سود کی رقم کا مصرف
    تاریخ: 22 نومبر، 2025
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 215

    سوال

    1: ایک مولانا صاحب نے بیان کیا ہے کہ بینک کے ذریعے جو کاروبار کیا جاتا ہے اس سے جو انٹرسٹ ملتا ہے وہ بینک سے لے کر بغیر ثواب کی نیت سے کسی غریب کی مدد کرنا جائز ہے ۔

    2: نیز اپنی ضرورت کے لیے بھی سود استعمال کی اجازت ہے۔ سائل: عبدالرحمان:فیصل آباد ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: اولاً شریعت اسلامیہ میں سودکا لین یا دین ہر دو ناجائز و حرام ہیں، اللہ و اسکے رسول سے جنگ ہے، قرآن و حدیث میں سود کی حرمت واضح و ظاہر ہے اسی لیے سود بلکہشبہِ سود سے بچنا بھی لازم و واجب ہے، لہذا مذکورہ مولانا صاحب کا بیان قطعاً درست نہیں ہے، کسی مسلمان کو ایسا عقد کرنا ہی حرام ہے کہ جس میں سود لینے پر رضامندی پائی جائے اگرچہ یہ نیت ہو کہ اسے بغیر نیت ثواب صدقہ کرے گا کہ جب اس نے عقد کیا تو سود لینے کا قصد و ارادہ کرلیا اور بعد میں لے بھی لیا پھر اگر وہ بغیر نیت ثوابتصدق کر بھی دےتو بھی وبالِ سود سے جان نہ چھٹے گی بلکہ توبہ پھر بھی لازم ہے کہ اس نے ایک صریح ناجائز و حرام کام کا عقد کیا۔

    بغیر نیت ثواب تصدق کے حکم کی تفصیل یہ ہے اگر کسی شخص کے پاس سود کی رقم آگئی اور اب یہ چاہتا ہے کہ اس سے خلاصی حاصل کرے تو حکم سے جس سے لی پہلے اسکو واپس لوٹائے وہ نہ رہا ہو تو اسکے ورثاء پر لوٹائے انکا بھی علم نہ ہو تو اب اس درجے میں یہ رقم کسی فقیر شرعی پر بغیرثواب کی نیت سے صدقہ کرے ۔ بہرحال لوٹانے کی صورت ہو یا تصدق کی ہر صورت میں توبہ بھی کرے(جیساکہ گزرا۔)

    سود کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا۔ ترجمہ: اﷲ نے تجارت (سوداگری) کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔(الْبَقَرَة ، آیت نمبر : 275)

    دوسری جگہ ارشادہے : یأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ،فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ۔ ترجمہ: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو ، پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ نہ تمہیں نقصان ہو۔(الْبَقَرَة ، آیت نمبر : 278، 279)

    2: واہ سبحان اللہ پھر تو سود کی حرمت کیونکر باقی رہی؟ کیوں نصوص قرآن میں اتنی سخت وعیدات آئی؟ کیوں احادیث طیبہ میں اسے اکبر الکبائر کہا گیا؟ اس تقدیر پر تو ہر شخص ضرورت بیان کرکے سود کھاتا پھرے اور کیوں نہ کرے آج کل ہر شخص مال کا شدید محتاج ہے، بیع و شرا چھوڑ کر یہی سودی لین دین کرتا رہے ، نہ نقصان کا اندیشہ ہو نہ ضمان کا گمان ہو، بس کم پیسے دیئے زائد وصول کئے۔ اس قول کی بنیاد پر سود کی حرمت تو یکسر ختم ہوجائے ، جتنے سودی بینکس اور سودی کمپنیاں ہیں سب میں لین دین عین مطابق شرع قرار پائے ،ایسا قول کرنے والے ہرگزمولانا نہیں بلکہ سودی بیوپاری ہوسکتا ہے ۔ اس کایہ قول اصلاً مردود و باطل ہے اسکا بطلان اسی طرح واضح ہے جس طرح سورج کا نکلنا دن اور رات کا موجود ہونا واضح ہے۔ اس پر لازم ہے کہ اس قول سے توبہ کرے کہ اس نے شرع شریف پر بہتان رکھا، یا بغیر علم مسئلہ شرعی غلط بیان کیا وگرنہ بروزِ حشر سخت رسوائی کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمدزوہيب رضاقادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني

    تاريخ اجراء:18 جمادی الثانی 1445ھ/ 01 جنوری 2024