سوال
اگر کسی وقف کے ادارے میں مختلف ڈیپارٹمنٹ اور اس کی بہت ساری برانچیں ہوں اور اُس میں ضرورت کے تحت اخراجات کرنے کی صورت میں ادارے نے دستی رقم یعنی Petty Cash دیا ہوا ہے اب وہ ادارہ یہ چاہتا ہے کہ کوئی بھی ڈیپارٹ یا برانچ کوئی بھی ضرورت کی مد میں جو تم خرچ کرے اُس کے بل کے ساتھ یہ حلف نامہ بھر کر یعنی یہ بات حلفیہ قسم تحریر کرے کہ میں نے جور قم خرچ کی ہے وہ بلکل صحیح ہے تو آپ کا بل پاس ہو گا بصورت دیگر وہ بل واپس کر دیا جائے گا اُس حلف نامہ کا متن بھی من و عن تحریر کرتا ہوں۔ ’’میں بنام ۔۔۔۔۔۔ ولد ۔۔۔۔۔ شناختی کارڈ نمبر ۔۔۔۔۔۔۔ادارے کا نام ۔۔۔ میں بحیثیت ۔۔۔۔۔کے عہدے پر فائز ہوں اور آج مورخہ ۔۔۔۔کو ملنے والی رقم کے تحت میں نے جوبل آفس میں جمع کروائے۔ میں اللہ عزوجل کو علیم وخبیر جان کر یہ حلف اٹھاتا ہوں کہ یہ بل میری طرف سے بلکل صحیح ہے۔میں نے اس بل یا۔۔۔۔۔۔ میں کسی قسم کی بے ایمانی یا ہیرا پہری نہیں کی ہے۔ اس میں کسی قسم کا بھی کمیشن نہیں لیا ہے۔مزید میں اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں نے مختلف دکانوں، اداروں سے ریٹ لیکر کم سے کم قیمت پر خریداری کی ہے۔اگر میں نے اس میں کسی بھی قسم کی کوئی غلط بیانی کی تو میں دنیا و آخرت میں اللہ عزوجل کے سامنے جوابدہ ہوں اور سزا کا مستحق ہوں‘‘۔ یہ حلف نامہ ہر اس بل کے ساتھ منسلک ہوگا چاہے ہم روزانہ جمع کروائے یا ہفتہ میں دو سے تین بار جمع کروائے چاہے بل 20 ،30، کا ہو یا کتنے ہی کا ہوادارے کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ہم نے سب کیلئے یہ سسٹم بنا دیا ہے سب حلف نامہ بھرتے ہیں آپ کیوں نہیں بھرو گے؟ میرا اعتراض یہ ہے کہ بار بار قسم لینے سے اس کی اہمیت ختم ہو رہی ہے اور چوری وہی کرتا ہے جس کا ضمیر مرچکا ہوتا ہے اور ہم نے معاشرے میں دیکھا ہے کہ قسم کھانے کے باوجود بھی لوگ جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں یہ مناظر بازاروں و عدالتوں میں دیکھے جاسکتے ہیں، اور دوسری بات یہ ہے کہ قسم اُس سے لی جاتی ہے جس پر بھروسہ نہیں ہوتا یا جس کو جانتے نہیں ہو ان کا کہنا ہے کہ یہاں سب ایک جیسے نہیں ہیں ہم کس کس کو چیک کریں کس کس پر اعتبا رکریں حالانکہ یہاں تو عرصہ دراز سے ادارے نے مختلف جگہوں پر اپنی مرضی سے ذمہ دار مقرر کئے ہیں۔ان کا اپنا نظام درست نہیں ہے چیک ان بیلنس کا سسٹم بگڑا ہوا ہے اور وقف کے مال سے اپنی جان چھڑانے کیلئے یہ حلف نامہ زبردستی نافذ کرنا چاہتے ہیں کیا اس طرح یہ ادارے کے ذمہ دار وقف کے مال سے بری الذمہ ہو جائیں گے ؟ کیا ان کی پکڑ نہیں ہوگی؟ معلوم یہ کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ادارہ کو اپنا نظام درست کرنے کی ضرورت ہے یا بار بار قسم لینے کی شریعت میں کوئی رعایت ہے؟ اس کے ساتھ ایک بات آپ کو بتاتا چلوں کہ ہمارے ادارے میں جو اجیر رکھا جاتا ہے تو مختلف اجبر فارم میں ایک فارم حلف نامہ کا بھی ہوتا ہے جس میں یہ تحریر ہوتی ہے کہ میں ایمانداری، دیانتداری سے کام کروں گا اور اس فارم پر دستخط بھی لیا جاتا ہے جو کہ مکمل حلف نامہ ہے۔اگر ادارہ پھر بھی مطمئن نہیں ہے تو روز روز حلف نامہ بھرنے کے بجائے سالانہ اجیر والے حلف ہی کو دوہرالیا جائے تو کیا حرج ہے۔
