سات بھائی اور تین بہنوں کی وراثت کا حکم
    تاریخ: 17 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 795

    سوال

    والد صاحب کا انتقال ہو گیا ان کا ایک گھر ہے ہم اسے فروخت کر کے سب بہن بھائی آپس میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔

    سات بھائی اور تین بہنیں ہیں ۔نوٹ :ورثا یہی ہیں جو مذکور ہوئے

    سائل: شیخ ظہیر احمد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں والد کے کل مالِ وراثت کے 17 حصے کیے جائیں گے ۔ جن میں سے فی بیٹے کو دو حصے اور بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک حصہ دیا جائے گا ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    فائدہ :جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کی قیمت لگواکر اس کو مبلغ یعنی 17پر تقسیم کردیں جو جواب آئے، اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصلِ ضرب ہر ایک کا حصہ ہوگا۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:26صفرالمظفر 1444 ھ/13ستمبر 2023 ھ