Walidain ki Mushtarka Jaidad ki Taqseem
سوال
ہمارے ماں باپ کا انتقال ہو چکا ہے،(پہلے والد کا پھر والدہ کا انتقال ہوا) ، )،ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں جبکہ سب سے بڑے بھائی مرحوم صادق ہیں (ان کا نتقال والدینکے انتقال کے بعد ہوا اور ان کے دو بیٹے ہیں )اب ہم تینوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پگڑی کے ایک مکان اور دیگر چیزیں برتن وغیرہ میں ہم حصہ کریں تو اس میں ہم تین بہن بھائی کا کیا حصہ بنتا ہے اور مرحوم بھائی کے بچوں کا کیا حصہ ہوتا ہے ،ہوتا بھی ہے یا نہیں ؟بچے بھائی کے انتقال کے بعد نانا نانی کے پاس رہتے ہیں، بھائی کے انتقال کو پانچ سال ہو چکے ہیں، فلیٹ کی قیمت 30 لاکھ روپے ہے ،جس کے کرائے کے رسید تبدیل ہونے پر مالک مکان نو لاکھ لے لے گا یہ بھی فلیٹ کی قیمت بروکر سے پوچھ کر لکھی ہے تو آپ ہمیں اس سوال کا جواب دیجیے کہ اس میں بہنوں کا حصہ کتنا ہے بھائی کا کتنا حصہ ہے اور مرحوم بھائی کے بچوں کا حصہ اگر ہے تو کتنا ہوگا؟ شریعت کے مطابق آپ رہنمائی فرمائیں ۔
نوٹ : سائل کے والد کے انتقال کے وقت ان کے والدین، یعنی سائل کے دادا اور دادی، حیات نہیں تھے، اسی طرح سائل کی والدہ کے انتقال کے وقت ان کے والدین، یعنی سائل کے نانا اور نانی، میں سے کوئی بھی حیات نہیں تھا۔ مزید برآں، سائل کے بیان کے مطابق مرحوم صادق کی بیوی نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی تھی؛ لہٰذا مرحوم صادق کے شرعی ورثاء میں صرف ان کے دو بیٹے باقی ہیں۔ سائل:شاہد علی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مرحوم کے ترکہ کی ان کے ورثاء میں شرعی تقسیم اس طرح ہوگی کہ امور متقدمہ علی الارث (یعنی: میت کے کفنو دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی توایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ) کے بعد کل مال وراثت کے 6حصے کیے جائیں گے ، جن میں سے شاہد کو 2حصے،شازیہ اور ثمیرہ کو الگ الگ 1 حصہ،جبکہ مرحومصادق کے ہر بیٹے کو الگ الگ 1 حصہ ملیں گے۔
فائدہ : مرحومہ کے ترکہ(فلیٹ کی( رسید پلٹائی کی رقم نکال کر) اور باقی چیزیں) کی قیمت لگواکر کل رقم کو مبلغ یعنی 6پر تقسیم ((Divide کردیں جو جواب آئے اس کو ہر ایک وارث کے حصے میں ضرب دے دیں ،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
دلائل و جزئیات:
السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاءمیں تقسیم کردیا جائے گا۔(السراجی فی المیراث ,صفحہ : 11,مکتبہ المدینہ)
لڑکےاور لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10) واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ:عبدالخالق بن محمد عیسیٰ
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:1448 ھ/28اگسٹ 2026ء