talaq Irtidad aur Shohar ka Ghair Sharai Rawaiya
سوال
میری شادی کو 9 سال ہو چکے ہیں اور ہماری 5 سال کی ایک بیٹی ہے۔ میرا شوہر پچھلے کئی سالوں سے آئس اور چرس کے نشے کا عادی ہے اور زیادہ تر وقت کمرے میں بند ہو کر گزارتا ہے اور مجھ سے الگ کمرے میں سوتا ہے۔شوہر اکثر نازیبا گفتگو کرتا ہے اور (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’میں کسی شریعت کو نہیں مانتا‘‘۔ وہ نماز قرآن سے دور ہے اور کئی بار جھوٹا قرآن بھی اٹھا چکا ہے۔تقریباً ڈیڑھ سال قبل، شوہر نے اپنی والدہ کے سامنے پنجتن پاک کی قسم کھائی کہ وہ مجھ سے جسمانی تعلق نہیں رکھے گا۔ اس کے بعد سے میں نے کئی بار خود پہل کر کے قریب جانے کی کوشش کی لیکن وہ مجھے مکمل نظر انداز کر دیتا ہے۔شوہر اب کھلے عام کہتا ہے کہ ’’میں تمہیں بیوی کب مانتا ہوں؟‘‘ وہ باہر لڑکیوں کو بتاتا ہے کہ وہ ""Divorcedہے اور میں اس کی Ex-wife)) ہوں۔وہ اکثر مجھے گھر سے نکالنے کی دھمکی دیتا ہے، میری کردار کشی کرتا ہے اور مجھے شدید ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔شوہر کوئی مالی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔ میں اپنا اور بیٹی کا خرچہ خود اٹھا رہی ہوں۔
سوالات:
(۱) کیا اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے اور شریعت کو گالی دینے سے نکاح برقرار رہتا ہے؟
(۲) شوہر کا دوستوں اور لڑکیوں کو یہ کہنا کہ ’’میں طلاق یافتہ ہوں اور یہ میری سابقہ بیوی ہے‘‘، اس سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
(۳) ایک سال سے زائد عرصے تک بیوی کے قریب نہ آنے کی قسم کھانا اور نبھانا ایلاء کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟
(۴) ان تمام حالات میں کیا میرا اس کے ساتھ رہنا جائز ہے؟
سائلہ:بنت حوا بمعرفت مفتی احمد امین صاحب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بیوی کی جانب سے شوہر پر رب تعالیٰ کے انکار اور شریعت کو گالی دینے کا الزام ایک دعویٰ کی حیثیت رکھتا ہے، جس پر کفر کا حکم لگانے میں انتہائی احتیاط لازم ہے۔ شرعی ضابطہ ہے کہ جب تک قول (کہی گئی بات)، قائل (کہنے والا) اور ان کے درمیان نسبت میں کسی قسم کا احتمال یا شک باقی ہو، تب تک کسی مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ قول میں احتمال سے مراد یہ ہے کہ شوہر کی بات کے کئی معانی نکلتے ہوں۔ قائل میں احتمال سے مراد یہ ہے کہ وہ نشے (آئس یا چرس) کی ایسی حالت میں ہو جہاں عقل مغلوب ہو چکی ہو اور اسے تمیز نہ رہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، کیونکہ مجنون یا مغلوب العقل شرعی احکامات کا مکلف نہیں۔ نسبت میں احتمال یہ ہے کہ یہ بات یقینی طور پر ثابت نہ ہو کہ یہ مخصوص جملہ اسی نے کہا ہے۔ لہذا، جب تک یہ احتمالات موجود ہیں، کفر کا حکم عائد نہیں ہوگا اور نکاح برقرار رہے گا۔ البتہ اگر یہ تینوں چیزیں (قول، قائل اور نسبت) بغیر کسی شک کے ثابت ہو جائیں تو وہ اسلام سے خارج ہوجائے گا اور اس کے نتیجے میں نکاح فوراً ختم ہوجائے گا۔ ایسی صورت میں فوری توبہ، تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح لازم ہوگا۔
(۲) شوہر کا باہر لڑکیوں یا دوستوں کو یہ کہنا کہ ’’میں طلاق یافتہ ہوں‘‘، اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی، کیونکہ طلاق بیوی کو پڑتی ہے مرد کو نہیں (یعنی مرد خود کو طلاق نہیں دے سکتا)۔ البتہ شوہر کا اپنی بیوی کے بارے میں یہ کہنا کہ ’’یہ میری سابقہ بیوی ہے‘‘، اگر واقعتاً ایسا کہا تو اس سے ایک طلاق قضاءً ہوگئی۔ (البتہ اگر شوہر اس کا حلفیہ انکار کرتا ہے تو دو شرعی گواہ یعنی عاقل بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی کے بغیر محض عورت کا یہ دعوی کوئی طلاق واقع نہیں کرے گا، اور اگر شوہر انکار نہ کرے تو یہ دعوی بلا دلیل ثابت ہوجائے گا)۔
