سوال
جناب مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ
1: ۔ اگر کوئی سید ہے ، اور اس کا کوئی بھی گزر بسر کا ذریعہ نہیں ہے کیا اس کو زکوۃ کی رقم حیلہ کرکے دے سکتے ہیں۔
2:۔ یا کوئی بیوہ سید ہو اسکا گھر بھی کرایہ ہے ، اور کوئی کمانے والا بڑا نہ ہوں تو اس کو زکوۃ کی رقم حیلہ کرکے دیں سکتے ہیں؟
برائے مہربانی تحریر فرماکر جواب دیں۔ شکریہ
سائل: محمد اسلم شاہ (ناظم اعلیٰ جامعۃ المصطفی رضویہ ٹرسٹ )
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
:۔2:۔ سید آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زکوۃ دینا جائز نہیں ہے ،اور ان میں تمام بنو ہاشم داخل ہیں اور بنو ہاشم سے مراد حضرت علی و حضرت جعفر و حضرت عقیل و حضرت عباس اور حضرت حارث بن عبد المطلب کی اولاد ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوۃ لوگوں کے مال کا میل ہے اور ان پاک نسب اور پاک طینت لوگوں کو مال کا میل کچیل دینا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ حضرات انتہائی قابل احترام ہوتے ہیں، ان کو میل کچیل کھلانا ان کے احترام کے خلاف اور ناجائز ہے۔
چناچہ صحیح مسلم کتاب الزکوۃ باب ترک استعمال آل النبی علی الصدقۃ ج2ص752حدیث نمبر 1072میں ہے :قَالَ: إِنَّ الصَّدَقَۃَ لَا تَنْبَغِی لِآلِ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا ہِیَ أَوْسَاخُ النَّاسِ،ترجمہ : حضور علیہ السلام نے فرماےا آلِ محمد کے لئے زکوۃ جائز نہیں کیونکہ یہ لوگوں کے مال کا میل ہے۔
اسی طرح المعجم الکبیر ج12 ص 182حدیث نمبر 12980میں ہے :عَنِ ابْنِ عَبَّاس َقَالَ: اصْبِرُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ یَا بَنِی ہَاشِمٍ فَإِنَّمَا الصَّدَقَاتُ غُسَالَاتُ النَّاسِ:ترجمہ: حضرت عبد اللہ ابن عباس سے مروی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا ! اے بنو ہاشم تم اپنے نفس پر صبر کرو کہ صدقات لوگوں کا دھوون ہے ۔
لیکن چاہیے یہ کہ ان حضرات کو اپنی طرف سے کچھ نفلی صدقات وغیرہ دیکر ان کی مدد واعانت کی جائے۔لیکن اگر نفلی صدقات کی یا زکوۃ کے علاوہ کسی اور مال کی کوئی صورت نہ بن پائے توکسی مستحق زکوۃ شخص سے حیلہ شرعی کروا کر انکی خدمت میں پیش کردئے جائیں۔
فتاوی امجدیہ جلد 1ص390میں ہے
'' سید کو زکوۃ نہیں دے سکتے ،اور اگر وہ حاجت مند ہوں تو اور اموال سے خدمت کریں اور زکوۃ ہی کا پیسہ دینا چاہیں تو کسی مستحق زکوۃ کودیں اور مالک کردیں اور اس سے کہہ دیں کہ تو اپنی طرف سے فلاں کو دے دے''
خلاصہ یہ ہے کہ صورت مسؤلہ میں زکوۃ کی رقم حیلہ شرعی کے بعدیعنی توکسی مستحق زکوۃ شخص سے حیلہ شرعی کروا کر سید یا سیدہ کو دے سکتے ہیں، اس میں شرعا حرج نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصوب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی