سوال
المعتقد کی ایک عبارت ہے :فکون النبی بعد خاتم النبیین ممتنعا ذاتیا ومحالا عقلیا ظاہر، وامکان خاتم النبیین و امکان النبی مطلقا لا یمنع عن کون النبی بعد خاتم النبیین ممتنعا ذاتیا و محالا عقلیا ۔ (المعتقد المنتقد،صفحہ 216) اس کا درست معنی و مفہوم بیان کر دیجیے ۔نظر اول میں اس عبارت سے کچھ اشکالات لگ رہے ہیں اس کا جواب دیجیے۔
اشکال اول :و امکان خاتم النبیین الخ اس عبارت میں تو کہا جا رہا ہے امکان خاتم النبیین اور مطلقا امکان ِ نبی کے بعد کسی نبی کے ممتنع ذاتی اور محالِ عقلی ہونے سے مانع نہیں یعنی اس امکان کی وجہ سے ہمارے عقیدے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا !!یہی بات اسماعیل دہلوی اور قاسم نانوتوی بھی کرتے ہیں ؟ الغرض قاسم نانوتوی اور اسماعیل دہلوی کی براءت کا اس سے اشارہ نکلتا ہے ؟
سائل:طارق قادری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اس عبارت کو سمجھنے سے پہلے تمہیدی پانچ مقدمات ذکر کیے جا رہے جن کی مدد سے اس عبارت کو سمجھنے میں آسانی ہو گی ۔اور اس کے بعد سیف المسلول علامہ فضل رسول بدایونی کی عبارت کا درست معنی و مفہوم بیان کیا جائے گا ،ان شاء اللہ العزیز قارئین دیکھیں گے کہ اسماعیل و قاسم کے لیے یہ عبارت " ڈوبتے کو تنکے کا سہار ا "بھی ثابت نہیں ہو گی بلکہ الٹا یہ حامیان ِ قاسم و دہلوی کے لیے وبالِ جان ا ورباعثِ خجلان بنے گی۔
مقدمہ اولی
ہم اہل سنت کے نزدیک نبوت کا تعلق عقلی لحاظ سے امکانات و جائزات میں سے ہے یعنی قادر مطلق اللہ جل شانہ پر انبیائے کرام کو مبعوث کرنا واجب نہیں بلکہ جائز ہےجبکہ معتزلہ و فلاسفہ کے نزدیک اللہ تعالی پر انبیاء کو بھیجنا واجب ہے ۔ متکلمینِ اسلام نے معتزلہ و فلاسفہ کے اس نظریہ کا رد بلیغ فرمایا یہاں تک کہ یہ موضوع مستقل عنوان کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ متکلمین نے اس عنوان کو"الامکانات و الجائزات علی اللہ تعالی" کے نام سے مستقل طور پر موضوعِ سخن بنایا۔
جوہرۃ التوحید میں ہے:
و منہ ارسال جمیع الرسل فلا وجوب بل بمحض الفضل
ترجمہ:اور اسی(جائز عقلی میں) سے تمام رسولوں کابھیجنا ہے پس (یہ بھیجنا) واجب نہیں بلکہ محض(اس کے)فضل سے ہے۔
علامہ باجوری اس شعر کی شرح میں فرماتے ہیں:
قوله : (ومنه إرسال جميع الرسل ) أي : ومن الجائز العقلي في حقه تعالى إرساله الجميع الرسل من آدم إلى سيدنا محمد ، بدخول المبدأ والغاية، عليهم الصلاةوالسلام، خلافاً لمن أوجبه، ولمن أحاله :فالأولى: أعني من أوجبه المعتزلة والفلاسفة، فقد اتفقت الطائفتان على الوجوب، وزادت الفلاسفة الإيجاب .ومبنى كلام المعتزلة على قاعدة وجوبِ الصَّلاحِ والأصلح، فيقولون : النظام المؤدي إلى صلاح حال النوع الإنساني على العموم، في المعاش والمعاد، لا يتم إِلَّا ببعثة الرُّسُلِ، وكل ما هو كذلك فهو واجب على الله تعالى. وقد مَرَّ هَدْمُ تلك القاعدة.ومبنى كلام الفلاسفة على قاعدة التعليل أو الطبيعة، فيقولون : يَلزمُ مِنْ وُجودِ الله وجود العالم بالتعليل أو بالطبع، ويلزمُ مِنْ وُجود العالم وجودُ مَن يُصْلِحُه :یعنی آدم علیہ السلام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء و رسل کو بھیجنا اللہ سبحانہ کے حق میں عقلی لحاظ سے جائز ہے واجب نہیں بر خلاف کچھ لوگوں کے کہ بعض نے اسے واجب ٹھہرایا اوربعض نے محال ۔