وراثت کا مسئلہ دو بیویاں دو بیٹیاں دو بیٹے

    warasat ka masla do biwiyan do betiyan do bete

    تاریخ: 8 مئی، 2026
    مشاہدات: 19
    حوالہ: 1298

    سوال

    ایک شخص کا انتقال ہوا، ورثاء میں دو بیویاں د وبیٹے اوردو بیٹیاں ہیں ۔ جبکہ وراثت میں مخلتف جائیداد ہیں جن کی مالیت 2 کروڑ 30 لاکھ ہے اور 5 لاکھ کورٹ انشورنس سے ملے ہیں ۔ وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی۔ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:سجاد بن محمد امین :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے کہ مرحوم کے ترکہ سے انکے کفن دفن کے اخراجات نکالے جائیں گے پھر اسکے بعد دیکھا جائے گا کہ ان پراگرکوئی قرض تھا تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے پہلے اس قرض کی ادائیگی کی جائے گی۔پھر اگر کوئی جائز وصیت کی تھی تو بقیہ مال کے ایک تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد کل مال تمام ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔

    ترکہ میں موجود منقولی اور غیر منقولی اشیاء کی قیمت یعنی 2 کروڑ 30 لاکھ مکمل ، جبکہ انشورنس کا پرنسپل اماؤنٹ علاوہ نفع کے قابلِ تقسیم ہیں اور انشورنس میں جو نفع حاصل ہوا اسکا حکم یہ ہے کہ اسکو بلانیتِ ثواب فقراء میں تقسیم کردیا جائے۔

    تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ مرحوم کےترکہ کو 48 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔جس میں سے ہر بیوی کو 3الگ الگ حصے ،بیٹیوں میں ہر ایک کو الگ الگ 7 حصے ، جبکہ ہر بیٹےکو الگ الگ 14 حصے ملیں گے۔

    رقم کی صورت میں ہر فریق کا حصہ: کل رقم:23000000

    زوجہ اول : 1437500 زوجہ ثانی : 1437500

    بیٹا : 6708333 بیٹا : 6708333

    بیٹی : 3354167 بیٹا : 3354167

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان :تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:27 شوال المکرم 1442 ھ/08 جون 2021 ء