سوال
ایک عورت کوشادی کی پہلی رات اسکےشوہرنےسونےکےہارکاسیٹ دیااورکہاکہ یہ آپ کی منہ دکھائی اورمہردونوں ہے۔ مہر جومقررہوا تھاوہ25ہزارتھااس ہارکی قیمت پچیس سےزائدتھی۔ اب سسرال والےیہ کہہ رہےہیں کہ چونکہ سونے کی قیمت بڑھ گئی ہےلہذاوہ سیٹ ہمیں واپس دوہمیں اپنی بیٹی کوشادی میں سونادیناہےآپکوہم پچیس ہزاردےدیں گے۔ اس کاشرعی حکم بتا دیں کہ وہ عورت وہ ہارواپس کرےیا نہ کرےشوہرکاہاردیتےوقت جوکہناتھااسکی کیاحیثیت اوراب جوواپس مانگ رہے ہیں اسکی کیاحیثیت ہے؟؟برائےکرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔سائل:علامہ نفیس انصاری:کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مہر توعورت کی ملکِ بضعہ کا عوض ہے جو بلاشبہ عورت کا حق ہے۔وذلک واضح لاخفاء فیہ لہذا اس مہر کے عوض زیور کا جو حصہ آئے وہ مہر قرار پائے گا۔ اور مابقی ، منہ دکھائی۔
رہا زیور کا وہ حصہ جو حق مہر کے علاوہ ہے جسے زوج نے منہ دکھائی سے تعبیر کیا تو یہ ھبہ کی حیثیت رکھتا ہے،اگر شوہرنےزوجہ کےقبضہ میں دےدیاتوبعدقبضہ کاملہ کےاب اس سےشوہرکاتعلق نہیں رہااورنہ ہی ھبہ میں رجوع کا اختیاررہا کہ زوجیت مانع ھبہ ہے۔ زوجہ مالکہ من کل وجہ ہے،سسرال والوں کامطالبہ غیرشرعی ہے۔
مہر کے متعلق اللہ تعالی کا فرمان ہے:قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ.ترجمہ: ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں (شوہروں)پر مقرر کیا ہے ان کی بیبیوں (کے مہر)کےمتعلق۔(الاحزاب :50)
علامہ شامی علیہ الرحمہ مہر کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح على الزوج إما بالتسمية أو بالعقد ترجمہ:مہر اس مال کا نام ہے جو شوہر پر عقد نکاح کے وقت واجب ہوجا تا ہےیا مہر مقرر کرنے کے ساتھ یا عقد کے ساتھ ۔ (رد المحتار، فصل فی المہر،ج:3ص:101،طبع:دار الفکر ،بیروت)
ھبہ سے متعلق تنویرالابصار میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے :لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ ،کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
زوجیت ھبہ میں رجوع سے مانع ہے جیساکہ شامی میں ہے:یمنع الرجوع فیھا حروف دمع خزقہ فالزوجیۃ وقت الھبۃ فلو وھب لامرأۃ ثم نکحھارجع ولو وھب لامرأتہ لاکعکسہ ای لو وھبت لرجل ثم نکحھا رجعت ولو لزوجھا لا۔ترجمہ:ہبہ میں رجوع سے مانع یہ حروف ہیں: دمع خزقہ، (ان سات حروف میں سےزا سے مراد ہے زوجیت ہے جو بوقتِ ہبہ موجود ہو )لہذا اگر کسی عورت کو بطور ہبہ کچھ دیا پھر اس عورت سے نکاح کرلیا تو ہبہ سے رجوع کرسکتا ہے ۔اور اگر اپنی بیوی کو بطور ہبہ کچھ دیا تو رجوع نہیں کرسکتا، ایسا ہی اس کے برعکس میں بھی ہے یعنی اگر عورت نے کسی مرد کو بطور ہبہ کچھ دیا پھر اس سے نکاح کیا تو رجوع کرسکتی ہے، اور اگر اپنے شوہر کو بطور ہبہ کچھ دیا تو رجوع نہیں کرسکتی۔(ردالمحتار،کتاب الھبہ ،باب الرجوع فی الھبۃ، جلد 4 ص 18، 19، داراحیاء التراث العربی بیروت)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں: ہبہ میں رجوع کرنے سے سات چیز یں مانع ہیں اُن سات کو اِن الفاظ میں جمع کیا گیاہے۔''دمع خزقہ'' دال سے مُرادزیادت متصلہ ہے۔ میم سے مراد موت یعنی واہب وموہوب لہ دونوں میں سے کسی کا مرجانا۔ عین سے مراد عوض۔ خا سے مراد خروج یعنی ہبہ کا ملک موہوب لہ سے خارج ہو جانا۔ زا سے مراد زوجیت۔ قاف سے مرادقرابت۔ ہاسے ہلاک۔(بہارِ شریعت ،کتاب الھبہ، جلد نمبر 14 ص 85)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 17ربیع الاول 1442 ھ/04 نومبر 2020 ء