سوال
ہماری مسجد کے ایک پڑوسی نے مسجد کے جنرل سیکٹری سے کہا تھا کہ میرے بعد میرا یہ مکان آپ کی مسجد کے لئے وقف ہے لیکن اس پر کوئی کاغذی کاروائی نہیں ہوئی تھی اور اب جنرل سیکٹری کا انتقال ہو چکا ہے اوروہ بندہ (موصی) اپنی آخری عمر میں دماغی توازن کھو چکاتھااور تقریبا 7 ماہ سےغائب ہے، علاقے میں انکا کو ئی وارث بھی نہیں ہے اور نہ ہی ان کے ورثاءکے بارے کوئی خبر ہے۔جبکہ علاقےکے تقریبا تمام لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ یہ مکان فلاں مسجد کیلئے وقف ہے اور بعض لوگ ہمارے پاس خرید نے کیلئے آئے ہیں تو اس حوالے سے چند سوالات کے شرعی حکم مطلوب ہیں ۔
1:شخص مذکور کی وصیت درست ہے ؟ اگر ہے تو کیا کاغذی کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے وصیت پر کوئی فرق پڑےگا؟
2:وہ بندہ بقید حیات ہے یا انتقال کر چکا ہے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں تو کیا مکان میں مسجد کیلئے تصرف کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟
3:جہاں پرمکان ہےوہ پورا علاقہ اہل تشیع کا ہے اگر وہ مسجد و مدرسہ بنانے نہ دیں یا فساد کا خطرہ ہو تو کیا اس مکان کو پیچ کر مسجد کے مصالح میں خرچ کیا جا سکتا ہے ؟
4: کیا ا س پیسے سے مسجد کی پگڑی پر دی ہوئی دکا نیں واپس لے سکتے ہیں جبکہ دکانوں کو بنے ہوئے پچاس سال ہو گئےہیں اور کرایہ کی مد میں ایک دکان سے مسجد کو ماہانہ صرف 400روپے ملتے ہیں۔
نوٹ:اگر اس مکان کو ہم نے نہیں سنبھالا تو اہل تشیع اس کو امام بارگاہ بنا ئینگے۔
سائل :محمد ابرارنورانی: امام وخطیب جامع مسجد نورانی ،انچولی کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: اگر واقعتا ایسا ہی ہے جیسا کہ بیان کیا گیا تو شخص مذکو ر کا وقف (وصیت کے معنی میں )درست ہے اور وہ مکان ان کے بعد مسجد کیلئے وقف ہوگا اور صحت ِوقف کیلئے شرعا کاغذی کاروائی ضروری نہیں ہے البتہ قانونی کاروائی کیلئے اس کی ضرورت پڑسکتی ہے
ملک العلماءامام کاسانی فرماتے ہیں "ولاخلاف فی جواز ہ اذا اضافہ الی مابعد الموت بان قال :اذامت فقد جعلت داری او ارضی وقفا علی کذا"۔ ترجمہ:اور(اسی طرح)وقف کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں ہے جب کوئی شخص وقف کی اضافت موت کے بعد کی طرف کرے اس طور پرکہ میں نے اپنا گھر یا اپنی زمین اپنے بعد (اپنے مرنےکے بعد)فلاں پر وقف کیا۔ (بدائع الصنائع ،مکتبہ رشیدیہ :کتاب الوقف ،ج:۵ ،ص:۳۲۶ )
اوراسی میں صفحہ 219پر فرماتے ہیں " لِأَنَّهُ لَمَّا أَضَافَهُ إلَى مَا بَعْدَ الْمَوْتِ فَقَدْ أَخْرَجَهُ مَخْرَجَ الْوَصِيَّةِ فَيَجُوزُ كَسَائِرِ الْوَصَايَا، لَكِنْ جَوَازُهُ بِطَرِيقِ الْوَصِيَّةِ"ترجمہ :اس لیئے کہ جب اس نے موت کے بعد کی طرف مضاف کیا گویا کہ اس نے وصیت کی تو یہ دیگر وصیتوں کی طرح جائز ہے لیکن اس کا جواز بطور وصیت ہوگا ۔