سائل: محمدآصف،کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مدّعی کے دعوی سے براءت کیلئے حلف لیا جاتا ہے،البتہ بغیر دعوی کے بھی قسم اٹھائی جاسکتی ہےلیکن بکثرت قسمیں کھانے کے متعلق قرآن و حدیث میں مذمّت وارد ہوئی ہے ۔نیز قسم لینے کیلئے اہلیت ضروری ہے،ہر شخص قسم نہیں لے سکتا ۔ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں دیانت داری فوت ہوتی جارہی ہے،بکثرت حلف لینے سے لوگوں کے ہاں قسم کی اہمیت کم ہوجائے گی اور یوں وہ اپنے کام کے حصول کیلئے جھوٹی قسمیں کھائیں گے۔لہذا ادارے کو چاہئے کہ اس معاملے میں احتیاط کرے کہ شرعاً ان پر وکیل ہونے کی حیثیت سے صدقات واجبہ،زکوۃ وخیرات دینے کی صورت میں مستحقین سے استحقاق پر قسم لینا ضروری نہیں،تاہم جب فرقین (ادارہ و اجیر)کے مابین اختلاف ہوجائے تو خاص اس صورت میں حلف لینے کی اجازت ہے وگرنہ نہیں۔نیز اس فعل سے ادارہ کا اپنے ملازمین سے بدگمان ہونے کا پہلو بھی ظاہر ہوتا ہے اور مسلمان پر ایسی بدگمانی حرام ہے جس کے تقاضے پر عمل کیا جائےجیسے درپیش مسئلہ میں اجیر سے قسم کا مطالبہ کرنا بدگمانی کے مترادف ہے کہ وہ امین نہیں خائن ہے الّا یہ کہ ثبوتِ شرعی ہو۔
قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ۔ترجمہ:اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا ذلیل۔(القلم:10)
علامہ موفق الدین ابن قدامہ (المتوفی:620ھ)فرماتے ہیں:" وَيُكْرَهُ الْإِفْرَاطُ فِي الْحَلِفِ بِاَللَّهِ تَعَالَى؛ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلافٍ مَهِينٍ} وَهَذَا ذَمٌّ لَهُ يَقْتَضِي كَرَاهَةَ فِعْلِهِ".ترجمہ:خداتعالیٰ کی قسم میں حد سے زیادہ قسمیں کھانا مکروہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا ذلیل) اور یہ آیت بکثرت قسمیں کھانے والے کی مذمت میں ہےجو کہ اس فعل کی کراہت کا تقاضا کرتی ہے۔(المغنی لابن قدامۃ،کتاب الایمان، فصل الإفراط فی الحلف بالله تعالى،9/489،مکتبۃ القاہرۃ)
ایک اور مقام پر اللہ رب العزّت فرماتا ہے: وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَـتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَيْنَ النَّاسِ ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ترجمہ:اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو کہ احسان اور پرہیزگاری اور لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو ، اور اللہ سنتا جانتا ہے۔ (البقرۃ:224)
اس آیت کے تحت تفسیر القرطبی میں ہے: "المعنى لا تستكثروا من اليمين بالله فإنه أهيب للقلوب، ولهذا قال تعالى:"واحفظوا أيمانكم ". وذم من كثر اليمين فقال تعالى:" ولا تطع كل حلاف مهين".ترجمہ: معنی یہ ہے تم اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ کثرت سے قسمیں نہ کھاؤ کیونکہ یہ دلوں کو خوفزدہ کردیتی ہیں ‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اور تم اپنی قسموں کی حفاظت کرو) اور کثرت سے قسمیں کھانے والے کی مذمت بیان فرمائی۔سو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (اور نہ بات مانیے کسی (جھوٹی) قسمیں کھانے والے ذلیل شخص کی)۔(الجامع لاحکام القرآن،3/97،تحت سورۃ البقرۃ:224،دار الکتب المصریۃ)
صدر الافاضل علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ اس آیت کے تَحت لکھتے ہیں :’’بعض مفسرین رحمہم اللہ المبین نے یہ بھی کہاہے کہ اس آیت سے بکثرت قسم کھانے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے‘‘۔ (تفسیر خزائن العرفان،تحت سورۃ البقرۃ:224)
صحیح البخاری کی روایت ہے حضرت سیدنا ابراہیم نخعی علیہ الرحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: "قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَكَانُوا يَضْرِبُونَنَا عَلَى الشَّهَادَةِ وَالعَهْدِ وَنَحْنُ صِغَارٌ".ترجمہ: جب ہم چھوٹے چھوٹے تھے تو ہمارے بزرگ قسم کھانے اور وعدہ کرنے پر ہماری پِٹائی کرتے تھے‘‘۔ (صحیح بخاری،باب فضائل اصحاب النبی ﷺ ،5/3،رقم الحدیث:3651،دار طوق النجاۃ)
