مصاہرت میں اختلاف ہو جائے تو
    تاریخ: 17 فروری، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 794

    سوال

    میری چھوٹی بہن کی شادی15 فروری 2023 کو(شعیب بن شاہد )سے ہوئی تھی شادی کو چھ ماہ کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ 07 ستمبر 2023کو بہن اپنے کمرے میں اکیلی تھی ۔اس کا شوہر ( صلاح الدین بابا کے عرس) کے سلسلے میں حیدر آباد گیا ہوا تھا ۔اسی بات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بہن کے سسر نے رات 3:3 بجے کمرے میں داخل ہوا اور بہو کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی۔ بہن نے شور شرابہ کر کےسسر کو کمرے سے باہر نکال دیا اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا ۔میری بہن نے اُس وقت مجھ سے رابطہ کیا اور میرے یہ اپنے شوہر سے رابطہ کر کے سارا واقعہ بتا دیا۔ پھر میں اس وقت بہن کے سسرال جاکر اس کو اپنے گھر لے آیا۔

    نوٹ:ہم (دار الافتاء )نے اس معاملہ میں جو تفتیش کی وہ ذیل میں ذکر کی جاتی ہے۔

    لڑکی کا بیان :

    لڑکی نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ مصاہرت کے لحاظ سے یہ ہے کہ ایک بار میرا ہاتھ پکڑا دوسری بار پیچھے سے مجھے کندھے کو پکڑا ۔

    سسر کا بیان :

    ہم نے لڑکے والوں کو دار الافتاء بلایا لیکن ہمارے بارہا بلانے کے باوجود وہ دار الافتاء نہیں آئے اور ہم نے حلفاً بیان کا کہا تھا تو انھوں نےاس سے بھی انکار کر دیا ۔اور کہا کہ ان کو بول دیں کہ معاملہ ختم ہو ا۔

    شوہر کا بیان : شوہر اپنے والد کے بیان کی تصدیق کر رہا ہے ۔

    سائل: محمد ایازچوہان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر حرمتِ مصاہرت میں اختلاف ہو جائے کہ عورت مصاہرت کا دعوی کرتی ہو اور صاحب معاملہ اس کا انکار کرتا تو ایسی صورت میں شوہر کا قول معتبر ہوتا ہے کہ یہ اس کی ملکیت میں دعوی ہے لہذا اس باب میں شوہر کا قول ہی معتبر سمجھا جاتا ہے ۔مذکورہ معاملے میں شوہر نے باپ کے بیان کی تصدیق کی ہے ۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں خاتون اپنے شوہر کے نکاح میں ہی ہے ۔

    فتاوی ہندیہ میں ہے:رَجُلٌ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى أَنَّهَا عَذْرَاءُ فَلَمَّا أَرَادَ وِقَاعَهَا وَجَدَهَا قَدْ اُفْتُضَّتْ فَقَالَ لَهَا: مَنْ افْتَضَّكِ؟ . فَقَالَتْ: أَبُوكَ إنْ صَدَّقَهَا الزَّوْجُ؛ بَانَتْ مِنْهُ وَلَا مَهْرَ لَهَا وَإِنْ كَذَّبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ، كَذَا فِي الظَّهِيرِيَّةِ۔ترجمہ:ایک شخص نے عورت سے شادی کی اس بنیاد پر کہ وہ کنواری ہے پھر جب اس نے جماع کا ارادہ کیا تو اسے باکرہ نہ پایا تو اس نے پوچھا کہ تیرا پردہ بکارت کس نےزائل کیا ؟تو اس نے کہا کہ تمہارے باپ نے۔اگر شوہر عورت کے بیان کی تصدیق کر دے تو عورت بائن ہو جائے گی اور اس کی کوئی مہر نہیں ہو گا اور اگر تکذیب کر دیتا ہے تو وہ اس کی بیوی ہی رہے گی جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔ ( الفتاوى الهندية، کتاب النکاح جلد 01صفحہ 305،قدیمی)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:27ربیع الاول1444 ھ/14اکتوبر 2023 ھ