walidain ki wafat ke baad unki razamandi kaise hasil ki jaye
سوال
میرے والد کا انتقال تقریبا 14 سال پہلے ہوگیا تھا جبکہ والدہ کا ابھی ایک سال پہلے ہوا ، جسکی تفصیل یہ ہے کہ وفات سے کچھ عرصہ قبل والدہ بیمار ہوگئیں تھی جسکی وجہ سے گھر میں تنہائی کا شکار رہنے لگیں۔ بیٹیاں اپنے گھروں سے آکر بقدر استطاعت انکا خیال رکھتی تھیں لیکن ہم بھائی زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے ، بلکہ دیکھتے اور پوچھتے بھی نہ تھے ۔جسکا غم انہوں نے دل پرلے لیا ۔ اور وہ صرف بخار کی کیفیت میں رفتہ رفتہ لیاقت نیشنل میں انتقال کرگئیں ۔ اس دوران نہ ہم ان سے معافی مانگ سکے اور نہ انہوں نے معاف کیا ۔ جسکی وجہ سے ہم تباہ و برباد ہوگئے آسمان سے زمین پر آگئے ۔ اب ہم نافرمان بیٹوں کو اپنی ماں سے معافی چاہیے اسکا کیا طریقہ ہے ؟کیا ہمیں معافی مل سکتی ہے یا نہیں ؟
سائل: فرقان احمد: ماڈل کالونی کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
والدین سے حسن سلوک کو اسلام نے اپنی اساسی تعلیم قرار دیا ہے۔اور ان کے ساتھ مطلوبہ سلوک بیان کرنے کے لئے ''احسان'' کی جامع اصطلاح استعمال کی جس کے معانی کمال درجہ کا حسن سلوک ہے۔
ہرمرداورعورت پراپنےماں باپ کےحقوق اداکرنافرض ہے۔والدین کےحقوق کےبارےمیں قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے : وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُھُمَا أَوْ کِلاَھُمَا فَلاَ تَقُل لَّھُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْھَرْھُمَا وَقُل لَّھُمَا قَوْلاً کَریْمًا،وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِي صَغِیرًا۔ترجمہ:اورآپ کے رب نے حکم فرما دیا ہےکہ تم اللہ کےسوا کسی کی عبادت مت کرواوروالدین کےساتھ حسنِ سلوک کیا کرو،اگرتمہارے سامنےدونوں میں سےکوئی ایک یا دونوں بڑھاپےکوپہنچ جائیں توانہیں ''اف''بھی نہ کہنااورانہیں جھڑکنا بھی نہیں اوران دونوں کےساتھ بڑےادب سے بات کیا کرواور ان دونوں کےلئے نرم دلی سے عجزو انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اللہ کے حضور) عرض کرتے رہو اے میرے رب!ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے)پالا تھاo''(الاسراء، 17: 23 – 24)
والدین کی خدمت و اطاعت اور تعظیم و تکریم عمر کے ہر حصے میں واجب ہےبوڑھے ہوں یا جوان، لیکن بڑھاپے کا ذکر خصوصیت سے ہے کہ اس عمر میں جاکر ماں باپ بھی بعض مرتبہ چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور عقل و فہم بھی جواب دینے لگتی ہے اور انہیں طرح طرح کی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔ وہ خدمت کے محتاج ہوجاتے ہیں تو ان کی خواہشات و مطالبات بھی کچھ ایسے ہوجاتے ہیں جن کا پورا کرنا اولاد کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لئے قرآن حکیم میں والدین کی دلجوئی اور راحت رسانی کے احکام دینے کے ساتھ انسان کو اس کا زمانہ طفولیت (یعنی بچپن کا زمانہ) یاد دلایا کہ کسی وقت تم بھی اپنے والدین کے اس سے زیادہ محتاج تھے جس قدر آج وہ تمہارے محتاج ہیں تو جس طرح انہوں نے اپنی راحت و خواہشات کو اس وقت تم پر قربان کیا اور تمہاری بے عقلی کی باتوں کو پیار کے ساتھ برداشت کیا اب جبکہ ان پر محتاجی کا یہ وقت آیا تو عقل و شرافت کا تقاضا ہے کہ ان کے ان سابق احسان کا بدلہ ادا کرو۔