پہلا گروہ جنھوں نے واجب ٹھہرایا وہ معتزلہ و فلاسفہ ہیں پس دونوں گروہوں نے واجب پر اتفاق کیا تاہم معتزلہ نےایجاب کا اضافہ کیا۔ معتزلہ کےکلام کی بنیاد صلاح و اصلح کے وجوب کے قاعدہ پر ہے یعنی وہ کہتے ہیں کہ وہ نظام جو دنیا و آخرت میں نوع انسانی کو فلاح و بہبود کی طرف لے جاتا ہے وہ بعثت انبیاء کے بغیر نامکمل ہے ۔اور ہر وہ چیز جو اس حیثیت کی ہو وہ اللہ پر واجب ہے ۔تحقیق معتزلہ کے اس قاعدہ کا نقض گزشتہ صفحات میں گزر چکا ۔ اور فلاسفہ کے کلام کی بنیاد تعلیل و طبیعت کے قاعدہ پر ہے پس وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے وجود سے عالم کا وجود تعلیل و طبیعت کی وجہ سےلازم آیا ۔اور عالم کے وجود سے اس کا وجود لازم آتا ہے جو اسے صحیح رکھے ،سنوارے ۔(تحفۃ المرید شرح کوہرۃ التوحید ،صفحہ 334 تا335،مکتبہ دار الدقاق،دمشق)
مقدمہ ثانیہ
تمام اہلِ حق کا یہ عقیدہ ہے کہ حضورخاتم النبیین کے بعد کسی نئے نبی کا آنا محال عقلی اور ممتنع ذاتی ہے ۔ حضور علیہ السلام کے بعد کسی نبی کے آنے کو، ممتنع ذاتی ومحال عقلی جیسی اصطلاح سے بیان کرنے کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب شاہ اسماعیل دہلوی نے اپنی وجہِ فتنہ وفساد کتاب تقویۃ الایمان میں بہت سی گستاخانہ عبارتوں میں سے ایک عبارت یہ لکھی "اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم کن سےچاہے تو کروڑوں نبی اور ولی اور جن اور فر شتے جبرئیل اور محمد کے برابر پیدا کر ڈالے ۔(تقویۃ الایمان صفحہ 25)
اس کے جواب میں امام المتکلمین زبدۃ المحققین ترجمانِ اہلسنت بطلِ حق علامہ فضل حق خیرآبادی علیہ الرحمہ نے اپنی ایک مختصر تحریر" تقریراتِ اعتراضات بر تقویۃ الایمان "لکھی جس میں آپ نے ثابت کیا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی نظیر ممتنع بالذات ہے اگر نظیر کو ممکن مانا جائے جیسا کہ شاہ اسماعیل دہلوی کی عبارت سے لازم آ رہا ہے تو اس سے اللہ تعالی کے کلام کا کذب لازم آئے گا اور یہ بات مسلم ہے کہ کذبِ باری تعالی محال ہے ۔چناچہ شاہ اسماعیل دہلوی نے اس کے جواب میں ایک رسالہ بنام "یک روزی " تحریر کیا ۔جس میں شاہ اسماعیل نے ایک اور کفر کو گلے کا طوق بنا لیا کہا کہ کذب باری تعالی بھی ممکن ہے۔رد جوابِ الجواب میں علامہ فضل حق علیہ الرحمہ نے لاجواب رسالہ "تحقیق الفتوی فی ابطال الطغوی " تحریر کیا جس کا مخالفین کی جانب سے کوئی جواب نہیں آ سکا یہاں تک کہ شاہ اسماعیل کا انتقال ہو گیا اور یوں یہ فتنہ بھی موت کے قریب پہنچ گیا تھا کہ اس کےانتقال کے بیس برس بعد اس کے ایک شاگردمولوی حیدر علی ٹونکی نے اس میں تازہ روح پھونکنے کی غرض سے رسالہ بنام" صیانۃ الاناس "لکھا جس کے جواب میں علامہ فضل حق نے اپنی معرکۃ الآراء فیصلہ کن کتاب" امتناع النظیر " تحریر فرمائی ۔ آپ نے اس میں حامیانِ امکانِ نظیر کا بڑی شد ومد سے رد بلیغ فرماتے ہوئے اپنے مؤقف کو عقلی و نقلی دلائل سے قرطاس وقت پر ثبت فرما یا جس کا مخالفین آج تک جواب نہیں دے سکے ۔اس تمام تر کاروائی میں آپ کو اپنے قریبی دوست مصنف" المعتقد المنتقد" سیف اللہ المسلول شاہ فضل رسول بدایونی کا قدم قدم پر ساتھ رہا نہ صرف ساتھ رہا بلکہ آپ نے ذاتی حیثیت میں بھی شاہ اسماعیل کا رد بلیغ " سیف الجبار " اور المعتقد المتقد وغیرہا تصنیفات کی صورت میں فرمایا ۔سو جو را ہ نوردِ علم اس مسئلہ کو تحقیقی و تفصیلی طور پر جاننا چاہتا ہو وہ ان تمام کتابوں کی مراجعت کرے ۔
یہاں پر چند متاخرین علماء کے اقتباسات پیش خدمت ہیں :
اعلام بقواطع الاسلام میں ہے: واضح تکفیر مدعی النبوۃ و یظھر کفر من طلب منہ معجزۃ لا نہ بطلبہ لھا منہ مجوز لصدقہ مع استحالتہ المعلومۃ من الدین بالضرورۃ نعم ان اراد بذٰلک تسفیھہ وبیان کذبہ فلا کفر ۔ترجمہ:مدعی نبوت کی تکفیر تو خود ہی روشن ہے اور جو اس سے معجزہ مانگے اس کا بھی کفر ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مانگنے میں اس مدعی کا صدق محتمل مان رہا ہے حالانکہ دین متین سے بالضرورۃ معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد دوسرا نبی ممکن نہیں، ہاں اگر اس طلب سے اسے احمق بنانا اس کا جھوٹ ظاہر کرنا مقصود ہو تو کفر نہیں۔( اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ، صفحہ 376)
تحفہ شرح منہاج: اوکذب رسولا اونبیا او نقصہ بای منقص کان صغر اسمہ مریدا تحقیرہ او جوز نبوۃ احد بعد وجود نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعیسٰی علیہ الصلوٰۃ و السلام نبی قبل فلا یرد ۔یعنی کافر ہے جو کسی نبی کی تکذیب کرے یا کسی طرح اس کی شان گھٹائے، مثلاً بہ نیت توہین اس کا نام چھوٹا کر کے لے یا ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد کسی کی نبوت ممکن مانے اور عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام تو حضور کی تشریف آوری سے پہلے نبی ہوچکے ان سے اعتراض وارد نہ ہوگا۔ ( المعتقد المنتقد بحوالہ التحفہ شرح المنہاج مع المستند المعتمد،صفحہ128، مکتبہ حامدیہ، لاہور،)
عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی شرح الفرائد میں فرماتے ہیں: تجویز نبی مع نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوبعدہ یستلزم تکذیب القراٰن اذ قد نص علٰی انہ خاتم النبیین واٰخر المرسلین وفی السنۃ انا العاقب لانبی بعدی واجمعت الامۃ علی ابقاء ھذاالکلام علی ظاہرہ وھذہ احدی المسائل المشہورۃ التی کفرنا بھا الفلاسفۃ لعنھم اﷲتعالٰی ۔ ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ یا بعد کسی کو نبوت ملنی جائز ماننا تکذیب قرآن کو مستلزم ہے کہ قرآن عظیم تصریح فرماچکا ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین وآخر المرسلین ہیں اور حدیث میں فرمایا: میں پچھلا نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور تمام امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پرہے یعنی عموم واستغراق بلاتا ویل وتخصیص اور یہ ان مشہور مسئلوں سے ہے جن کے سبب ہم اہل اسلام نے کافرکہا فلاسفہ کو، اﷲ تعالٰی ان پر لعنت کرے۔( المعتقد المنتقد بحوالہ المطالب الوفیہ شرح الفرائد السنیہ تجویز نبی بعدہ کفر ص۱۱۵، مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی )
