہ شریعت کی نہیں بلکہ انکی من مانی تقسیم ہے جسکا کوئی اعتبار نہیں۔ وراثت اسی اعتبار سے تقسیم ہوگی جیسا کہ شریعت نے حکم ارشاد فرمایا۔والد کے بعد چونکہ والدہ کا انتقال ہوگیا اور انکے ورثاء بھی یہی ہیں لہذا والدہ کالعدم قرار پائیں گی اور وراثت 5 بھائیوں اور 2 بہنوں میں تقسیم ہوگی۔
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:16 جمادی الثانی1446ھ/ 19 دسمبر 2024 ء