جس طرح قرآن حکیم میں والدین کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے اسی طرح کئی احادیثِ مبارکہ میں بھی والدین کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
چناچہ صحیح مسلم میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ» ، قِيلَ: مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ»حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ناک غبار آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو (یعنی ذلیل و رسوا ہو)کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون ہے؟ حضور نے فرمایا کہ جس نے ماں باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے کے وقت میں پایا پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔(مسلم، الصحیح، کتاب البر و الصلۃ، باب رعم أنف من أدرک أبویہ، 4: 1978، رقم: 2551 )
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کی خدمت کرنے کو جہاد سے افضل قرار دیا۔ صحیح بخاری میں ہے:عن عَبْد اللَّهِ بْن عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الجِهَادِ، فَقَالَ: «أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ»ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شریک جہاد ہونے کی اجازت لینے کے لئے حاضر ہوا، آپ نے اس سے دریافت کیا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں زندہ ہیں آپ نے فرمایا فَفِيْھَا فَجَاِھد یعنی بس اب تم ماں باپ کی خدمت میں رہ کر جہاد کرو یعنی ان کی خدمت سے ہی جہاد کا ثواب مل جائے گا۔ (بخاری الصحیح، 3: 1094، رقم: 2842 )
اگر کسی سے اسکے والدین ناراضگی کی حالت میں اس دنیا سے رحلت کرجائیں تو اسے چاہیئے کہ کثرت سے انکے لئے دعائے مغفرت کرے ایصال ثواب کا اہتمام کرے۔دعائے مغفرت و ایصال ثواب کرنے سے وہ راضی ہوتے ہیں جیسا کہ حدیث پاک میں ہے: حضرت انس سےمردی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :«مَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يَمُوتُ مِنْهُمْ مَيِّتٌ فَيَتَصَدَّقُونَ عَنْهُ بَعْدَ مَوْتِهِ، إِلَّا أَهْدَاهَا إِلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى طَبَقٍ مِنْ نُورٍ، ثُمَّ يَقِفُ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ، فَيَقُولُ: يَا صَاحِبَ الْقَبْرِ الْعَمِيقِ، هَذِهِ هَدِيَّةٌ أَهْدَاهَا إِلَيْكَ أَهْلُكَ فَاقْبَلْهَا، فَيَدْخُلُ عَلَيْهِ، فَيَفُرَحُ بِهَا وَيَسْتَبْشِرُ، وَيَحْزَنُ جِيرَانُهُ الَّذِينَ لَا يُهْدَى إِلَيْهِمْ بِشَيْءٍ»ترجمہ: جب گھر والوں میں سے کوئی ایک وفات پا جاتا ہے پھر گھر والے اس فوت شدہ کی طرف سے ایصال ثواب کرتے ہیں تو اس کے اس ثواب کا تحفہ جبریل ایک خوبصورت تھال میں رکھ کر اس قبر والے کے سرہانے جاکر پیش کرتے ہیں کہ تیرے فلاں عزیز نے یہ ثواب کا تحفہ بھیجا ہے ، تم اسے قبول کرو ،وہ میت اس تحفہ کو قبول کرلیتی ہے اور اس پر خوش ہوتی ہے ،اور دوسری میتوں کو خوشخبری سناتی ہے پھر اس میت کے وہ پڑوسی جن کو اس قسم کا تحفہ نہ ملا ہووہ اس پر غمگین ہوتے ہیں۔(المعجم الاوسط للطبرانی ، جلد 6ص 314 حدیث نمبر 6504)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:02 جمادی الاول1441 ھ/30 دسمبر2019ء