تاجدار گولڑہ پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :اہل بصیرت کو ان مقدمات مذکورہ پر گہری نظر ڈالنے سے ثابت ہو جاتا ہے کہ نظیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ممتنع بالذات بدیں معنی ہے کہ خالق سبحانہ و تعالی نے آپ کے کو ایسا بنا دیا ہے اور ایسے کاملہ ممیز مختصہ صفات کے ساتھ سنوارا ہے کہ جس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ در صورتِ فرضِ وجودِ نظیر، انقلاب ِحقیقت لازم آتا ہے۔ ۔(فتاوی مہریہ صفحہ12)
مقدمہ ثالثہ
1:۔امکان ذاتی اور امتناعِ ذاتی کے مابین تباین کی نسبت ہے یعنی جو بھی ممکن بالذات ہو گا وہ ممتنع ذاتی نہیں ہو گا۔
2:۔ہر ممکن تحت القدرت ہوتا ہے جبکہ ممتنع بالذات قدرت کے تحت داخل نہیں ہوتا۔ شرح المواقف میں ہے: المصحح للقدوریۃ ھو الامکان لان الوجوب والامتناع الذاتیین یحیلان المقدوریۃ۔ترجمہ: صالحِ قدرت تو ممکن ہی ہے کیوں کہ واجب بالذات اور ممتنع بالذات کا قدرت میں آنا محال ہے۔(شرح المواقف ،المرصد الرابع، المقصد الثانی فی قدرتہ جلد 04صفحہ 69،نوریہ رضویہ پبلیشنگ)
عمدۃ المرید شرح جوہرۃ التوحید میں ہے: المصحح للمقدوریۃ ھو الامکان علی الراجح ولا انقطاع لھما۔جو چیز قدرت کےتحت آنے کی صلاحیت رکھتی ہے وہ امکان ہی ہے راجح قول کے مطابق قدرت اور امکان کے مابین کوئی تباین نہیں ۔(عمدۃ المرید الجزء الثانی تعلقات الصفات،صفحہ 591،دار کتب العلمیہ )
تحقیق الفتوی میں ہے: ممتنع ذاتی کا ممکن ذاتی بن جانا محال بالذات ہے۔ (تحقیق الفتوی فی ابطال الطغوی صفحہ 163،مصنف فضل حق خیر آبادی)
مقدمہ رابعہ
ممکن ذاتی اورممتنع للغیر کے مابین عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے یعنی ہر ممتنع للغیر ممکن ذاتی ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ جو بھی ممکن ذاتی ہو وہ ممتنع للغیر ہو مثلاً کسی انسان کو اندھےپن کی وجہ سے نظر نہ آنا یہ ممتنع للغیر ہے لیکن فی نفسہ انسان کے لیے دیکھنا تو ممکن ہے ۔
مقدمہ خامسہ
نفسِ امکان کی مزید دو قسمیں ہیں ۔امکانِ ذاتی اور امکانِ وقوعی جیسا کہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے صاحب معتمد علامہ توربشتی کے کلام " وکذا من قال یمکن ان یکون فھو کافر"کے تحت لکھا: ای امکانا وقوعیا ففیہ الکفر لتکذیب النص وانکار ماھو من ضروریات الدین ، واما الذاتی فلا یحتمل الاکفار بل ھھنا صحیح وان بطل فی تعدد خاتم النبیین لان الآخر بالمعنی الموجود ھاھنا لا یقبل الاشتراک عقلا ۔ترجمہ:۔معلوم ہوا کہ خاتم النبیین کے بعد جس نظیر کا امکان کفر ہے وہ امکانِ وقوعی ہے جیسا کہ قاسم نے اسی کا ارتکاب کیا ہے ۔تاہم امکان ذاتی کا امکان تھا لیکن چند وجوہ سے وہ بھی محال ذاتی ٹھہری
پہلی وجہ :نظیر حضور کے زمانہ میں مانی جائے تودو اشتراک فی النبوۃ لازم آئے گا جو کہ شرعا محال ہے۔
