ماموں کی بیٹی سے نکاح کا حکم
تاریخ: 21 فروری، 2026
مشاہدات: 6
حوالہ: 833
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میرے ماموں نے دوسری شادی کی تھی جن میں سے تین لڑکے اور ایک لڑکی ہے،اس لڑکی سے میرے لڑکے کا رشتہ ہوسکتا ہے یا نہیں؟سائل:اسامہ:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت میں دونوں کا باہمی نکاح جائز ہے کیونکہ ان میں آپس میں کسی طرح کی کوئی حرمت نہیں پائی جارہی ۔
اللہ تعالٰی نے ان عورتوں کا بیان فرمادیا جن سے مرد کو نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔اسکے بعد فرمایا :وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ.ترجمہ: اور اُن کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں۔(النساء : 25) واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 15 ذوالقعدہ 1440 ھ/19 جولائی 2019 ء