(۳) ایلاء (بیوی کے قریب نہ جانے کی قسم) تب ثابت ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ کا نام لے کر یا اس کی کسی صفت کا ذکر کر کے قسم اٹھائی جائے، یا اسے کسی عبادت (مثلاً روزے) پر معلق کیا جائے۔ چونکہ شوہر نے ’’پنجتن پاک‘‘ کی قسم کھائی ہے، تو شرعی طور پر یہ قسم منعقد ہی نہیں ہوئی۔ لہٰذا، اس صورت کو ایلاء نہیں کہا جائے گا اور نہ ہی اس سے کوئی جدائی واقع ہوئی۔
(۴) جہاں تک ایسے شوہر کے ساتھ رہنے کا تعلق ہے، تو یہ عورت کا اپنا اختیار ہے۔ اگر عورت سمجھتی ہے کہ نباہ ممکن ہے، خاص طور پر اولاد (بیٹی) کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ صبر کر سکتی ہے، تو وہ ساتھ رہ سکتی ہے۔ میاں بیوی کی جدائی کی صورت میں عموماً دونوں فریقین اور بچے شدید پریشانی کا شکار ہوتے ہیں۔بلاوجہ شرعی طلاق کا مطالبہ کرنا احادیث میں سخت ناپسندیدہ ہے، تاہم اگر شوہر کا رویہ ناقابلِ برداشت حد تک ظالمانہ ہو، وہ حقوق پورے نہ کرے اور تشدد کرے، تو عورت کو قانونی و شرعی راستہ اختیار کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن پہلا قدم اصلاح کی کوشش ہونا چاہیے۔اور شوہر کی نشے کی لت (آئس اور چرس) ایک سنگین بیماری اور گناہ ہے۔ اسے چھڑوانے کیلئے طبی علاج اور بحالی کے مراکز (Rehab)سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ایک نارمل انسان بن سکے۔
دلائل و جزئیات:
قول، قائل اور نسبت سے متعلق مفتی مطیع الرحمن رضوی صاحب لکھتے ہیں:’’پھر احتمال کبھی کلام یعنی بولی میں ہوتا ہے بھی تکلم یعنی بولنے میں ہوتا ہے اور کبھی متکلم یعنی بولنے والے ہیں تو محل کے اعتبار سے احتمال کے تحقیق کی تین صورتیں ہوئیں: (۱) کلام میں احتمال (۲) تکلم میں احتمال(۳) متکلم میں احتمال۔کلام میں احتمال کا مطلب یہ ہے کہ اثبات و دلالت یعنی معنی میں احتمال ہو جیسے ظاہر نص میں اس کے بر خلاف معنی کا احتمال ۔تکلم میں احتمال کا مطلب یہ ہے کہ اسناد و ثبوت میں احتمال ہو جیسے یہ احتمال کہ ممکن ہے رادی کی طرف سے حذف و زیادت ہو گئی ہو۔متکلم میں احتمال کا مطلب یہ ہے کہ متکلم کے حالات وکیفیات میں احتمال ہو جیسے کلام سابق کو منسوخ کر دینے اور اس سے رجوع کر لینے کا احتمال یا اکراہ یا نیند کی حالت میں کلام کرنے کا احتمال ‘‘۔ (اہل اقبلہ کی تکفیر، ص: 24، بزم عاشقان مصطفی لاہور)
مجنون کے متعلق سنن ابی داود کی حدیث شریف ہے: "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: رفع القلم عن ثلاثة، عن المجنون المغلوب على عقله حتى يفيق، وعن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يحتلم". ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ار شا د فرمایا کہ تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے:(۱) ایسا مجنو ن جس کا جنون اس کی عقل پر غالب ہو گیا ہو یہا ں تک کہ اس کو افاقہ ہو جا ئے۔ (۲) سونے والےسے جب تک وہ بیدارنہ ہو جائے۔ (۳) نا بالغ بچے سے یہا ں تک کہ وہ با لغ ہو جا ئے ۔ (سنن ابی داؤد ، باب فی المجنون، 4/140، رقم الحدیث: 4401،المكتبۃ العصريۃ بیروت لبنان)
طلاق کی جھوٹی خبر سے قضاءً طلاق واقع ہوجائے گی، امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اقول علماء تصریح فرماتے ہیں اگر شوہر نے اقرار طلاق کیا کہ میں اسے طلاق دے چکاہوں اور واقع میں نہ دی تھی تو وہ قضاءً طلاق ہوگئی مگر دیانۃً ہر گزنہ ہوگی کہ اس کا یہ قول طلاق دینا نہ تھا بلکہ طلاق غیر واقع کی جھوٹی خبر دینا تھا، حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے:الاقرار بالطلاق کاذباً یقع بہ الطلاق قضاء لادیانۃ۔ طلاق کا جھوٹا اقرار قاضی کے ہاں طلاق قرار پائیگا عنداللہ نہیں ‘‘۔(فتاویٰ رضویہ، 11/123، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مدعی پر گواہ لازم ہیں،رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر".ترجمہ: مدعی پر گواہی اورمنکر پر قسم ہوتی ہے۔(مشکاۃ المصابیح،کتاب الامارۃ والقضاء،باب الاقضیۃ والشھادۃ،الفصل الاول،2/1110،رقم :3758،المکتب الاسلامی بیروت)
اور نصابِ شہادت کے متعلق ارشادِ باری تعالی ہے:وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ.ترجمہ: اور دو گواہ کرلو اپنے مردوں میں سے پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے گواہ جن کو پسند کرو ۔ (البقرۃ: 282)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’بحالت اختلاف طلاق کا ثبوت گواہوں سے ہوگا اور دو۲ گواہ عادل شرعی شہادت بروجہ شرعی ادا کریں کہ اس شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی طلاق ثابت ہوجائے گی، پھر اگر شوہر نفی کے گواہ دے گا یا اس بات کے کہ مطلقہ بعد طلاق اس سے بولی کچھ اصلا مسموع نہ ہوگا، ہاں اگر عورت گواہ بروجہ شرعی نہ دے سکے تو شوہر پر حلف رکھا جائے گا اگر حلف سے کہہ دے گا کہ اس نے طلاق نہ دی طلاق ثابت نہ ہوگی اور اگر حاکم شرعی کے سامنے حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت مانی جائے گی‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 12/452-453،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اور جھوٹے حلف کے متعلق حدیث مبارکہ میں سخت وعید وارد ہوئی:"مَنْ حَلَفَ كَاذِبًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ". ترجمہ: جس نے جھوٹی قسم اٹھائی اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا۔ (نصب الرایۃ،کتاب الایمان، من حلف یمینا کاذبا،3/292،مؤسسۃ الریان بیروت)
ایلاء میں شرعی قسم ضروری ہے، الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "الإيلاء منع النفس عن قربان المنكوحة منعا مؤكدا باليمين بالله أو غيره من طلاق أو عتاق أو صوم أو حج أو نحو ذلك مطلقا أو مؤقتا بأربعة أشهر في الحرائر وشهر في الإماء من غير أن يتخللها وقت يمكنه قربانها فيه من غير حنث".ترجمہ: اپنے آپ کو اپنی منکوحہ کی قربت سے روکنا بتاکید قسم اللہ یا طلاق یا عتق وحج وصوم کی مطلقا یا مقید چار ماہ آزاد بیوی اور دو ماہ باندی میں بدون کسی ایسے وقت کے بیچ سے نکلنے کے کہ اس میں بدون حانث ہونے کے قربت ممکن ہوسکے ایلاء کہلاتا ہے۔ (الفتاوی الہندیۃ، كتاب الطلاق، الباب الإيلاء، 1/476، دار لفكر)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:”ایلا کے معنی یہ ہیں کہ شوہر نے یہ قسم کھائی کہ عورت سے قربت نہ کریگا یا چار مہینے قربت نہ کریگا... قسم کی دوصورت ہے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ یا اُس کی اُن صفات کی قسم کھائی جن کی قسم کھائی جاتی ہے مثلاً اُس کی عظمت و جلال کی قسم، اُس کی کبریائی کی قسم، قرآن کی قسم، کلام اللہ کی قسم، دوسری تعلیق مثلاً یہ کہ اگر اِس سے وطی کروں تو میرا غلام آزاد ہے یا میری عورت کو طلاق ہے یا مُجھ پر اتنے دنوں کا روزہ ہے یا حج ہے“۔ (بہار شریعت، 2/182، مکتبۃ المدینہ کراچی)
بلاضرورت تقاضہِ طلاق پر وعید ہے، ارشاد نبوی ہے: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة».ترجمہ: جس عورت نے اپنے شوہر سے بلا ضرورت طلاق کا مطالبہ کیا ،اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے۔ (مشكاة المصابيح،رقم:3279)
ایک اور حدیث پاک ہے : «إن إبليس يضع عرشه على الماء، ثم يبعث سراياه، فأدناهم منه منزلة أعظمهم فتنة، يجيء أحدهم فيقول: فعلت كذا وكذا، فيقول: ما صنعت شيئا، قال ثم يجيء أحدهم فيقول: ما تركته حتى فرقت بينه وبين امرأته، قال: فيدنيه منه ويقول: نعم أنت" قال الأعمش: أراه قال: «فيلتزمه».ترجمہ: شیطان اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے ،پھر اپنے لشکر بھیجتا ہے، ان لشکروں میں ابلیس کے زیادہ قریب اس کا درجہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنے باز ہوتا ہے۔ اس کے لشکرمیں سے ایک آکر کہتا ہے: میں نے ایسا ایسا کیا ہے تو شیطان کہتا ہے: ” تونے کچھ بھی نہیں کیا“۔ پھر ایک اور لشکر آتا ہے اور کہتا ہے: ”میں نے ایک آدمی کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں ڈال دی“۔یہ سن کر ابلیس اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے: ” توکتنا اچھا ہے!“ اور اپنے ساتھ چمٹا لیتا ہے۔ (صحيح مسلم،كتاب صفة القيامة،باب تحريش الشيطان،رقم:2813،دار إحياء التراث العربي)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14 رمضان المبارک 1447ھ/4 مارچ 2026ء