دوسری وجہ:نظیر حضور کے زمانہ کے بعد مانی جائے تو معاذ اللہ حضور کا خاتم نہ ہونا لازم آئے گا جو کہ عقلا و شرعا ممتنع ہے اس لیے کہ خاتم التنبین کا اجماعی معنی "آخری نبی "ہے ۔لہذا یہاں پر امکانِ ذاتی کا بھی بطلان ہو گیا
المعتقد کی مذکورہ عبارت کا لغوی و مفہومی ترجمہ
لغوی ترجمہ:پس کسی نبی کا خاتم النبیین کے بعد ممتنع ذاتی اور محال عقلی ہونا ظاہر ہے اور خاتم النبیین کا امکان اور مطلقا نبی کا امکان کسی نبی کےخاتم النبیین کے بعد ممتنع ذاتی اور محال عقلی ہونے سے مانع نہیں ۔
مفہومی ترجمہ:حضور خاتم النبیین کے بعد کسی نئے نبی کا آنا ممتنع ذاتی اور محال عقلی ہے اور حضور خاتم النبیین کا امکان اور نبی کا مطلقا امکان ،ہمارےاس عقیدہ(حضور خاتم النبیین کے بعد کسی نئے نبی کا آنا ممتنع ذاتی اور محال عقلی ہونے) سے مانع نہیں ۔
خلاصہ: یہ دو امکان (امکان خاتم النبین اور امکان النبی مطلقا) اس امتناع (خاتم النبین کے بعد کسی نبی کے ممتنع ذاتی اور محال عقلی ہونے) سے مانع نہیں ہیں یعنی اس امکان سے اس امتناع پر کوئی فرق نہیں پڑے گا،جیسا کہ شرح میں اس وضاحت آئے گی۔
عبارت کی شرح
یہ عبارت " فکون النبی بعد خاتم النبیین ممتنعا ذاتیا ومحالا عقلیا ظاہر، وامکان خاتم النبیین و امکان النبی مطلقا لا یمنع عن کون النبی بعد خاتم النبیین ممتنعا ذاتیا و محالا عقلیا " در اصل ایک سوال کا جواب تھی کہ جب نبوت کا تعلق امکان سے ہے اور جو چیز ممکن ہو گی وہ ممتنع لذاتہ نہیں ہو سکتی تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ حضور کے بعد کسی نبی کا ہونا محال عقلی و ممتنع ذاتی ہے؟
تو آپ نے فلاسفہ کی ہی نظیر سے اس کا جواب دیا کہ ایک چیز دو وقتوں میں دو حیثیتوں کی متحمل ہو سکتی ہے جیسا کہ زمانہ کے امکان و عدم امکان کا مسئلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشورہ کرنا ہے استاد صاحب سے۔
اعتراضات کے جواب
قاسم نانوتوی کا عقیدہ:
عوام کے خیال میں تو رسول اﷲ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن کہ تقدّم یا تاخّر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھرمقام مدح میں ولٰکن رسول اﷲ و خاتم النبیین فرمانا کیونکر صحیح ہوسکتا بلکہ موصوف بالعرض کا قصّہ موصوف بالذات پر ختم ہوجاتا ہے اسی طور پر رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خاتمیت کو تصور فرمائیے آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور نبی موصوف بالعرض ایں معنی جو میں نے عرض کیا آپ کا خاتم ہونا انبیائے گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا بلکہ بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہوتو خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے۱؎ھ ملتقطاً: (۱؎ تحذیر الناس، مطبوعہ دارالاشاعت کراچی۔ ص۱۸و۲۴)
یہ ممکن تھا کہ اللہ تعالی کسی کو نبی نہ بناتا یا وہ دو شخصوں یا چند اشخاص کو ایک ساتھ نبی بناتا اور ان کے بعد نبوت منقطع کر دیتا تو ان دونوں صورتوں میں کوئی بھی شخص خاتم النبیین نہ ہوتا اس لیے کہ ک (امتناع النظیر)
واللہ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:06رجب المرجب 1444 ھ/18جنوری 2024ھ