آگے صفحہ 330 پرفرما تے ہیں "ولو وقف دارا او ارضا علی مسجد معین ،ھو علی قول ابی یوسف یجوز"ترجمہ:اگر کسی شخص نے گھر یا زمین کسی خاص مسجد پر وقف کی تو امام ابو یوسف کے قول پر جائز ہے ۔(ایضا)
علامۃ البحر فرما تے ہیں کہ " ان الفتوی علی قول ابی یوسف فی المسجد فکذافیما یبتنی علیہ"۔ ترجمہ: بلا شبہ مسجد کے معا ملہ میں فتوی امام ابو یوسف کے قول پر ہے تو اسی طرح مسجد کیلئے وقف اشیاء میں بھی فتوی انہی قول پر ہوگا ۔(البحر الرائق ،مکتبہ رشیدیہ :کتاب الوقف ،فصل فی احکام المسجد ،ج:۵،ص:۴۲۲ )
سیدی اعلحضرت علیہ الرحمہ ،فتاوی خیریہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:"اما اشتراط کو نہ یکتب فی جحۃ ویقید فی سجلات فلیس بلازم شرعا۔۔ فان الفط بانفرادہ کاف فی صحۃ ذالک شرعا والزیادۃ لا یحتاج الیھا ۔ترجمہ:وقف کی جہت لکھنا اور دفتری رجسٹر میں اندراج کرنا شرعا لازم نہیں ہے اس لیئے کہ وقف کی صحت کیلئے صرف الفاظ کا کہنا کافی ہے اس کے علاوہ کی ضرورت نہیں ہے ۔(فتاوی رضویہ ،ج:۱۶،ص:۱۲۹)
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ شخص مذکور کا وقف درست ہے اب اس کے نفاذکی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔
1:اگر میت کے ورثاءہوں تو اس کی وصیت کا نفاذثلث(تہائی )مال میں ہوگا کیونکہ ایسا وقف جو مابعد الموت پر مضاف ہو وہ وصیت کے معنی ہوتا ہے اور وصیت کا نفاذ ثلث ما ل میں ہو تا ہے الا یہ کہ تمام ورثاء اس کو نافذ کر دیں ۔ جیساکہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:إذَا عُلِّقَ بِهِ أَيْ بِمَوْتِهِ كَإِذَا مِتَّ فَقَدْ وَقَفْت دَارِي عَلَى كَذَا فَالصَّحِيحُ أَنَّهُ كَوَصِيَّةٍ تَلْزَمُ مِنْ الثُّلُثِ بِالْمَوْتِ لَا قَبْلَهُ ترجمہ: جب وقف موت پر معلق ہو جیسے کسی شخص نے کہا جب میں مرجاوں تو میرا گھر فلاں پر وقف ہے تو یہ وقف صحیح قول کے مطابق وصیت کی طرح ہے لہذا اسکا نفاذ موت کے بعد ثلث مال سےہوگا نہ کہ موت سے پہلے۔(تنویر الابصار مع الدر المختار (مطلب فی وقف المرتد والکافر ،ج:۴،ص:۳۴۴ ۔دار الفکر ،بیروت)
یاد رہے شریعت مطہرہ میں میت کےترکہ سے جن لوگوں کا حق وابستہ ہے ان کی ترتیب شیخ سراج محمد بن عبد الرشید الحنفی علیہ الرحمہ نے یوں کی ہے "تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ :الاول یبدء بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع مالہ ،ثم تنفذ وصایاہ من مابقی بعدالدین ،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ فیبدء باصحاب الفرائض ثم بالعصبات من جہۃ النسب ثم بالعصبات من جہۃ السبب ثم عصبتہ علی الترتیب ثم الرد علی ذوی الفروض النسبیۃبقدر حقوقہم ،ثم ذوی الارحام ،ثم مولی الموالاتۃ ،ثم المقر لہ بالنسب علی الغیر ۔ ترجمہ :چار طرح کے حقوق ترتیب وار میت کے ترکہ سے وابستہ ہوتے ہیں۔پہلا:تجہیز وتکفین سے متعلقہ خرچہ جات۔ دوسرا:مکمل مال سے قرضوں کی ادائیگی ۔تیسرا:باقی ماندہ کے ثلث سے وصیتوں کا نفاذ ۔چوتھا:بقیہ پورا مال ورثاء کے درمیان ان کے حقوق کے مطابق تقسیم کیا جائے گا تو سب سے پہلے اصحاب فرائض کو دیا جائے گا پھر نسبی عصبات کو پھر عصبات سببیہ کو پھر ترتیب وار ان کے عصبات کو پھر اصحاب فرائض نسبی پر ان کے حقوق کے مطابق ردہوگا پھر ذوی الارحام کو دیا جائے گا ،پھر مقر لہ بالنسب علی الغیر کو دیا جائے گا ۔(السراجی فی المیراث :۸ تا ۱۱)
2:اگر تتبع اور تلاش کے بعدمذکورہ ورثاء میں حسب ترتیب کوئی نہ ملے تو پھر وہ سارا مال موصی لہ بجمیع المالکے تحت مسجد کیلئے وقف ہوگا ۔السراجی فی المیراث میں مذکورہ تمام ورثاء کی عدم موجودگی کی صورت میں ترکہ کا حکم بیان کرتے ہیں ثم الموصی لہ بجمیع المال :ترجمہ: پھر مال وراثت اس شخص کو دیا جائے گاجسے مکمل مال دینے کی وصیت کی گئی ہو ۔(المرجع السابق)
2:اس شخص کو حتی الوسع ڈھونڈا جائے گا اورآس پڑوس والوں سے اس کے ورثاء کے بارے میں معلومات لی جائے گی ،پھر بھی اگر بسیار کوشش کے باوجود واقف یا اس کے ورثاء کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہ ہوسکے توپھر انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ مفقود کی عمر ستر برس سے گزر جا ئیں ۔فرض کریں کہ وہ پچاس سال کی عمر میں مفقود ہواور اب اس کو غائب ہو ئے سات ماہ گزر چکے ہیں تو انیس سال ، پانچ ماہ مزید انتظار کرنا ہو گا اگر اس دوران اسکی موت کا علم ہو جائے یا ستر سال گزر نے بعد بھی وہ نہ آئے تو کورٹ سے فیصلہ لے کر اس مکان کو مسجد کے نام کردیا جائے ۔لسان الحکام فی معرفۃ الاحکام میں ہے۔"الْمَفْقُود لَا يَرث وَلَا يُورث عَنهُ مالم يثبت مَوته بِبَيِّنَة أَو بِمُضِيِّ مُدَّة يعلم يَقِينا أَنه لَا يعِيش أَكثر من ذَلِك وَوقت فِي ذَلِك أَبُو حنيفَة رِوَايَة الْحسن عَنهُ بِمِائَة وَعشْرين سنة من وَقت وِلَادَته وَعَن أبي يُوسُف بِمِائَة سنة وَقدره بَعضهم بتسعين وَبَعْضهمْ بسبعين وَقَالَ بَعضهم إِنَّه موكول الى رَأْي القَاضِي"ترجمہ:مفقود نہ کسی کا وارث بنے گا نہ ہی کو ئی اس کا وارث بن سکتا ہے جب تک کہ ثبوت کے ساتھ اس کی موت کا علم نہ ہو جائے یا اس کے فقدان کو اتنی مدتنہ گزر جائے جس میں غالب گمان کے مطابق اس کا زندہ رہنا مشکل ہو ۔امام حسن کی روایت کے مطابق امام اعظم نے اس مدت کی مقدار مفقود کی پیدائش سے ایک سو بیس سال مقرر کی ہے اور امام ابو یوسف نے سو سال ،بعض نے نوے سال اور بعض مشائخ نے ستر سال مقرر کیئے ہیں اور بعض کا کہنا ہے کہ قاضی کی رائے پر موقوف ہو گا ۔ (لسان الحکام فی معرفۃ الاحکام ،فصل فی لواحق الکتاب ،ج:۱،ص:۴۳۴،طبع:البابی الحلبی،قاہرہ)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں اسی طرح کااستفتاء آیا تو آ پ نے سترسال والے قول کو ترجیح دیتے ہوئے فتوی صادر فرمایا ۔چناچہ فتاوی رضویہ میں ہے :یہاں تک کہ اس مفقود کی عمر سے ستربرس گزرجائیں، اگریہ صحیح ہے کہ چالیس برس کی عمرمیں مفقودہواتھا اورمفقود ہوئے بیس برس گزرے تودس برس اور انتظارکریں اگر اس دس برس میں وہ زندہ ظاہرہوتویہ دوتہائی اسے دے دیں۔(فتاوی رضویہ ج:۲۵،ص:۴۹۳)
3: آپ کے بیان سے یہی ظاہر ہورہا ہے کہ واقف نےنہ نئی مسجد بنانے کیلئے وقف کیاہےنہ ہی بیچنے کی شرط لگائی ہے بلکہ مطلقانورانی مسجد کیلئے وقف کیا ہے لہذا وہ مکان مدت گزنے کے بعدمسجد کے مال موقوفہ مطلقہ (غیر مشروط)میں شامل ہو جائےگا لیکن اس کوہرگز بیچ نہیں سکتے کیونکہ بلا بیچے اس سے فائدہ لیا جا سکتا ہے کہ کرایہ پر دے کرحاصل شدہ آمدنی کو مسجد کے مصالح میں خرچ کیا جائے۔
المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی میں ہے۔أهل محلة باعوا وقف المسجد لأجل عمارة المسجد قال: لا يجوز بأمر القاضي وغيره ترجمہ:اہل محلہ مسجد کی تعمیر کیلئے مسجد کے مال وقف کو بیچیں؟فرمایا جائز نہیں ہے چاہے قاضی یا اس کے علاوہ کی اجازت سےہی کیوں نہ ہو ۔( المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی ،الفصل الحادی والعشرون فی المساجد،ج:۶،ص:۲۱۷)
فتاوی قاضی خان میں ہے "اذالم یشترط الواقف فی وقف الارض دفعہا مزارعۃاواجارۃ،فما کان انفع للفقراء یفعل"ترجمہ:جب واقف نے وقف کی زمین کو مزارعت یا اجارہ پر دینے کی شرط نہیں لگائی ہو لہذا اس مکان کا بیچنا ہرگز جائز نہیں ہے ۔(فتاوی قاضی خان ،کتاب الوقف ،باب الرجل یجعل دارہ مسجدا،ج:۳،ص:۱۷۷)
4:شرعا پگڑی پر دکان دینا جائز نہیں ہے اور مسجد کی دکانوں کو بدرجہ اولی دینا جائز نہیں ہے اور جس متولی نے دی ہیں وہ گنہگار ہونگے کیونکہ اس صورت میں مسجد کو نقصان ہےلہذا اب ان پگڑی والوں سے اجرت مثل (مارکیٹ ویلیو پر دکانوں کا کرایہ) لی جائے اگر وہ انکار کر دیں تو ان کے خلاف کورٹ میں کیس کروا کے اجرت مثل پر ان کو راضی کر کرلیا جائے اور اگر کورٹ سے یہ فیصلہ ممکن نہ ہو تو اس صورت میں مسجد کا نقصان شدید ہو اور پگڑی واپس لینے میں نفع کثیر ہو اور مسجد کااتنا اضافی فنڈ ہوجس سےان دکانوں کو خالی کرایا جاسکتا ہے تو شرعا اس کی گنجائش ہے ۔
