سوال
1: کیا سال مکمل ہونے سے پہلے زکوۃ دی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ اگر دی جاسکتی ہے تو کس حساب سے موجودہ رقم پر یا سال کے اختتام پر جو رقم ہوگی اس پر زکوۃ ہوگی؟
2: زکوۃ کی مد میں رقم دینا ہی لازم ہے یا پھر راشن بھی دیا جاسکتا ہے۔جیساکہ آج کل لوگوں کو راشن کی ضرورت ہے۔
سائل:عبداللہ: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صاحب نصاب شخص پر سال مکمل ہونے پر فورا زکوۃ کی ادائیگی لازم ہے۔البتہ سال مکمل ہونے سے پہلے بھی زکوۃ ادا کی جاسکتی ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ جس دن سال مکمل ہوگا اس دن حساب لگایا جائے اداکردہ رقم ،واجب الاداء رقم سے کم ہو تو جتنی مقدار کم ہے اسکی مزید ادائیگی کی جائے اور اگر اداکردہ رقم ، واجب الاداء سے زائد ہو تو زائد رقم اگلے سال میں شمار کی جاسکتی ہے۔یاد رہے کہ جس دن سال مکمل ہوتا ہے اس دن جو رقم صاحب نصاب شخص کے پاس موجود ہے اس پر زکوۃ لازم ہوتی ہے ۔لہذا اگر سال مکمل ہونےسے ایک روز قبل رقم آئی تو اس پر بھی زکوۃ ہے۔
سیدی اعلٰی حضرت ارشاد فرماتے ہیں : جب سال تمام ہو فوراً فوراً پُوراادا کرے، ہاں اوّلیّت چاہے تو سال تمام ہونے سے پہلے پیشگی ادا کرے۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الزکوۃ ،جلد 10 ص 184 رضا فاونڈیشن لاہور)
2:جس کو راشن دیا جارہا ہے اگر وہ زکوۃ کا مصرف ہے تو اسکو زکوۃ کی مد میں راشن بھی دیا جاسکتا ہے،رقم دینا ضروری نہیں ہے۔ پھر جو راشن زکوۃ کی مد میں دیا ہے جو اسکی قیمت بنتی ہے اتنی رقم زکوۃ شمار ہوگی۔دیگر اخراجات مثلا مزدور کی اجرت، گاڑی جس میں راشن لایا اسکا کرایہ وغیرہ زکوۃ میں شامل نہ ہونگے۔
در مختار میں ہے:لو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه۔ ترجمہ:اگر کسی نے یتیم کو نیتِ زکوٰۃ سے کھانا کھلایا زکوٰۃ ادا نہ ہوگی ہاں اگر کھانا اس کے حوالے کردے،تو زکوۃ ادا ہوجائے گی جیساکہ لباس کا معاملہ ہے۔(الدر المختار مع رد المحتار کتاب الزکوۃ جلد 2 ص 257)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں : زکوٰۃ میں روپے وغیرہ کہ عوض بازار کے بھاؤ سے اس قیمت کا غلّہ مکّا وغیرہ محتاج کو دے کر بہ نیت زکوٰۃ مالک کردینا جائز و کافی ہے ، زکوٰۃ ادا ہوجائیگی ، جس قدر چیز محتاج کی مِلک میں گئی بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے وہی مجراہوگی بالائی خرچ محسوب نہ ہوں گے ، مثلاآج کل مکّا کا نرخ نَو سیر ہے نَو من مکّا مول لے کر محتاجو ں کو بانٹی تو صرف چالیس روپیہ زکوٰۃ میں ہوں گے ، اُس پر جو پلّہ داری یا باربرداری دی ہے حساب میں نہ لگائی جائےگی ، یا گاؤں سے منگا کر تقسیم کی تو کرایہ گھاٹ چونگی و ضع نہ کریں گے ، یا غلّہ پکا کر دیا تو پکوائی کی اُجرت ، لکڑیوں کی قیمت مجرانہ دینگے، اس کی پکی ہوئی چیز کو جو قیمت بازار میں وہی محسوب ہو گی ، لان رکنھا التملیک من فقیر مسلم لو جہ اﷲتعالی من دون عوض۔کیونکہ اس کا رکن یہ ہے کہ کسی فقیر کو اﷲکی رضاکی خاطر اس کا مالک بنایا اور بطور معاوضہ نہ ہو ۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الزکوۃ ،جلد 10 ص 69 رضا فاونڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں : روپے کے عوض کھانا غلّہ کپڑا وغیرہ فقیر کو دے کر مالک کر دیا تو زکاۃ ادا ہو جائے گی، مگر اس چیز کی قیمت جو بازار بھاؤ سے ہوگی وہ زکاۃ میں سمجھی جائے، بالائی مصارف مثلاً بازار سے لانے میں جو مزدور کو دیا ہے یا گاؤں سے منگوایا تو کرایہ اور چونگی وضع نہ کریں گے یا پکوا کر دیا تو پکوائی یا لکڑیوں کی قیمت مُجرا نہ کریں، بلکہ اس پکی ہوئی چیز کی جو قیمت بازار میں ہو، اس کا اعتبار ہے۔(بہار شریعت، جلد 1 حصہ 5 ص 909)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:20 شعبان المعظم 1441 ھ/14 اپریل 2020 ء