وراثت کا ایک مسئلہ مناسخہ چار بطن

    warasat ka aik masla manasikha chaar batn

    تاریخ: 28 اپریل، 2026
    مشاہدات: 20
    حوالہ: 1244

    سوال

    ایک عورت کا انتقال ہوا اسکے شوہر کا پہلے انتقال ہوچکا ، اسکے ورثاء میں پانچ بیٹے(رفیق، یامین، منظور، جہانگیر، شیرجنگ)ایک بیٹی( بخت بدر)ہیں ۔ بعد ازاں ایک بیٹے رفیق کا انتقال ہوا اسکے ورثاء میں ایک بیوی(رخسانہ)اور چار بیٹے (بلال، دانس، زوہیب، شعیب) ہیں۔ اسکے بعد ایک اور بیٹےیامین کا انتقال ہوا اسکے ورثاء میں محض ایک بیوی (رئیسہ)ہے۔ پھر تیسرے بیٹے منظور کا وصال ہوا اسکے ورثاء میں بھی صرف ایک بیوی(عارفہ )ہے ۔ وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی ہر ایک کا کیا حصہ ہوگا ۔ تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

    سائل:زوہیب رفیق:سکھر


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    وراثت کی تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مال وراثت کو 3080حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ ہر ایک وارث کے حصے کی تفصیل درج ذیل ہے:

    جہانگیر: 884 شیرجنگ : 884 بخت بدر: 442 رخسانہ: 140 بلال: 105

    دانش : 105 زوہیب: 105 شعیب: 105 رئیسہ: 140 عارفہ: 170

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ۔ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ ہی ہے کہ جائیداد بیچ کر یا اسکی قیمت لگوا کر کل رقم کو مبلغ یعنی 3080 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:02 رمضان المبارک 1442 ھ/15 اپریل 2021 ء