علامہ شامی علیہ الرحمہ پگڑی پر مفصل بحث کرتے ہوئے جامع الفصولین کے حوالے سے لکھتے ہیں"پگڑی کی وجہ سے مسلمانوں کے اوقاف کافروں کی نذر ہوگئیں ہیں اور اس کے سبب ایک آزاد مکلف آدمی اپنی ملکیت میں تصرف نہیں کرسکتا حالانکہ پگڑی والا خود تو اس آدمی کی دکان سے کثیر نفع اٹھا تا ہے لیکن اس کو اجرت مثل بھی نہیں دیتا ۔وَقَدْ نَصُّوا عَلَى أَنَّ مَنْ سَكَنَ الْوَقْفَ يَلْزَمُهُ أَجْرُ الْمِثْلِ، وَفِي مَنْعِ النَّاظِرِ مِنْ إخْرَاجِهِ تَفْوِيتُ نَفْعِ الْوَقْفِ وَتَعْطِيلُ مَا شَرَطَهُ الْوَاقِفُ مِنْ إقَامَةِ شَعَائِرِ مَسْجِدٍ حالانکہ فقہا نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ وقف میں رہنے والے پر اجرت مثل لازم ہے او رمنع ناظرمیں ہے کہ وقف کی دکان کو خالی کرانے کے اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ (جب )وقف کا نفع فوت ہو اور مسجد کے شعائر کی اقامت کے حوالےسے واقف کی شرائط معطل ہوں۔
آگے فرما تے ہیں:وَمَا ذَكَرَهُ حَقٌّ خُصُوصًا فِي زَمَانِنَا هَذَا، وَأَمَّا مَا يَتَمَسَّكُ بِهِ صَاحِبُ الْخُلُوِّ مِنْ أَنَّهُ اشْتَرَى خُلُوَّهُ بِمَالٍ كَثِيرٍ، وَأَنَّهُ بِهَذَا الِاعْتِبَارِ تَصِيرُ أُجْرَةُ الْوَقْفِ شَيْئًا قَلِيلًا فَهُوَ تَمَسُّكٌ بَاطِلٌ؛ لِأَنَّ مَا أَخَذَهُ مِنْهُ صَاحِبُ الْخُلُوِّ الْأَوَّلِ لَمْ يَحْصُلْ مِنْهُ نَفْعٌ لِلْوَقْفِ فَيَكُونُ الدَّافِعُ هُوَ الْمُضَيِّعُ مَالَهُ فَكَيْفَ يَحِلُّ لَهُ ظُلْمُ الْوَقْفِ، بَلْ يَجِبُ عَلَيْهِ دَفْعُ أُجْرَةِ المثل۔ترجمہ:جو کچھ انہوں نے ذکر کیا ہے وہ حق ہے خصوصاہمارے زمانے میں اور جو پگڑی والے استدلال کرتے ہیں کہ ہم نے اس کے بدلے بڑا ما ل دیا ہےلہذا وقف کی اجرت کم ہونی چاہیئے تو ان کا یہ استدلال باطل ہے کیونکہ پہلے پگڑی والے نے جو کچھ لیا وقف کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے تو دینے والے نے اپنا مال ضائع کیا تو وقف کے ساتھ اس طرح کا ظلم کیسے جائز ہو بلکہ اجرت مثل دینا لازم ہے۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،مطلب فی خلوالحوانیت،ج:۴،ص:۵۲۳)
اور آپ کا یہ کہنا " اگر اس مکاں کو ہم نے نہیں سنبھالا تو اہل تشیع اس کو امام بارگاہ بنا ئینگے"اگر معاملہ واقعتا ایسا ہی ہے تو آپ اس مکان پر نظر رکھیں اگر ضرورت ہو تو آپ کورٹ یا تھانے کو اعتماد میں لیکر کوئی محا فظ بھی رکھ سکتے ہیں کیونکہ اس میں مسجد کا حق متعلق ہے اگر چہ فی ا لوقت نہیں ہے ۔
البنایہ شرح الھدایہ میں ہے:إذا غاب الرجل ولا يعلم أحي هو أم ميت نصب القاضي من يحفظ ماله ويقوم عليه ۔ترجمہ:جب کوئی شخص غائب ہوجائے اور اس کی زندگی اور موت کا کوئی علم نہ ہو تو قاضی تنخواہ پر اس کے مال کاکسی کومحافظ بنائے ۔( البنایہ شرح الھدایہ ،کتاب المفقود،ج:۷،ص:۳۵۷)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظھوراحمد
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی
تاریخ اجراء:26ذوالقعدہ 1439 ھ/08اگست 2018 ء