اللہ عزوجل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ۔ ترجمہ: اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہو جاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہو گا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔(الحجرات: 12)
حضور خاتم الانبیاء علیہ الصلوۃ والتسلیم فرماتے ہیں:"إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الحَدِيثِ ".ترجمہ:بد گمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہوتی ہے۔(صحیح البخاری، باب لا يخطب على خطبة أخيه ،7/19،رقم الحدیث:5143،دار طوق النجاۃ)
صحیح مسلم کی روایت ہے:"عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ، ثُمَّ يَمْحَقُ»".ترجمہ: حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول ا للہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ سودا بیچنے میں بکثرت قسم کھانے سے بچتے رہو، کیوں کہ قسم کھانے سے سودا تو بِک جاتا ہے لیکن اُس کی برکت برباد ہو جاتی ہے۔(صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ ، باب النھی عن الحلف فی البیع،3/1228،رقم الحدیث:1607،دار احیاء التراث العربی)
بدگمانی کے تقاضے پر عمل کر ناحرام ہے،چنانچہ سیدی عبد الغنی النابلسی (المتوفی:1143ھ) فرماتے ہیں: "(إنما يحرم ) ذلك (إذا ظهر أثره) أي أثر سوء الظن الذي في القلب (على الجوارح) أي الأعضاء بأن عمل بمقتضى ذلك في حق من أساء الظن به ولو باستطالة اللسان في عرضه ودينه واستنقاصه بين الناس ".ترجمہ:شک یا وہم کی بناء پر مؤمنین سے بدگمانی اس صورت میں حرام ہے جب اس کا دل میں موجود اثر اعضاء پر ظاہر ہو یعنی کہ جو لوگ اس کے بارے میں برا گمان کرتے ہیں ان کے حق میں وہ اپنی بدگمانی کے مطابق عمل کرے،اور یہ عمل خواہ اس کی عزت اور دین میں زبان دراز کرکے ہو اور لوگوں میں اس کی تحقیر کرکے۔(الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ،الرابع والعشرون من آفات القلب سوء الظن باللہ تعالی،3/168،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
حافظ یوسف بن عبد اللہ ابن عبد البرمالکی (المتوفی:463ھ)لکھتے ہیں:"عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخطاب قال لا يحل لامرىء مُسْلِمٍ سَمِعَ مِنْ أَخِيهِ كَلِمَةً أَنْ يَظُنَّ بِهَا سُوءًا وَهُوَ يَجِدُ لَهَا فِي شَيْءٍ مِنَ الْخَيْرِ مَصْدَرًا ... حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ الظَّنُّ ظَنَّانِ ظَنٌّ فِيهِ إِثْمٌ وَظَنٌّ لَيْسَ فِيهِ إِثْمٌ فَأَمَّا الظَّنُّ الَّذِي فِيهِ إِثْمٌ فَالَّذِي يُتَكَلَّمُ بِه وَأَمَّا الَّذِي لَيْسَ في إِثْمٌ فَالَّذِي لَا يُتَكَلَّمُ بِه".ترجمہ:حضرت ابن ابو ملیکہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایاکہ کسی مسلمان شخص کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے کوئی بات سن کر اس کے متعلق بدگمانی کرے جب کہ اس کی بات کا کوئی نیک محمل نکل سکتا ہو۔اور یعلی بن عبید حدیث بیان کرتے ہیں کہ میں نے سفیان کو کہتے ہوئے سنا: ظن کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ ظن ہے جس میں گناہ ہے اور ایک وہ ظن ہے جس میں گناہ نہیں ہے، جس ظن میں گناہ ہے یہ وہ ظن ہے جس کے موافق کلام کیا جائے اور جس ظن میں گناہ نہیں ہے یہ وہ ظن ہے جس کے موافق کلام نہ کیا جائے۔ (التمہید لما فی الموطا من المعانی والاسانید،تابع لحرف العین،الحدیث الرابع،18/20،مطبوعہ وزارة عموم الأوقاف والشؤون الإسلامیۃ)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 شعبان المعظم1444 ھ/14 مارچ2023ء