سوال
بعض گھریلو معاملات کی بناء پر میری بیوی سے ناراضگی ہوگئی جس کی بناء پر میں گھر چھوڑ کر آگیا، اور مجھے بیوی ،بچے کوئی منانے نہیں آئے۔اب بیوی کہتی ہے کہ آپ خود ہی آجائیں تو ہم آپس میں میاں بیوی بیٹھ کر مسئلہ حل کرلیں گے ۔ اس مسئلے میں شرعی اعتبار سے کیا حکم ہے، شرعی رہنمائی فرمادیں۔سائل:محمد آصف شیخ: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شوہر کی نافرمانی گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ،خلاق عالم نے بیوی کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ شوہر کی ہر صورت میں تابعدار اور فرمان بردار رہے جب تک کہ شوہر کسی خلاف شرع کام کا حکم نہ کرے ، قرآن مجید میں اللہ کریم نے شوہر کو بیوی کے لیے حاکم یعنی حکمران کہا ہے، اوربتایا ہے کہ نیک بیوی وہ ہے جو شوہر کی فرمانبردار اور ادب کرنے والی ہو، اور شوہروں کو حکم دیا ہے کہ اگر بیوی نافرمان ہوجائے تو پہلے اسکو سمجھاؤاگر نہ سمجھے تو اس سے بستر جدا کر لو پھر بھی نہ سمجھے تو ہلکا پھلکا مار سکتے ہو،قال اللہ تعالیٰ :الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا۔ ترجمہ: مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس لئے کہ اللّٰہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کئے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں،جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو اُن پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بے شک اللّٰہ بلند بڑا ہے ۔ (النساء 34)
یہی نہیں بلکہ شوہر کے حقوق کا اسقدر خیال رکھا کہ ایک حدیث میں ارشاد فرمادیاکہ اگر اللہ تعالی کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو عورت کو حکم دیا جاتا کہ شوہر کو سجدہ کریں۔ترمذی میں ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ المَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا»ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں کسی کو اس بات کا حکم دیتا کہ (اللہ کے سوا ) کسی کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔( ترمذی شریف باب ماجاء فی حق الزوج علی المراۃ جلد 3ص457)
اسی طرح بخاری شریف میں ہے: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيتُ النَّارَ فَإِذَا أَکْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَائُ يَکْفُرْنَ قِيلَ أَيَکْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ يَکْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَکْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَی إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْکَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْکَ خَيْرًا قَطُّ۔ ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دوزخ دکھلائی گئی، تو اس کی رہنے والی زیادہ تر میں نے عورتوں کو پایا، وجہ یہ ہے کہ وہ کفر کرتی ہیں، عرض کیا گیا، کیا اللہ کا کفر کرتی ہیں؟ تو آپ ﷺنے فرمایا کہ شوہر کا کفر کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں۔ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی عورت کے ساتھ احسان کرتے رہو، پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے، تو فورا کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔(صحیح البخاری، باب کفران العشیر حدیث نمبر 29)
اسی طرح ترمذی میں ہے:عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الجَنَّةَ»ترجمہ:حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کہتی ہیں کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاجو عورت اس حال میں اس دنیا سے گئی کہ اس کا شوہر اس سے راضی تھا تو جنت میں داخل ہوجائے گی۔(ترمذی شریف باب ماجاء فی حق الزوج علی المراۃ جلد 3ص459)
لہذا عورت کو چاہئے کہ فورا مرد سے معافی مانگ کر اسے راضی کرلے۔ اگر معاملہ حل نہیں ہوپارہا، تو قرآن مجید کے حکم پر عمل کرتے ہوئے دونوں جانب ایک عادل شخص مقرر کیا جائے جو دونوں کے مابین صلح صفائی کروائے ۔ قال اللہ تعالٰی :وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا۔ ترجمہ کنزالایمان:اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو ، تو ایک پنچ مر دوالوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل (موافقت پیدا) کردے گا بے شک اللہ جاننے والا خبردار ہے ۔(النساء: 35)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 10 شوال المکرم 1441 ھ/02جون 2020