والد بیوہ چار بیٹیاں دو بیٹے

    walid bewa char betiyan do betay

    تاریخ: 5 مئی، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 1266

    سوال

    محمد جعفر لودھی کا انتقال ہوا اسکی جائیداد میں ایک مکان ہے ، پسماندگان میں والد، ایک بیوہ ، چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ۔ ہر ایک کا کیا حصہ ہوگا ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عطا فرمائیں ۔

    سائل:محمد ایوب لودھی: نیو کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو محمد جعفر کی جائیداد 192 حصے ہونگے ،جس میں سے انکے والد کو 32 حصے، بیوہ کو 24 حصے ہر بیٹے کو34حصے، اور ہر بیٹی کو17 حصے ملیں گے ۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالی: وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ۔ترجمہ کنز الایمان :اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو۔

    بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ ہی ہے کہ کل مال وراثت کو مبلغ یعنی 192 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15 صفر المظفر1441 ھ/15 اکتوبر2019 ء